سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا نزول سرزمین کربلا میں…

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا نزول سرزمین کربلا میں شیعی روایات کی روشنی میں

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 3 از 5

مفید تھی۔ ابن زیاد چاہتا تو اوّل صلح کی شقوں میں سے کسی ایک شق کو اختیار کر لیتا، یا پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو خلافت کی عدالت میں پیش کر دیتا اور ان کے خلاف شریعت کے حکم کے مطابق فیصلہ کرتا، لیکن اس احمق نے خیر و عافیت اور صلح و سلامتی کی کسی راہ کو اختیار نہ کیا، بلکہ دشوار ترین، تنگ ترین، نہایت تباہ کن، ازحد مہلک اور بے حد فاجرانہ راستہ اختیار کیا جو اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ ابن زیاد کا اندازِ فکر اعدائے صحابہ کے فکر و عقیدہ کے کس قدر قریب تھا، جس کے بعد ابن زیاد نے اپنے لیے عذر کی کوئی راہ باقی نہیں چھوڑی اور اپنے سر پر گناہ کے اس طوق کو ڈال لیا۔ کیونکہ ابن زیاد نے شر کا قصد کیا۔ ایذاء و اضرار کو اختیار کیا اور دین و شرع، صلح و خیر اور التماس و اعتذار کے سب دروازے بند کر دئیے اور اپنی ہی قوم کے ایک ایسے شخص کی بات پر کان نہ دھرے جو سب سے زیادہ معزز و موقر تھا، جس کو لوگوں نے دھوکا اور فریب کے ساتھ دور دیار میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔ یا پھر ایک ایسے شخص کی بات کو لائق التفات نہ جانا جو قابو یافتہ اسیر بے زنجیر کے حکم میں تھا اور رجولیت، مکارم شیم و فضائل اور قدرت کے وقت معاف کر دینے کے بلند اخلاق کا دامن چھوڑ کر نواسۂ رسولﷺ کی موجودہ حالت کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور اپنے ماتھے پر قیامت تک کے لیے حماقت و سفاہت، بے مروتی، رذالت، بے حیائی، شوخ چشمی، بداعتقادی اور جنابِ رسول اللہﷺ کی جناب میں بے ادبی کے ارتکاب کا ٹیکہ لگا لیا اور خود کو اعدائے صحابہ کی اس اخلاقیات کے پلڑے میں جا بٹھایا جہاں بڑوں کی توقیر، چھوٹوں پر شفقت، صالحین کا ادب اور عقائد کے احترام کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔

ابن زیاد کا یہ رسوائے زمانہ فعل بتلاتا ہے کہ اس کا سینہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کینہ سے کس قدر آلودہ تھا اور اس کا دل و دماغ رفض سے کس قدر متاثر تھا۔ مثل مشہور ہے کہ آدمی اپنے ہم جنسوں کے ساتھ ہی نشست و برخاست رکھتا ہے۔ جیسا کہ محاورہ ہے:

کندہم جنس باہم جنس پرواز

کبوتر با کبوتر باز با باز

بھلا جس ماحول میں حضرات صحابہ کرام کی عزت و آبرو پر بٹے مارے جاتے ہوں، وہاں سبطِ رسولﷺ، جگر گوشۂ بتول سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی تعظیم و توقیر کا سوال بھی پیدا ہو سکتا ہے؟ کیا وہاں کسی کو نوجوانانِ جنت کے اس سردار کی قدر و منزلت کا اندازہ ہو سکتا ہے؟ اور بھلا یہ لوگ جناب حسین رضی اللہ عنہ کی تعظیم و تکریم کر بھی کیونکر سکتے تھے جو سید الانبیاء و المرسلین، احمد مصطفی، محمد مجتبیٰﷺ کے دو وزیروں اور مشیروں جناب ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی شان میں ہر وقت گستاخیاں اور دریدہ دہنیاں کرتے ہوں؟

ابن زیاد اور کوفیوں میں کس قدر روحانی تعلق تھا، کوفیوں کو ابن زیاد سے کس قدر قرب تھا، ابن زیاد کے ہاشمی و قریشی نوجوان سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کے حکم دینے میں کوفیوں کا کس قدر ہاتھ تھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر جرأت کرنے میں ابن زیاد ان کوفیوں کے کس قدر مشابہ تھا، اس کی تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ ابن زیاد مرجانہ نامی ایک ایرانی مجوسی عورت کا بیٹا تھا جو یزد گرد یا کسی اور ایرانی بادشاہ کی بیٹی تھی۔ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 8 صفحہ 268)

یہیں سے یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ بالآخر یہ اعدائے صحابہ ابن زیاد کے مادری نسب کے ذکر سے اپنے لب کیوں سیے بیٹھے ہیں اور بس اتنا کہہ لینے پر اکتفار کر لیتے ہیں: ’’ابن زیاد ابن مرجانہ۔‘‘ جو اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ انہیں کوفیوں سے کسی قدر قرب و محبت ہے۔ آج کے کچھ لوگ بھی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مجوسی قاتل کا نام صرف اسی قدر لیتے ہیں: ’’ابو لؤلؤہ مجوسی‘‘ بلکہ بعض تو ابو لؤلؤہ کو اپنے مقدس اولیاء میں شمار کرتے ہیں۔ جبکہ عین اسی وقت یہ لوگ نبی کریمﷺ کے سسر ابو سفیان رضی اللہ عنہ پر بے حرمتیوں اور بے ادبیوں کے شدید حملے کر کے ان کے پاکیزہ کردار کو بدشکل بنانے اور بگاڑنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ حالانکہ سیدنا ابو سفیان بن حرب بن امیہ رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے قبل بھی قریش کے سردار اور نہایت سربرآوردہ شخص تھے۔ لیکن اس سب کے باوجود انہیں بدترین گالیاں دیتے ہیں جیسے سیدنا ابی سفیان رضی اللہ عنہ قریشی سردار نہ ہوں بلکہ کوئی گئے گزرے عجمی کوفی ہوں؟!!

حالانکہ یہ کوفی اچھی طرح جانتے ہیں کہ جنابِ ابو سفیان رضی اللہ عنہ اس بے داغ کردار کے مالک ہیں، جن کے دامن عفت و امانت پر دورِ جاہلیت میں بھی غدر و خیانت کا ایک چھینٹا تک لگایا نہیں جا سکا اور اسلام تاریخ ہی نہیں بلکہ غیر اسلامی تاریخ کے کسی بھی ماخذ سے ایک شہادت بھی ایسی نہیں ملتی، جو جنابِ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی بلند کرداری پر دھوکا، فریب، مکر اور عیاری کا ایک داغ بھی ثابت کر سکے۔

یہ ہے قاتلانِ حسینؓ شعوبی اہل کوفہ کی تصویر کا ایک رخ جو قتلِ حسین رضی اللہ عنہ کے واقعہ کو شکوک و شبہات اور کذب و زُور کی گرد سے اَٹ دینے کے لیے اپنی ساری طاقتیں خرچ کر رہے ہیں، تاکہ خود کو اور اپنے امیر ابن مرجانہ کو خونِ حسین رضی اللہ عنہ کے جرم کے الزام سے بچا سکیں۔

اگر ابن مرجانہ کی پرورش و تربیت، اس کے کوفی مکاتب فکر سے استفادہ، اس کے مجوسی و ایرانی ماموؤں اور بعض عربی الفاظ کو ایرانی تلفظ میں ادا کرنے کی خو کی (جیسا کہ ابن مرجانہ ’’حروری‘‘ (حروری: حروراء کی طرف نسبت ہے۔ کوفہ کے قریب ایک بستی کا نام جہاں خوارج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف سب سے پہلا اجتماع کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ کرنے پر اتفاق و اتحاد کیا تھا) کو ’’ہروری‘‘ اور ’’حسین‘‘ کو ’’ھسین‘‘ پڑھتا تھا) قرار واقعی معلومات حاصل کی جائیں، تو یہ حقیقت آشکارا ہو گی 

صفحہ 3 از 5