شکار کا گوشت کھانا
علی محمد الصلابیمحرم کے لیے خشکی کا شکار کرنا اور اس شکار کو کھانا جائز نہیں اسی طرح خشکی کے اس شکار کو کھانا بھی جائز نہیں ہے جس کو اسی کی خاطر شکار کیا گیا ہو۔ سیدنا عبدالرحمٰن بن حاطب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ عمرہ کیا جب مقامِ روحاء پر پہنچے تو ان کے لیے پرندے کا گوشت پیش کیا گیا، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ لوگ کھائیں اور خود کھانا پسند نہیں کیا۔ اس پر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: جسے آپؓ نہیں کھائیں گے اسے ہم کیسے کھائیں؟ حضرت عثمان بن عفانؓ نے فرمایا: میں اس سلسلہ میں آپ لوگوں جیسا نہیں کیوں کہ یہ شکار میرے لیے کیا گیا ہے۔
(موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 20)
سیدنا عثمان بن عفانؓ کے ساتھ ایسا ہی واقعہ دوسری مرتبہ بھی پیش آیا جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہؓ کی روایت ہے:
میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مقامِ عرج میں دیکھا آپ رضی اللہ عنہ حالتِ احرام میں تھے سخت گرمی کا دن تھا، آپؓ اپنا چہرہ ارغوانی چادر سے ڈھکے ہوئے تھے پھر آپؓ کے سامنے خشکی کے شکار کا گوشت پیش کیا گیا تو اپنے ساتھیوں سے فرمایا تم لوگ کھا لو۔ لوگوں نے عرض کیا آپؓ نہیں کھائیں گے؟ فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں یہ میرے لیے شکار کیا گیا ہے۔
(سنن البیہقی: جلد، 5 صفحہ، 191 موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 20)