اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی! ابن سبا موجد عقائد شیعیت…

اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی! ابن سبا موجد عقائد شیعیت مناظرہ

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 4

  رانا محمد سعید شیعہ : پہلے ایک چیز کلئیر کر لیتے ہیں ۔کیا آپ کی مراد اس شرط سے یہ ہے کہ صحیح روایت پیش کی جاسکتی ہے ، یا دوسرا آپشن کہ ایسی روایت جس کی تائید کسی جید عالم نے کی ہو وہ روایت، یا پھر پہلے صحیح روایت اور پھر اسی روایت کی جید عالم سے تائید ۔واضح کریں کہ آپ نے یہ شرط کس مفہوم کیساتھ لکھی تھی ۔(ختم)

  جعفر صادق: شرائط طئے وقت دماغ کہاں پر تھا؟ یہ اشکال پہلے کرنا چاہئے تھا۔ (حالانکہ اسی شرط  4 پر شیعہ مناظر کئی اشکالات گفتگو سے پہلے  پوچھ چکے تھے اور کئی وضاحتیں کر کے انہیں تفصیل سے سمجھا یا بھی  گیا تھا۔)سادہ الفاظ ہیں۔ شرط 4 کم از کم پانچ بار پڑھیں۔ کسی بچے سے پوچھیں۔ سمجھادے گا۔(ختم)

  رانا محمد سعید شیعہ : آپ اپنا مفہوم واضح کریں ورنہ بچہ بھی پڑھ کر بتا سکتا ہے کہ دعوی ٰ میں ہمیشہ صحیح روایت ہی ہوتی ہے۔  اور  اس کے ساتھ جو جید عالم کی تائید کی اضافت اسکا مفہوم بتائیں کہ آپ نے کس چکر میں لکھا تھا۔  واضح کریں اپنا موقف ۔(ختم)

  جعفر صادق: ⬅️ شرط 4 میں لکھا ہے کہ *ہم دونوں صحیح روایات اور تائید جید علمائے کرام سے حجت قائم کریں گے۔* الحمدلللہ میں نے شرط4 کے مطابق *صحیح روایات اور تائید جید علمائے کرام* سے حجت قائم کی ہے۔صرف صحیح روایات سے حجت قائم کرنے کی شرط طئے نہیں کی گئی تھی۔میں تو شرائط کے مطابق گفتگو کرتا رہا۔

⬅️ کیا آپ نے اس شرط 4 پر عمل کیا؟

اگر ہاں تو ذرا بتائیں کہ *کس صحیح روایت اور قول عالم سے مجھ پر حجت قائم کی گئی؟* نشاندہی کردیں۔(ختم)

 

 رانا محمد سعید شیعہ : الحمد للہ یہ اللہ کا غضب ہے آپ پر کہ آپ نے اب تک مکاری کے سوا کچھ بھی نہیں کیا ۔سوال دہراتا ہوں غور سے پڑھو ۔

کیا آپکی مراد اس شرط سے یہ ہے کہ

صحیح روایت پیش کی جاسکتی ہے ، یا دوسرا آپشن کہ ایسی روایت جس کی سند میں اختلاف ہو لیکن تائید کسی جید عالم نے کی ہو وہ روایت پیش جا سکتی ہے۔؟یا پھر پہلے صحیح روایت اور پھر اسی روایت کی جید عالم سے تائید ۔

واضح کریں کہ آپ نے یہ شرط کس مفہوم کے ساتھ لکھی تھی ۔(ختم)

   جعفر صادق: پہلے جملے ذاتیات پر حملہ ہیں، انہیں  درگذر کرتا ہوں۔

میری مراد شرط میں صاف لکھی ہوئی ہے کوئی ابہام نہیں ہے۔  *صحیح روایات کے ساتھ جید علمائے کرام کی تائید* باقی اسناد کا اختلاف وغیرہ دوران گفتگو حل کیا جاتا ہے۔شرط4 کلیئر ہوگئی۔؟ (ختم)

 رانا محمد سعید شیعہ : تو ضروری ہوا نا پہلے صحیح روایت پیش کی جائے اور اس پر پھر اس مفہوم کی تائید میں عالم کی رائے پیش کی جائے کہ اس روایت پر میری یہ رائے ہے جبکہ محترم یہ ایک لفظی دھوکہ ہے جو آپ نے شرائط لکھتے وقت کیا ہے ۔ بظاہر اور اصل واضح شدہ اس شرط کا مفہوم کلئیر ہے کہ دو چیزوں سے استدلال ہوگا۔

نمبر 1 ⬅️ صحیح السند روایت سے

نمبر 2 ⬅️ علماء کی تائید سے

مطلب پہلے منٹ سے ہی چور دروازہ گھسا رکھا تھا مکاری کے ساتھ۔  

صحیح روایت بذات خود حجت ہوتی ہے اور علماء کی تائید ضمنا ہوتی ہے ۔ اصل حیثیت دوران مناظرہ صحیح روایت کی ہوتی ہے اور اگر اس روایت کے مفہوم میں کوئی اختلاف ہو تو روایت کی شرح میں کسی عالم کی تائید پیش کی جاتی ہے ۔

ایک بار پھر آپ نے ثابت کیا کہ آپکے پلے مکاری کے سوا کچھ نہیں ہے ۔(ختم)

   لمبی تقریر شروع ؟؟؟؟ شارٹ میسج!

  جعفر صادق: لفظی دھوکا کیسے ہوگیا۔

*شیعہ کی تین صحیح روایات* سے  ابن سبا کی زندگی کے کچھ واقعات ثابت کئے گئے۔

کچھ واقعات جید علمائے کرام کے قول سے ثابت کئے گئے جو ان تک *اہل علم من اصحاب علی* کے ذریعے سے پہنچے۔

اصحاب علی تک ابن سبا کی حقیقت کیسے پہنچی؟   اسے بھی  *تین شیعہ اسماء الرجال* سے ثابت کیا کہ ابن سبا نے قبول اسلام کے بعد اصحاب علی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

آپ کی *اصول اربعہ* میں ابن سبا کے متعلق احادیث بھی موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ابن سبا اصحاب سیدنا علی کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا۔

⬅️ صرف صحیح روایات ہر معاملے میں حجت ہوتیں تو قرآن و سنت میں عقل کے استعمال کا جواز ہی نہ بتایا جاتا۔ پھر مناظروں میں عقلی دلائل پیش کرنا بھی ممنوع ہوتا۔ اپنے فرقے اثناعشریہ کو ہی دیکھیں۔نام تو ثابت کرنے سے رہے آپ تو عقائد بھی صحیح روایات سے ثابت نہیں کر سکتے۔ کھینچ کھانچ کے آپ کو علمائے کرام  کی تائید بھی رکھنی پڑے گی۔

(ختم)

 رانا محمد سعید شیعہ : جو تین روایات آپ نے پیش کیں ، ان میں ابن سباء کے حوالے سے آپ کے دعوی کے مطابق عقیدہ *خلافت ، وصایت ، امامت ، برأت یا رجعت* کا کہیں ذکر ہے ؟؟؟؟

جواب مختصر اور دو ٹوک۔ان پانچ عقائد کا ذکر ہے ۔یا ان پانچ عقائد کا ذکر نہیں ہے۔(ختم)

  جعفر صادق: *شرط 4 اسی لئے لکھی گئی ہے۔*اوپر وضاحت سے سمجھادیا ہے۔

⬅️ آپ پانچ صحیح روایات سے پانچ عقائد ثابت نہیں کر سکتے اور مجھے کہہ رہے ہیں ابن سبا کے کارناموں کو ایک صحیح روایت سے ثابت کروں۔

یہ ایک غیر منطقی ناجائز فرمائش ہے جو علمی طور پر درست نہیں ہے۔*اہل علم نے اصول مناظرہ اسی لئے طئے کئے  ہوئے ہیں کہ ہر مسئلہ ایک ہی انداز سے حل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔*(ختم) 

  رانا محمد سعید شیعہ : چلیں سوال بدل دیتا ہوں ۔جو تین صحیح روایات آپ نے پیش کی ہیں ان کے متن میں کہیں بھی ان پانچ عقائد *امامت ، خلافت ، وصایت ، برأت اور رجعت* میں سے کسی ایک بھی عقیدے کا ذکر ہے۔

جواب دو ٹوک ۔ ⬅️ جی ہاں ذکر ہے، ⬅️ نہیں ذکر نہیں ہے۔(ختم)

 

رانا سعید شیعہ ون ٹو ون طریقے کے بہانے سے   ون سائیڈیڈ گفتگو ہی کرتے رہے، جیسے ہی اہل سنت نے سوالات کا سلسلہ شروع کرنا چاہا!! شیعہ کی بیٹری ڈاؤن!!  اور اہل سنت کو دو ٹوک جواب دینے کے بجائے  سُنی گروپ میں مہمان بن کر آنے والے کم ظرف نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور  اہل سنت مناظر کی ایڈمن  شپ  ہی  ختم کردی!!

 

  جعفر صادق: اب میں پوچھوں گا اور آپ جواب دیں گے۔ بات کلیئر ہوجائے گی۔

*♦ کیا ان تین صحیح روایات میں بیان کئے گئے واقعات سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ ابن سبا نے قبول اسلام کے بعد اصحاب سیدنا علی میں شمولیت کی اور  یکایک مشرکانہ گروہ تیار کر لیا جو سیدنا علی کی خدائی کا دعویدار تھا؟ (ختم)*

صفحہ 3 از 4