شیعہ مناظر رانا سعید شیعہ  تین جید متقدمین علماء کے اقوال…

شیعہ مناظر رانا سعید شیعہ  تین جید متقدمین علماء کے اقوال کی تردید دکھانے سے بھی فرار!!

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 3

شیعہ مناظر رانا سعید شیعہ  تین جید متقدمین علماء کے اقوال کی تردید دکھانے سے بھی فرار!!

رانا محمد سعید شیعہ بداخلاق:  چلیں پھر ان انہی صحیح روایات میں خلافت، امامت، وصایت، برأت اور رجعت کا ذکر دکھا دو ۔ دوبارہ دجل و فریب۔

 

 جعفر صادق: میری خیانت تو ثابت ہی نہیں کر سکے۔    اپنے اسکین سے بھی بھاگ رہے ہو۔بڑے ظالم ہو!

  رانا محمد سعید شیعہ : کچھ اصحاب علی سے لاعلمی کی بنیاد پر وہ جاہل اور جھوٹے ہو گئے تو جنہوں نے عثمان کے قاتل صحابہ کو قرار دیا وہ تو لعنتی اور مردود ہوں گے نا ۔ کیا خیال ہے۔

  جعفر صادق: اہل سنت کے تینوں  علماء نے قاتلین عثمان کے متعلق  صحیح روایات بیان نہیں کیں۔ یہ ہے اصل فرق۔

آپ کو سمجھ نہیں آئے گا، زیادہ ذہن پر زور نہ دیں،پہلے ہی دھکا اسٹارٹ ہے۔ 

دلائل میں موجود ان تین صحیح روایات اور استدلال پر گفتگو ہوچکی ہے،مزید شوق ہے تو آخری ٹرن موجود ہے۔

 رانا محمد سعید شیعہ : ان میں دکھاؤ نا وہ پانچ عقائد،   دوبارہ دجل ۔ بعض کی حکایت کو اعتراف کہنا تمہاری خیانت تھے۔

  جعفر صادق:      میں نے عقائد ثابت کئے  یا نہیں،یہ معاملہ ختم شد۔۔اب اللہ کا واسطہ ہے۔آپ اپنے  عقائد ثابت کریں۔بلکہ  قسم بھی کھاچکے ہو۔

(اہل تشیع کے خلاف دلائل ہوں تو شیعوں کو سب  أصول یاد آجاتے ہیں،  جب اہل سنت پر کوئی  اعتراض ہو تو شیعہ تمام  أصول بھول جاتے ہیں!)

  رانا محمد سعید شیعہ : یہاں کہاں ہیں صحیح روایات۔  اور اگر سنی علماء  نے صحیح روایات بیان نہیں کیں تو وہ زیادہ بڑے لعنتی ٹھہرے کہ انہوں نے صحابہ کو بلاتحقیق ہی عثمان کا قاتل متعارف کروا دیا ۔

  اب دکھاتا ہوں کہ کشی رح کے نقل کرنے کو جو تم نے کشی کا قول کہا وہ بھی خیانت تھی۔

  جعفر صادق: اچھا دکھاؤ۔

  رانا محمد سعید شیعہ:  تمہاری خیانتیں تو عیاں کر لی جائیں جو تم نے دلائل کے نام پر دجل اور مکاری کا مظاہرہ کیا ہے وہ تو دیکھ لو پہلے۔

 جعفر صادق: پھر خیانت،ثابت کریں،عبارت تو دکھادی، چارٹ میں درست لکھا ہے۔خیانت کہاں کی ہے؟

  آپ نے کہا خیانت،تو بس خیانت ثابت ہوگئی۔پتہ نہیں کہاں سے نمونے اُٹھ کے آجاتے ہیں۔

 رانا محمد سعید شیعہ: کشی نے جہاں اپنا قول دیا ،وہاں کتاب کے کاتب شیخ طوسی نے واضح طور پر تصریح کی ہے کہ یہ کشی رح کا کہنا ہے ، جبکہ جو باتیں منقول ہیں،  انہیں ویسے ہی لکھا گیا جیسے کشی رح نے نقل کیا تھا ۔ اسکا ثبوت رجال کشی سے پیش خدمت ہے ۔

 رانا محمد سعید شیعہ بداخلاق: چارٹ میں خیانت ہی تو ہے۔  ثابت بھی کر دی گئی لیکن تم کیوں مانو گے ۔

 جعفر صادق:  اب مجھے طوسی کی بات بھی سمجھانا پڑے گی۔ظالم

  رانا محمد سعید شیعہ بداخلاق: مکاری چھوڑ دو خود بخود سمجھ جاؤ گے دجال۔

 جعفر صادق: اس نسخے  میں ہے اصل خیانت۔۔کیا کشی اور نوبختی وغیرہ نے صرف بعض کہہ کر قول بیان کیا ہے؟اللہ کو حاضر ناضر سمجھ کر جواب دیں۔

  رانا محمد سعید شیعہ بداخلاق: بالکل کشی رح نے بعض کا قول ہی نقل کیا ہے اور یہی لکھا ہے ۔ میں تو ہر جواب اللہ کو حاضر ناضر جان کر ہی دیتا ہوں البتہ تم کافی عرصے سے شیطان کی اطاعت میں ہو۔

 جعفر صادق: بعض، یا بعض اہل علم؟

  کیا بعض اور بعض اہل علم میں کوئی فرق ہے یا ایک ہی بات ہے؟

    جس روات میں  اہل علم کا ذکر ہو وہ ضعیف ہی ہوگی؟    میری خیانت دکھانے کے چکر میں اپنے علماء کی خیانتیں دکھادی ہیں۔

(قارئین  ! شیعہ مناظر نے اختیار معرفتہ الرجال  المعروف رجال کشی کے ایک نسخے سے نامکمل عبارت دکھا کر اپنے علماء کی روش پر چلتے ہوئے واضح خیانت کرکے عوام کو فریب دینے کی مذموم کوشش کی ۔شیعہ مناظر کی   اس خیانت کے ثبوت چار مختلف نسخوں کے اسکینز   ملاحظہ فرمائیں!)

اس نسخے میں الکشی کے الفاظ حذف کئے گئے ہیں ، 

و ذکر بعض۔۔۔ الخ 

تاکہ کسی کو علم ہی نہ ہو کہ یہ قول آخر کس عالم  کا ہے اور اس نے کس ذریعے سے بیان کیا ہے۔۔اس حقیقت کو چھپانے  کا مقصد یہ ہے کہ قاری اس روایت کو مجہول سمجھ کر اعتبار ہی نہ کرے!





   رانا محمد سعید شیعہ بداخلاق: دوسری بات ۔ نقل کرتے ہوئے سند کی بجائے بعض اہل علم   کہہ دینا اور کوئی سند نا دینا بذات خود اس قول کے ناقابل حجت ہونے کی نشانی ہے جب تک اس قول کی کوئی سند ثابت نا ہو ۔

  علماء کی کوئی خیانت نہیں ہے۔    لفظوں کی معمولی اونچ نیچ کی بات کریں گے تو ابھی کئی مثالیں پیش کر دوں گا آپ کے گھر سے ۔ اور ان میں تو روایت کے الفاظ ہی پورے پورے اڑا دیئے گئے ہیں۔  بہر حال ابھی موضوع ہے۔  عبداللہ ابن سباء کے عقائد کا کسی صحیح سند سے ثابت ہونا۔    کوئی صحیح روایت، کوئی ایک صحیح روایت۔

  جعفر صادق: یعنی جو نقل کرے وہ خود اہل علم بھی ہو ثقہ بھی ہو متقدمین میں سے ہو،اس زمانے کے قریب تر ہو

پھر بھی اس کی بات رد ہوجائے گی۔۔۔ وہ اہل علم کسی صورت  نہیں ہوسکتے ۔اپنا یہ استدلال کسی ایک عالم سے دکھادیں۔

 شیعہ علماء کی طرف سے  *بعض اہل علم من اصحاب علی کو مختصر کرتے کرتے صرف بعض تک آجانا ایمانداری ہے؟  رانا محمد سعید شیعہ  : جب سند ہی نہیں قول ہی بلا سند ہے تو بات ختم ۔ مقطوع اور مرسل کی اصطلاح بھی اب کیا میں پڑھاؤں آپ کو ؟؟؟؟     اول ماخذ میں اصحاب علی نہیں ہے

  جعفر صادق: یہ معمولی اونچ نیچ ہے۔بڑے ظالم ہو۔ضمیر ملامت نہیں کرتا۔

  رانا محمد سعید شیعہ  : اول ماخذ وہی ہے اشعری قمی کی کتاب ۔ اس سے پیچھے یہ قول نہیں ملتا۔

 جعفر صادق: کس کے قول کی سند،تینوں علماء  نے اپنی کتب میں خود لکھا ہے۔تینوں علماء اور تینوں کتب کا سرے سے انکار کردیں۔

 رانا محمد سعید شیعہ  : ضمیر کی بات تم تو نا ہی کرو ۔ تمہارے اندر ضمیر ہوتا تو ایک بلاسند قول پر دعویٰ کرتے، وہ بھی دوسرے فریق کے عقائد کی بنیاد کا۔

  جعفر صادق: تینوں علماء کا دور قریب تر ہے۔تینوں کے اپنے ذرائع تھے۔ ظاہر ہے تینوں اہل علم میں اٹھتے بیٹھتے تھے۔

  رانا محمد سعید شیعہ  : کیوں سرے سے انکار کیوں کر دیں ؟؟؟؟ کیا تم نے ابن حجر ، ابن اثیر اور ابن عبدالبر کا انکار کر دیا تھا ؟؟؟؟ جب عثمان کے قاتلوں میں انہوں نے صحابہ کو بطور قاتل متعارف کروایا تھا ۔ابھی تو بہت کچھ باقی ہے تم ابھی سے بوندل گئے ہو۔

  جعفر صادق: کیا جس عالم نے اپنی کتاب میں جو اپنی  باتیں لکھی ہوں۔ اس کی سند دیکھی جاتی ہے۔؟

صفحہ 1 از 3