سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح

  محقق کبیر مولانا نافع رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 4

لیکن اس دور میں بقول شیعہ مؤرخین سیدنا حسنؓ کی وفات کے بعد بعض لوگوں نے سیدنا حسینؓ کو اس صلح و مصالحت کے خلاف برانگیختہ کرنے کی کوشش کی اور ان کو حضرت امیر معاویہؓ کی بیعت توڑ کر ان کے خلاف جنگ و پیکار پر آمادہ کرنا چاہا، تو سیدنا حسین ابن علیؓ  نے ان کی اس پیش کش کے جواب میں ارشاد فرمایا: 

(فقال الحسينؓ انا قد بايعنا وعاهدنا ولا سبيل الى نقض بيعتنا)

"یعنی حضرت سیدنا حسینؓ نے فرمایا کہ ہم نے امیر معاویہؓ سے بیعت کر لی ہے اور ان سے ہمارا معاہدہ ہو چکا ہے۔ اب بیعتِ ہذا کو توڑ ڈالنے کے لیے کوئی راستہ نہیں۔

اسی مسئلہ کو شیعہ کے مجتہدین نے مزید وضاحت سے بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک بار عراق کے شیعان علیؓ نے حضرت حسینؓ کی خدمت میں مکتوبات ارسال کیے جن میں حضرت امیر معاویہؓ کے ساتھ مصالحت اور باہمی معاہدہ کے نقض پر زور دیا اور اس عقد کو ختم کر دینے کا تقاضا کیا۔ 

شیخ مفید شیعی نے اس سلسلے میں حضرت سیدنا حسینؓ کے جواب کو بالفاظ ذیل تحریر کیا ہے: (ان بينه وبين معاوية عهدا وعقدا لا يجوز له نقضه حتى تمضى المدة .... الخ)

اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت سیدنا حسینؓ نے فرمایا کہ میرے اور معاویہؓ کے درمیان عہد اور عقد ( بیعت) ہو چکا ہے اس کو توڑنا جائز نہیں تا وقتیکہ معاہدہ کی مدت ( خلافت معاویہؓ ) ختم ہو جائے۔“ 

مندرجات گزشتہ سے ثابت ہوا کہ حضرت امیر معاویہؓ کے ساتھ دونوں برادر حضراتؓ کی بیعت درست تھی اور ان کے نزدیک عقد مصالحت بالکل صحیح تھا اور اس پر دونوں حضرات حسنین شریفینؓ مدت العمر قائم رہے۔ 

یہ چیز حضرت معاویہؓ کی صحت خلافت کے لیے وزنی شہادت ہے اور ان کی حکومت عادلہ کی خاطر واضح دلیل ہے۔ 

بعض لوگوں نے مقام شرائط میں ایک شرط یہ بھی ذکر کی ہے کہ حضرت حسنؓ نے حضرت امیر معاویہؓ پر یہ شرط عائد کی تھی کہ "جناب معاویہؓ کے بعد حضرت حسنؓ خلیفہ ہوں گے۔“ اس بنا پر حضرت امیر معاویہؓ نے حضرت حسنؓ کو زہر دلوا دیا تھا تاکہ وہ امر خلافت پر بعد میں ہمیشہ مسلط رہیں۔ اس شرط کے متعلق درج ذیل چیزیں قابل غور ہیں ان پر توجہ کر لینے سے اس شرط کا سقم واضح ہو جائے گا: 

1: قدیم مؤرخین طبری وغیرہ اور خصوصاً شیعہ کے قدیم تر مؤرخین دینوری، مسعودی اور یعقوبی وغیرہ نے جہاں شرائط صلح ذکر کی ہیں ہماری معلومات کی حد تک ان میں شرط مذکورہ بالا کا ذکر نہیں پایا جاتا۔ حالانکہ حضرت معاویہؓ پر طعن قائم کرنے کے لیے یہ عمدہ موقع تھا۔ نیز معلوم ہوتا ہے کہ ان مؤرخین کے دور تک شرائط میں یہ چیز شامل نہ تھی ایک مدت دراز کے بعد لوگوں نے اس شرط کا اضافہ کر لیا اور زہر خورانی کے طعن کے لیے اس کو زینہ بنایا۔ یہ چیز نقلی طور پر پیش کی گئی ہے۔ 

2: اب عقلی طور پر توجہ کریں کہ جب حضرت امیر معاویہؓ نے استخلاف یزید کا مسئلہ اس دور کے اکابر کے سامنے پیش کیا تو بعض اکابر نے اس چیز سے اختلاف کرتے ہوئے کلام کیا (جیسا کہ تواریخ میں منقول ہے ) تو اس موقع پر ان لوگوں نے یہ چیز نہیں ذکر کی کہ حضرت حسنؓ کی زندگی میں آپؓ کی خلافت تھی اب ان کی وفات کے بعد آپؓ کو خلافت کا حق نہیں اور صلح کی شرائط میں یہ مسئلہ داخل تھا۔ فلہذا اس بات کو اختلاف کرنے والے بزرگوں کا پیش نہ کرنا بھی اس بات کا قرینہ ہے کہ صلح کی شرائط میں یہ شرط داخل نہ تھی ورنہ وہ حضرات اس موقع پر اس شرط کو ضرور پیش کرتے۔

مذکورہ بالا سطور میں صلح کے متعلق شیعہ کے متقدمین و متأخرین علماء کی چند توضیحات ذکر کی ہیں۔ اس کے قریب قریب " تحفہ اثنا عشریہ" میں شاہ عبد العزیزؒ نے حضرت حسنؓ کی صلح کے متعلق شیعہ علماء کے بیانات درج کیے ہیں اور بیشتر بطور الزام نقل کیے ہیں۔ اس میں بھی اس بات کی وضاحت آ گئی ہے کہ یہ صلح اصلاح امت کے لیے تھی اور فتنہ کو ختم کرنے کی خاطر کی گئی۔ عبارت نقل کرنے میں تطویل ہوتی ہے۔ ناظرین کرام تسلی کے لیے درج ذیل مقام کی طرف رجوع کر سکتے ہیں: تحفہ اثنا عشریہ صفحہ 181 باب ہفتم در امامت تحت عقیدۂ ششم، طبع لاہور 

صلح و مصالحت کی تاریخ:

حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ اپنی مشہور تصنیف البدایہ والنہایہ میں ذکر کرتے ہیں کہ:

وقال ابو الحسن علی بن المدينى كان تسليم الحسن الأمر الى معاویۃ في الخامس من ربیع  الأول سنة احدى واربعين وقال غيره في ربيع الاخر . يقال في غرة جمادی الاولى فالله اعلم

اور اسی مسئلہ کو دیگر محدثین و مؤرخین نے بھی بالوضاحت اپنی اپنی تصانیف میں ذکر کیا ہے مثلاً : 

خلیفہ ابن خیاط نے اپنی تاریخ میں یہ الفاظ ذکر کیے ہیں کہ:

وفيها سنة الجماعة اجتمع الحسنؓ بن علىؓ بن ابی طالب و معاويةؓ (بن ابي سفيانؓ)فاجتمعا بمسكن من ارض السواد ومن ناحية الانبار فاصطلحا وسلم الحسنؓ بن علىؓ الى معاويةؓ وذالك في شهر ربيع الآخر او في جمادى الأولى سنة احدى واربعين

"مندرجات بالا کا مطلب یہ ہے کہ عام الجماعت 41 ھ میں حضرت حسنؓ اور حضرت معاویہؓ "انبار" کے نزدیک ارض سواد کے مسکن میں جمع ہوئے اور دونوں نے (خلافت کے معاملہ میں) باہم صلح کر لی اور حضرت حسنؓ نے حضرت امیر معاویہؓ کو امر خلافت سپرد کر دیا اور کنارہ کش ہو گئے یہ واقعہ ربیع الاخری یا جمادی الاولی 41 ھ میں پیش آیا"۔

حاشیہ میں مزید چند ایک حوالہ جات اس مسئلہ پر درج کر دیے ہیں تا کہ اہل تحقیق حضرات رجوع کر کے تسلی کر سکیں۔

چنانچہ یہ چیز اہل سنت والجماعت کی روایات کے اعتبار سے تو مسلم ہے لیکن شیعہ کے نزدیک بھی یہ مسئلہ مسلمات میں سے ہے اور بے شمار شیعہ علماء نے اپنی تصانیف میں بالوضاحت درج کیا ہے۔ ہم یہاں سیدنا جعفر صادقؒ کے فرمان کی روشنی میں بعض حوالہ جات ذیل میں ذکر کرتے ہیں: 

((قال سمعت ابا عبدالله يقول ان معاوية كتب الى الحسن بن على صلوت الله عليهما ان اقدم انت والحسين وأصحاب على فخرج معهم قيس بن سعد بن عبادة الانصارى فقدموا الشام فاذن لهم معاوية واعد لهم الخطباء فقال يا حسن قم فبايع فقام فبايع ثم قال للحسین قم فبايع فقام فبايع ثم قال يا قيس قم فبايع فالتفت الى الحسين ينظر ما يأمره فقال يا قيس انه امامی یعنی الحسن)) 

صفحہ 3 از 4