سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین شمار کیا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس آدمی نے ایک ہی لفظ میں تین طلاقیں ایک ساتھ دے دی تھیں رسول اللہﷺ اس پر بہت سخت ناراض ہوئے اور اس کو ڈانٹا۔ پس آپﷺ کی ناراضی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ طلاقیں واقع ہو گئی تھیں، کیونکہ وہاں بیان اور وضاحت کی ضرورت تھی، اگر وہ واقع نہ ہوتیں تو آپﷺ اس کو ضرور بیان کرتے اور اصول فقہ کا یہ قاعدہ بھی ہے کہ جس مقام و وقت پر بیان و وضاحت کی ضرورت ہو اسے بلا کسی مجبوری کے وہاں سے مؤخر کرنا درست نہیں ہے۔ 

(القضاء فی عہد عمر بن الخطاب: جلد 2 صفحہ 736 )

3۔ نافع بن عمیر بن عبدیزید بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ بن عبدیزید نے اپنی بیوی سہیمیہ کو طلاق بتہ دے دی اور پھر نبی کریمﷺ کو اطلاع دیتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم میں نے اس سے صرف ایک طلاق کی نیت کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

وَاللّٰہِ مَا اَرَدْتَّ اِلَّا وَاحِدَۃً؟

ترجمہ: ’’اللہ کی قسم! کیا یقیناً تم نے ایک ہی کی نیت کی تھی؟‘‘

رکانہ نے جواب دیا:

’’قسم اللہ کی، میں نے ایک ہی کی نیت کی تھی۔‘‘

پھر آپﷺ نے ان کی بیوی کو ان کے پاس واپس کر دیا اور رکانہ نے پھر حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں اپنی بیوی کو دوسری طلاق اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں تیسری طلاق دی۔

(سنن أبی داؤد: باب فی البتۃ: جلد 1 صفحہ 511، رقم الحدیث: 2206۔ امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ جریج کی سند سے آئی ہوئی روایت جس میں ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں دے دی تھیں اس کے مقابلے میں یہ حدیث زیادہ صحیح ہے۔ اس لیے کہ اس حدیث کو نقل کرنے والے رکانہ کے اہل خانہ ہیں اور وہ واقعہ سے زیادہ آگاہ ہیں ۔ امام نوویؒ کا کہنا ہے کہ دوسری روایت جس میں ہے کہ رکانہ نے تین طلاقیں دی تھیں، پھر اس کو ایک شمار کیا تھا، سو یہ روایت ضعیف ہے، اس میں مجہول راوی ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ’’طلاق بتہ‘‘ دی تھی، اور ’’بتہ‘‘ کا لفظ ایک اور تین دونوں کو محتمل ہے۔‘‘ شرح النووی: جلد 10 صفحہ 71۔ یہ روایت ضعیف ہے۔ اس کی سند میں نافع بن عجیر ہیں ابن حبان کے علاوہ کسی نے ان کی توثیق نہیں کی ہے اور ابن قیم نے انہیں مجہول قرار دیا ہے۔ زاد المعاد: جلد 2 صفحہ 263۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل: جلد 2 صفحہ 147)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب رکانہ نے اپنی بیوی کو ’’طلاق بتہ‘‘ دے دی اور کہا کہ میری نیت ایک طلاق دینے کی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس بات پر قسم لی کہ کیا واقعتاً تم نے ایک ہی کی نیت کی تھی؟ اور جب انہوں نے قسم کھا لی تو آپﷺ نے ان کی بیوی کو ان کے پاس واپس کر دیا۔ پس آپﷺ کا حلفیہ بیان لینا اس بات کی دلیل ہے کہ اگر ’’طلاق بتہ‘‘ سے انہوں نے تینوں طلاقوں کی نیت کی ہوتی تو وہ واقع ہو جاتیں، ورنہ نیت پر حلفیہ بیان لینے کے کوئی معنیٰ نہیں رہ جاتے۔ بہرحال مذکورہ دلائل و امثال کی روشنی میں ہم سمجھ سکتے ہیں کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطابؓ نے طلاق سے متعلق مذکورہ اقدام رسول اللہﷺ کی سنت کی روشنی میں کیا تھا، اور ایک لفظ میں تین طلاقوں کو تین شمار کر کے آپؓ نے اپنی طرف سے کوئی بدعت ایجاد نہیں کی۔ نیز واضح رہے کہ آپؓ کے اس اقدام کی توثیق و تائید کرنے والے عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن مسعود اور عمران بن حصین جیسے بہت سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے اور ان سے اس سلسلہ میں کئی کئی روایات وارد ہیں۔

خلاصہ یہ کہ ایک لفظ میں یا متعدد الفاظ میں تین طلاقیں دینا مثلاً اس طرح کہا جائے کہ تجھے تین طلاق، یا تجھے طلاق، طلاق، طلاق یا تجھے طلاق، پھر طلاق، پھر طلاق، یا یوں کہا جائے کہ تجھے طلاق ہے، تین، دس، سو، یا ہزار طلاقیں، یا اس طرح کی کوئی بھی تعبیر اختیار کی جائے، یہ مسئلہ حاکم کے اجتہاد پر موقوف ہے۔ وقت اور زمانہ کے مفاد کی رعایت کرتے ہوئے جیسا مناسب سمجھے فیصلہ کرے۔ انہیں تین طلاق شمار کرے یا ایک طلاق، طلاق رجعی۔ 

(الفقہاء فی عہد عمر بن الخطاب: جلد 2 صفحہ 736، 739)

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: مسئلہ طلاق میں حضرت عمرؓ نے اپنے متقدمین صحابہ کرامؓ کے اجماع کی مخالفت نہیں کی، بلکہ اس معاملہ میں عجلت کرنے والوں کے لیے بطور سزا تینوں طلاقیں نافذ کر دینا مناسب سمجھا، کیونکہ بلا کسی شرعی وجہ جواز کے طلاق دینے کی حرمت سب کو معلوم تھی۔ تاہم ان میں اس کا عام چلن ہوتا جا رہا تھا اور بلاشبہ ان حالات میں ائمہ وقت حکام کو یہ اختیار ہے کہ لوگ جس مشقت کو خود مول لینے پر تلے ہوئے ہوں اور اللہ کی نرمی و رخصت قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوں وہ انہیں اسی کا پابند کر دے۔ 

(زاد المعاد: جلد 5 صفحہ 270۔ طلاق سے متعلق سیدنا عمر بن خطابؓ کی کارروائی سے متعلق امام ابن قیمؒ کا مؤقف ہی راجح ہے کہ یہ ایک تعزیری اقدام تھا، تاکہ لوگ ایک ساتھ ایک سے زیادہ طلاق دینے سے باز آ جائیں اور حاکم کو اس طرح تعزیری قانون نافذ کرنے کا اختیار ہے شریعت نے حاکم کو اس کا حق دیا ہے۔ مترجم)


صفحہ 2 از 2