سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا نزول سرزمین کربلا میں…

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا نزول سرزمین کربلا میں شیعی روایات کی روشنی میں

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 5

تو بات چل رہی تھی، ابن زیاد کے عیار و مکار اور بد باطن حواریوں کی جنہوں نے ابن زیاد کو اکسا اور بھڑکا کر اس بات پر آمادہ کر لیا کہ ابن زیاد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی تینوں پیش کشوں کو ٹھکرا دے۔ یوں امت مسلمہ کی تاریخ کے اس فیصلہ کن موقعہ پر اشرار فجار کی رائے ابرار اخیار کی تجاویز پر غالب آ گئی۔ بے شک اس موقعہ پر امت مسلمہ کی صلاح و فلاح صلح اور مصالحت میں تھی۔ جس میں باہمی الفت و مودت، صفوں کے اتحاد اور خونِ مسلم کی حفاظت کی ضمانت تھی، جو اخوت، باہمی تعاون و تناصر اور ہمدردی و غم گساری کے ثمرات لاتی اور کتاب و سنت کے دشمنوں پر امت مسلمہ کی صفوں میں داخل ہونے کے سب دروازوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیتی۔ لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض رکھنے والے امت مسلمہ کے اتفاق و اتحاد کو ٹھنڈے پیٹوں کیونکر قبول کر سکتے تھے؟ اور قدم قدم پر امت مسلمہ کے پیروں کو پھسلانے کے لیے مکر و فریب کے کیچڑ پھیلانے سے کیونکر باز آ سکتے تھے؟ بالخصوص جب کہ امت مسلمہ کی اکثریت جاہل اور ان کی دسیسہ کاریوں اور ریشہ دوانیوں سے غافل اور ان کی زیر زمین سازشوں سے لاعلم و بے خبر بھی ہو؟ تاریخ گواہ ہے کہ یہ نامراد طبقہ ان نالائق کاموں میں من چاہے نتائج تک صرف اس لیے پہنچا کیونکہ اس ثقافت کا فقدان تھا، جو ان سے ہوشیار کرتی اور وہ ظاہری منہج غیر موجود تھا جو ان کے جرائم گنواتا بھی اور دکھلاتا اور سمجھاتا بھی۔

ایسی کتابیں شاذ و نادر لکھی گئیں جو امت مسلمہ کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ان قاتلوں کے مکر و فریب سے آگاہ کرتیں اور آج بھی ایسے خطیبوں، قلم کاروں اور تبصرہ نگاروں کی شدید قلت بلکہ فقدان ہے جو امت کی صحیح منہج پر تعلیم و تربیت کریں اور بالخصوص اس اسلام دشمن، اولاد انبیاء کے قاتل اور آل بیت رسول کے غداروں کی غداری اور عیاری سے عامۃ الناس کو باخبر کریں۔

تاریخ کا طالب علم اس بات کا بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے کہ سبائیت کا یہی خفیہ ہاتھ ہے، جو یہود و ہنود کے روپ میں چہرے بدل بدل کر سامنے آتا ہے اور امت مسلمہ کے ماضی اور حال سے کھیلتا چلا آیا ہے اور اس کے مستقبل سے بھی کھلواڑ کر رہا ہے۔

ان کوفیوں کے پاس ایک ایسی پہیلی نما ثقافت اور عقیدہ ہے جس کی بنیاد امت کے ابرار و اخیار، سلف صالحین اور ائمہ و اکابر پر لعن طعن اور سب و شتم پر ہے۔ ملت اسلامیہ کے مسلمہ متقی و پرہیزگار قائدین کے خلاف اشتعال انگیزی اس سبائیت کا رکن اعظم ہے۔ دین اسلام کے خلاف شکوک و شبہات کی گرد اڑانا اس کا کارِ منصبی ہے۔

چونکہ ان لوگوں کو امت مسلمہ کے فکر و عقیدہ سے برسر پیکار ہونے والے ہر انسان کے ساتھ ایک ازلی اور طبعی مناسبت ہے، اس لیے یہ ہر جگہ اپنے مطلب کے لوگ ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ ایسا ہی سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی ہوا کہ جب ان عیاروں نے جھوٹے خطوط لکھ کر جناب حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو کوفہ میں بلوا لیا، تو آگے ان بے یار و مددگار مسافرانِ حق کو کسی فتنہ پرداز کے ہاتھوں میں دے دینے میں بھی انہیں خاطر خواہ کامیابی مل گئی اور ابن زیاد کی صورت میں زمانے بھر کا ایک احمق ان کے ہاتھ لگ گیا۔ چنانچہ انہی کوفیوں نے کوفہ کے امیر مرجانہ فارسیہ کے سپوت ابن زیاد کو خوب بھڑکایا اور اسے ایسا شیشے میں اتارا کہ بالآخر اس نے سبطِ رسول کے خون سے ہاتھ رنگنے کی ناپاک جسارت کر ڈالی۔

ابن زیاد کی حماقت، اس کے مشیروں کی عاقبت نا اندیشی اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر بے جا جرأت نے کوفیوں کے اس مذموم مقصد کی راہ ہموار کی۔

یاد رہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کسی قسم کی جرأت صرف وہی کر سکتا ہے جو پرلے درجے کا کوڑھ مغز، بے بصیرت، ادب و اخلاص سے بے بہرہ، عقیدہ و نیت کا کھوٹا اور علم و عمل میں شدید کج روی کا شکار ہو۔ بظاہر چاہے وہ صوم و صلوٰۃ اور شعائر دینیہ کا کتنا ہی پابند اور ان پر عامل کیوں نہ ہو۔ کیونکہ ایسا شخص خیالی سینگوں کے ساتھ پہاڑ کو ٹکریں مار کر پاش پاش کرنا چاہتا ہے۔ بلاشبہ ایسا شخص حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر جرأت کا مرکز اور ابن زیاد کی ثقافت کا پیرو ہے۔

یہ کہنا کسی طور پر بھی بے جا اور بے محل نہ ہو گا کہ خونِ حسین بن علی رضی اللہ عنہما میں انہی دشمنانِ صحابہ کا ہاتھ ہی تھا، جنہوں نے کل اسی شیخی و عداوت کے جذبہ کے تحت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو ان کی اہلیہ نائلہ بنت الفرافصہ کے سامنے شہید کر دیا تھا۔

یہی وہ کینہ پرور جذبہ تھا، جو قتل حسین پر بھی ٹھنڈا نہ ہوا تھا۔ اسی لیے قتل کے بعد نوجوانانِ جنت کے اس سردار کا سر بھی تن سے جدا کر دیا گیا۔ ایسی گھٹیا حرکت صرف وہی کینہ پرور کمینہ ہی کر سکتا ہے، جو اس سے قبل حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے خونوں سے بھی اپنے ہاتھ رنگ چکا ہو اور یہ نمائندہ کردار رافضیت و سبائیت کا ہے جس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جان لینے سے اپنے جذبۂ انتقام کا آغاز کیا اور انتہا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی جان لے کر کی۔

ابن زیاد اس نمائندہ رافضیت و سبائیت کا آلۂ کار تھا، جس نے قتل حسین پر ہی اس وقت اصرار کیا جب اس مسئلہ کا حل صرف یہی نہیں تھا۔ بلکہ اس کے سامنے تین صورتیں اور بھی تھیں اور صلح کے جملہ وسائل بھی میسر تھے اور رب تعالیٰ کا بھی یہی ارشاد ہے:

وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ (النساء: آیت 128) ’’اور صلح بہتر ہے۔‘‘

یہ بدترین دشمنی اور جارحیت ان نادیدہ ہاتھوں کا پتا دیتی ہے جو گناہ لے کر لوٹے اور سازشوں کے ان تانوں بانوں کو واضح کرتی ہے، جن کو امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور نبی کریمﷺ کے پھول سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے خون بہانے میں استعمال کیا گیا۔ بالخصوص جبکہ ان دونوں جرائم کا ارتکاب کرنے سے صلح اور باہمی افہام و تفہیم کے جملہ وسائل میسر تھے۔

پھر یہ صلح صرف امت مسلمہ کے حق میں ہی مصلحت نہ تھی بلکہ خود ابن زیاد احمق کے حق میں بھی نہایت

صفحہ 2 از 5