سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح

  محقق کبیر مولانا نافع رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 4

انه اشترط عليه شروطا كثيرۃ فالتزمها ووفى له بها

شرائط صلح شیعہ کے بیانات کی روشنی میں:

شیعوں کے قدیم ترین مؤرخ دینوری نے سیدنا حسنؓ اور سیدنا معاویہؓ کے درمیان صلح کے اس واقعہ کو تفصیل سے ذکر کیا ہے اور صلح کی شرائط کو مندرجہ ذیل عبارت میں تحریر کیا ہے: 

(ولما راى الحسن من اصحابه الفشل ارسل الى عبدالله بن عامر بشرائط اشترطها على معاوية على ان يسلم له الخلافة وكانت الشرائط الا ياخذ احدا من اهل العراق باحنة وان يومن الاسود والاحمر، ويحتمل ما يكون من هفواتهم، ويجعل له خراج الاهواز مسلما في كل عام ويحمل الى اخيه الحسين بن على فى كل عام الفى الف ويفضل بني هاشم في العطاء والصلاح علی بنی عبد الشمس)

"یعنی قدیم شیعی مؤرخ دینوری تحریر کرتا ہے کہ جب حضرت حسنؓ نے اپنے ساتھیوں کو بزدلی کا شکار پایا تو عبداللہ بن عامر کی طرف صلح کے لیے چند شرائط ارسال کیں کہ ان پر حضرت حسنؓ حضرت معاویہؓ کو خلافت سپرد کر دیں گے۔

وہ شرائط یہ تھیں: 

(1) اہلِ عراق پر دشمنی اور کینہ کی بنا پر گرفت نہیں کی جائے گی۔ 

(2) ہر اسود و احمر کو امان دی جائے گی (یعنی عام رعایا کو امان ہو گی )۔ 

(3) لوگوں کی یا وہ گوئی کو برداشت کیا جائے گا۔ 

(4) علاقہ "اہواز“ کا مکمل خراج ہر سال حضرت حسنؓ کے سپرد کیا جائے گا۔ 

(5) ان کے بردار حضرت حسینؓ بن علیؓ کو بیس لاکھ درہم سالانہ (وظیفہ ) دیا جائے گا۔ 

(6) عطایا اور صلہ جات میں بنی ہاشم کو بنی عبد الشمس پر فضیلت دی جائے گی اور ان کا حق فائق رکھا جائے گا۔

اس مقام پر دینوری شیعی نے مزید لکھا ہے کہ عبداللہ بن عامر نے حضرت حسنؓ کی یہ شرائط حضرت امیر معاویہؓ کی خدمت میں ارسال کر دیں اس طرح صلح ہذا مکمل ہو گئی اور جانبین اس پر راضی ہو گئے۔ 

2: مذکورہ واقعہ کو جو باہمی مصالحت کے دوران پیش آیا دیگر قدیم شیعہ مؤرخ یعقوبی نے بھی اپنے انداز کے مطابق مفصل تحریر کیا ہے چنانچہ یعقوبی لکھتا ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ نے حضرت حسنؓ کی طرف چند حضرات کو صلح کی غرض سے روانہ کیا۔ وہ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ، عبداللہ بن عامر بن کریز اور عبدالرحمٰن بن ام الحکمؓ تھے۔ حضرت حسنؓ اس وقت مدائن کے جنگی حالات میں اقامت پذیر تھے ان لوگوں نے سیدنا حسنؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر صلح کے متعلق گفتگو کی۔ اس کے بعد جب یہ حضرات سیدنا حسنؓ کی مجلس سے باہر آئے تو لوگوں کو سنا کر کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کے بیٹے کے ذریعے سے مسلمانوں کو خون ریزی سے بچا لیا اور وہ فتنے کے فرو ہونے کا باعث ہوئے اور انھوں نے صلح منظور کرلی۔

جب یہ چیز سیدنا حسنؓ کے جیوش میں پہنچی تو وہاں ایک قسم کا اضطراب پیدا ہوگیا اور انھوں نے ان لوگوں کی صداقت میں کچھ شک نہ کیا اور جوش میں آ کر حضرت حسنؓ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کا جنگی سامان لوٹ لیا۔ حضرت سیدنا حسنؓ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اندھیرے میں چل دیے مگر جراح بن سنان اسدی نے چھپ کر نیزہ مارا اور آنجنابؓ کی ران کو زخمی کر دیا اور آپؓ کو نہایت بے آبرو کیا۔ اس کے بعد یعقوبی مزید ذکر کرتا ہے کہ:

(وحمل الحسن الى المدائن وقد نزف نزفا شديدا واشتدت به العلة فافترق عنه الناس وقدم معاويۃ العراق فغلب على الامر والحسنؓ عليل شديد العلة فلما رأى الحسنؓ ان لا قوة به وان اصحابه قد افترقوا عنه فلم يقوموا له. صالح معاوية، وصعد المنبر فحمد الله واثنى عليه وقال: أيها الناس ان الله هداكم باولنا وحقن دماكم باخرنا وقد سالمت معاوية .... الخ)

" (بقول شیعی مؤرخ ) مطلب یہ ہے کہ حضرت سیدنا حسنؓ کو زخمی حالت میں مدائن کی طرف لے جایا گیا۔ آپؓ خون آلود تھے۔ آپؓ کی بیماری شدت اختیار کر گئی، لوگ آپؓ سے علیحدگی اختیار کرنے لگے۔ حضرت امیر معاویہؓ عراق میں جا پہنچے اور خلافت پر ان کا غلبہ ہونے لگا۔ حضرت سیدنا حسنؓ شدید علیل تھے۔ جب حضرت حسنؓ نے اپنے میں قوت نہ دیکھی اور ان کے ساتھی ان سے جدا ہو گئے اور تعاون سے کنارہ کش ہو گئے تو آپؓ نے حضرت امیر معاویہؓ سے صلح کر لی۔ 

( جب کچھ حالت بہتر ہوئی) تو منبر پر تشریف لائے اور حمد وثنا کی اور فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے ہمارے اول کے ساتھ تمھیں ہدایت بخشی اور ہمارے آخر کے ساتھ تمھارے خون کی حفاظت کی تمھیں خوں ریزی سے بچالیا) میں نے امیر معاویہؓ سے صلح کر لی ہے یعنی امر خلافت ان کے سپرد کر دیا ہے۔"

یہ شیعہ مؤرخین کے بیانات ہیں جو انھوں نے اپنے نظریات کے مطابق درج کیے ہیں۔

نیز شیعہ کے مشاہیر علماء نے صلح ہذا کی شرائط میں مزید یہ چیز بھی ذکر کی ہے کہ حضرت سیدنا حسنؓ نے حضرت امیر معاویہؓ کے ساتھ صلح کرنے میں دیگر شرائط کے علاوہ یہ شرط بھی لگائی تھی کہ "کتاب اللہ، سنت رسول اللہﷺ اور سیرت خلفائے راشدین صالحینؓ پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔“

شیعہ کا فاضل اربلی لکھتا ہے کہ:

(بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما صالح عليه الحسن بن علی بن ابی طالب معاوية بن ابي سفيان صالحه على ان يسلم اليه ولاية امر المسلمين على ان يعمل فيهم بكتاب الله تعالى و سنة رسوله وسيرة الخلفاء الراشدين الصالحين ...... الخ)

قبل ازیں یہ چیز شیعہ کی تصریحات کے مطابق درج کی جا چکی ہیں کہ حضرت امیر معاویہؓ نے صلح کی تمام شرائط کو منظور کر لیا تھا اور ان کو پورا کیا تھا۔

فائدہ: مندرجہ بالا صلح کی شرط سے یہ چیز ثابت ہوتی ہے کہ حضرت سیدنا حسنؓ کے نزدیک خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت برحق اور صحیح تھی اور ان کی دینی وثاقت مسلم تھی اور ان حضرات کا عہد خلافت قابلِ تقلید تھا اسی بنا پر حضرت حسنؓ نے بھی ان سے صلح کرتے وقت خلفائے راشدینؓ کی سیرت پر عمل درآمد کی شرط لگائی۔ 

یہاں مزید اس چیز کو ذکر کر دینا ناظرین کرام کے لیے فائدہ بخش ہے کہ جس طرح سیدنا حسنؓ نے حضرت امیر معاویہؓ کے ساتھ شرائط صلح و مصالحت کر کے بیعت کر لی تھی اور وہ اس پر رضا مند اور مطمئن تھے اور کسی طرح بھی پشیمان اور پریشان نہیں تھے، اسی طرح آں موصوف کے برادر گرامی سیدنا حسینؓ بھی بیعتِ ہذا میں شامل تھے اور اس معاہدہ کی تمام کارگزاری میں شریک کار تھے اور اس کو صحیح قرار دیتے تھے۔ 

صفحہ 2 از 4