سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا نزول سرزمین کربلا میں…

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا نزول سرزمین کربلا میں شیعی روایات کی روشنی میں

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 4 از 5

کہ جس شخص کا یہ حال ہو وہ کبھی لفظ ’’حسین‘‘ کو ’’حسین‘‘ نہ پڑھے گا بلکہ ہسین ہی پڑھے گا۔ بھلا کہاں نوجوانانِ جنت کا سردار عربی ہاشمی مطلبی قرشی حسین رضی اللہ عنہ، جو نبی کریمﷺ کا نورِ نظر، سیدنا علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کا لخت جگر، کتاب و سنت کا سچا پیرو، محبوبِ صحابہ رضی اللہ عنہم اور شہ ابرار و اخیار اور کہاں وہ عجمی ہسین جس کی خدا کو چھوڑ کر قسمیں کھائی جاتی ہیں اور لوگوں کو کتاب و سنت کے عقیدہ اور نبی کریمﷺ کی لائی ہوئی، توحید سے پھیرنے کے لیے جگہ جگہ اس کے نام پر اونچے اونچے مشاہد و مزارات اور قبے اور تعزیے بنائے جاتے ہیں۔

عبیداللہ ابن مرجانہ فارسیہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں بدگوئی اور یاوہ گوئی کرتا تھا جب کہ ان کوفیوں کو قریب کرتا اور خود بھی ان کے قریب ہوتا تھا، جو ہر شریف کو بے یار و مددگار چھوڑ دیتے، ہر نیک کے ساتھ جور و جفا کرتے، ہر کریم کو ذلیل کرتے اور ہر امین کو کاذب و خائن قرار دیتے تھے۔ کیا اسلام کے سچے پیروکاروں میں سے کوئی حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی آبرؤ وں پر بھی ہاتھ ڈالا کرتا ہے؟!!

ہاں ایسا ابن زیاد جیسا اجڈ اور احمق ہی کر سکتا تھا جس کی حماقت اور اجڈ پن کوفیوں کے اجڈ پنے سے کسی طرح بھی کم نہ تھا۔ بلکہ ان سے بھی دو ہاتھ آگے تھا۔ قتل حسین رضی اللہ عنہ کے ارتکاب کا فعل بتلاتا ہے کہ ابن زیاد کوفہ کے بدبودار اور متعفن معاشرے کا پروردہ تھا، جس کی رگ رگ میں آل بیت رسولﷺ کی بے ادبی و بے لحاظی رچی بسی تھی۔ جس کی شہادت مندرجہ ذیل حوالہ جات دیتے ہیں:

٭ حبیب بن یسار کہتے ہیں: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو جب شہید کر دیا گیا، تو حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ مسجد کے دروازے کی طرف اٹھے اور فرمایا: کیا تم لوگوں نے یہ کر ڈالا، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے: ’’اے اللہ! میں ان دونوں کو (یعنی حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کو) اور نیکوں کار مومنوں کو تیری پناہ (اور حفاظت) میں دیتا ہوں۔‘‘ جب ابن زیاد کو بتلایا گیا کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ تو یہ یہ کہہ رہے ہیں، تو اس (بے ادب و گستاخ نے یاوہ گوئی کرتے ہوئے) یہ کہا: اس بوڑھے کی عقل ماری گئی ہے۔ (المعجم الکبیر، رقم الحدیث: 5307) کیا کتاب و سنت پر ایمان رکھنے والا کوئی مومن کسی بھی صحابیٔ رسولﷺ کے بارے میں ایسی دریدہ دہنی کی جسارت کا سوچ بھی سکتا ہے؟ لیکن امیر کوفہ ابن مرجانہ فارسیہ نے یہ کیا اور ذرا پروا نہ کی۔ ابن زیاد شاتمین صحابہ کی اسی لڑی کا ایک دانہ ہے، جو آج تک یہ فعل بد حب آل بیت رسولﷺ کی آڑ میں کرتے چلے آ رہے ہیں۔

٭ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ابن مرجانہ فارسیہ کے سامنے سبط رسول سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا سرمبارک لایا گیا تو وہ ناہنجار اپنے ہاتھ میں پکڑی چھڑی کو سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے چہرۂ مبارک پر مارنے لگا۔ چنانچہ کبھی آنکھ پر تو کبھی ناک پر چھڑی مارتا۔ یہ منظر دیکھ کر سیّدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’چھڑی ہٹا لو کہ میں نے نبی کریمﷺ کے منہ مبارک کو اسی جگہ پر دیکھا ہے۔‘‘ (المعجم الکبیر، رقم الحدیث:5107) (یعنی آپﷺ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی آنکھوں اور لبوں پر پیار کیا کرتے تھے)۔

٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب ابن زیاد کے سامنے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا سر لایا گیا، تو وہ ہاتھ میں پکڑی چھڑی کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے چہرے پر مارنے لگا اور یہ کہتا جا رہا تھا: ان کے دانت بے حد خوبصورت ہیں۔ اس پر میں نے کہا: ’’اللہ کی قسم! تیری اس حرکت سے مجھے بے حد تکلیف پہنچی ہے، میں نے نبی کریمﷺ کو اپنے منہ سے اسی جگہ بوسہ دیتے دیکھا ہے، جہاں تم اپنی چھڑی مار رہے ہو۔‘‘ (المعجم الکبیر، رقم الحدیث: 2878)

یہ دونوں روایات اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ ’’قاتلانِ حسین رضی اللہ عنہ ‘‘ کوفہ کے بدباطن شاتم صحابہ سبائی رافضی اور ان کے ہم نوا لوگ تھے، جن کی پرورش ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور آل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کینہ پر ہوئی تھی۔

جعفر بن محمد بن علی اپنے والد سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو جب شہید کیا گیا، تو عمر مبارک اٹھاون برس تھی۔ (المعجم الکبیر، رقم الحدیث: 2810، 2804، 2783 ایک روایت چھپن برس کی بھی ہے۔ (دیکھیں: المعجم الکبیر، رقم الحدیث: 2842))

ابن ابی شیبہ کہتے ہیں: سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما اٹھاون برس کی عمر میں دس محرم 61 ہجری کو شہید ہوئے۔ اس وقت آپؓ نے کتم (کتم: ایک پودا جس کے بیج سے قدیم زمانہ میں روشنائی بنائی جاتی تھی اور بالوں کو خضاب کیا جاتا تھا۔ (القاموس الوحید: 1387)۔ (نسیم)) اور مہندی سے خضاب کیا ہوا تھا۔ (المعجم الکبیر، رقم الحدیث: 2783، 2803، 2804، 2810 مصنف ابن ابی شیبۃ: 33829)

اور ایک روایت میں ہے: سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نبی کریمﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ تھے اور آپؓ نے وسمہ سے بالوں (اور داڑھی) کو خضاب لگایا ہوا تھا۔ (صحیح البخاری: 3465 اَلْوَسْمَۃُ: یہ ایک قسم کا پودا ہے، جس سے بالوں کو خضاب لگایا جاتا ہے۔ اس کے خضاب کا رنگ سیاہی مائل ہوتا ہے۔ اَلْوَسْمَۃُ: نیل کا پودا جس کے پتوں سے بالوں کو خضاب کیا جاتا ہے۔ (القاموس الوحید صفحہ 1851))

یعنی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد آپ نبی کریمﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ تھے۔

٭ علامہ ذہبی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں: شہید سعید جناب حسین رضی اللہ عنہ میدانِ کربلا میں سرخروئے شہادت ہوئے۔ آپ نے اپنے ناناﷺ سے احادیث کو یاد کیا اور آپﷺ سے اور اپنے والدین رضی اللہ عنہما اور ماموں حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا۔ 5 شعبان 4 ہجری کو پیدا ہوئے۔ اس حساب سے بوقت شہادت عمر مبارک چھپن سال، پانچ ماہ اور پانچ دن تھی۔ یومِ شہادت یوم عاشوراء تھا اور بعض نے ہفتہ کا دن بھی کہا ہے (تاریخ الاسلام للذہبی: جلد، 8 صفحہ 83) (یعنی دس محرم 61 ہجری بروز ہفتہ چھپن سال، پانچ ماہ پانچ دن کی عمر پا کر شہید ہو گئے)۔

صفحہ 4 از 5