سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح

  محقق کبیر مولانا نافع رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 4

"مطلب یہ ہے کہ جناب جعفر صادقؒ فرماتے ہیں کہ امیر معاویہؓ نے حضرت سیدنا حسنؓ کی طرف مکتوب ارسال کیا کہ آپؓ اور آپؓ کے برادر حسینؓ اور حضرت علی المرتضیٰؓ کے دیگر احباب ہمارے ہاں تشریف لائیں۔ جب یہ حضرات حضرت امیر معاویہؓ کے ہاں جانے کے لیے روانہ ہوئے تو ان کے ہمراہ قیس بن سعد بن عبادہ انصاری بھی روانہ ہوئے۔ یہ حضرات ملک شام میں حضرت امیر معاویہؓ کے پاس تشریف لے گئے تو امیر معاویہؓ نے انھیں اندر آنے کی اجازت دے دی وہاں اس مجلس میں کئی خطباء جمع کیے گئے تھے پھر حضرت امیر معاویہؓ نے حضرت حسنؓ سے کہا کہ آپؓ اٹھیے اور بیعت کیجیے۔ پس حضرت حسنؓ اٹھے اور انھوں نے معاویہؓ کی بیعت کی۔ اس کے بعد انھوں نے (امیر معاویہؓ نے ) حضرت حسینؓ سے کہا کہ آپؓ بھی اٹھیں اور بیعت کریں پس حضرت حسینؓ اٹھے اور امیر معاویہؓ سے بیعت کی۔ اس کے بعد امیر معاویہؓ نے قیس بن سعد سے کہا تم بھی اٹھو اور بیعت کرو۔ قیسؓ نے حضرت حسینؓ کی طرف التفات کیا کہ حضرت حسینؓ اس مسئلہ میں کیا حکم دیتے ہیں؟ تو حضرت حسینؓ نے فرمایا اے قیس! وہ میرے امام ہیں ( آپ بھی بیعت کر لیں). "

2: اور اس مسئلہ کو شیخ ابو جعفر طوسی شیعی نے اپنی تصنیف "مالی شیخ طوسی" مجلس یاز دہم ماہ صفر 457 کے تحت بالفاظ ذیل درج کیا ہے۔ 

(الا وانى قد بايعت هذا و أشار بيده الى معاوية)

"(یعنی حضرت حسنؓ نے) اپنے ہاتھ سے امیر معاویہؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

خبردار! میں نے ان سے بیعت کرلی ہے۔"

شیعہ کے مندرجہ بالا حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ حضرات حسنین شریفینؓ نے حضرت امیر معاویہؓ کے ساتھ جب امر خلافت میں صلح کی تھی تو اس وقت ان کے ہاتھ پر بیعت خلافت بھی کر دی تھی۔ یہ چیز شیعہ کی معتبر روایات کی روشنی میں ثابت ہے کوئی مختلف فیہ امر نہیں۔

تنبیہ: شیعہ کے ہاں اس مقام پر مختلف روایات پائی جاتی ہیں مندرجہ بالا رجال کشی والی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں حضرات (حضرت حسنؓ و حضرت معاویہؓ) میں صلح و مصالحت تو پہلے ہو چکی تھی لیکن مزید توفیق و تصدیق کے طور پر ان حضرات حسنینؓ سے بیعت خلافت لی گئی اور انھوں نے بیعت کر دی تا کہ اس معاملہ میں شک وشبہ کی گنجائش نہ رہے۔ 

عام الجماعۃ: حضرت حسنؓ اور حضرت امیر معاویہؓ کے مابین صلح کی اہل اسلام کے نزدیک بڑی اہمیت ہے اور اس کے ذریعے سے ایک بہت بڑے انتشار بین المسلمین کا خاتمہ ہوا اور افتراق کا فتنہ فرو ہو گیا۔ ایک مدت سے اعدائے اسلام پر غلبہ پانے اور انھیں فتح کرنے کے اقدامات رکے ہوئے تھے اور اہل اسلام کے مابین افتراق عظیم واقع ہو گیا تھا اور پھر اسی دوران میں باہمی جدال و قتال کے مواقع بھی پیش آچکے تھے لیکن آخر کار اللہ کریم جل مجدہ نے پھر اہل اسلام کو ایک کلمہ پر مجتمع ہونے کی توفیق بخشی اور اس دور کے تمام اہل اسلام فرقت کے بعد ایک مرکز پر متفق ہو گئے اور حضرت امیر معاویہؓ بن ابی سفیانؓ کو اپنا متفقہ امیر اور خلیفہ تسلیم کر لیا اور جو حضرات حضرت علی المرتضیٰؓ کے دور سے بیعت خلافت سے اجتناب اور علیحدگی اختیار کیے ہوئے تھے ان حضرات نے بھی حضرت امیر معاویہؓ ہی کو بالاتفاق خلیفہ تسلیم کر لیا اور ان پر رضا مند ہو گئے۔ اس بنا پر اس برس کو "عام الجماعۃ" کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔


صفحہ 4 از 4