سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا نزول سرزمین کربلا میں…

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا نزول سرزمین کربلا میں شیعی روایات کی روشنی میں

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 1 از 5

عبدالرزاق موسوی المقرم لکھتا ہے: ’’ حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) کا کربلا میں نزول محرم 61 ہجری کو ہوا۔‘‘ (مقتل الحسین للمقرم: صفحہ 193)

عباس قمی لکھتا ہے:

’’جان لو کہ حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) کے میدانِ کربلا میں فروکش ہونے کے دن میں اختلاف ہے۔ صحیح تر قول 2 محرم 61 ہجری کا ہے۔ جب آپ میدانِ کربلا پہنچے تو پوچھا: ’’یہ کون سی سرزمین ہے؟ عرض کیا گیا: ’’یہ کربلا ہے۔‘‘ تو آپ نے فرمایا: ’’اے اللہ! میں کرب اور بلا سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘ (منتہی الآمال: جلد، 1 صفحہ 471)

محمد تقی آل بحر العلوم لکھتا ہے کہ اربابِ سیرو قتال لکھتے ہیں:

’’حسین علیہ السلام جب کربلا اترے، تو آپ نے اپنے اصحاب اور آلِ بیت کو جمع کیا اور ان میں کھڑے ہو کر خطبہ دیا۔ حمد و ثنا کے بعد فرمایا:

’’اما بعد! ہم پر جو مصیبت اتری ہے، وہ تم لوگ دیکھ ہی رہے ہو۔ دنیا بدل گئی، اوپری ہو گئی اور اس کی نیکی نے پیٹھ پھیر لی۔ یہ دنیا جلد ختم ہو گئی اور اس کے چاہنے والوں کو کچھ نہ ملا اور اس میں صرف اتنا باقی رہ گیا جتنا برتن کے پیندے میں اس کے خالی کرنے کے بعد رہ جاتا ہے اور زندگی کسی پراگندہ آب و ہوا والی جگہ کی طرح بے حد بے وقعت ہو گئی ہے۔ کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ حق پر چلا نہیں جا رہا، باطل سے رکا نہیں جا رہا تاکہ ایک مومن کو اپنے رب سے ملاقات کی تمنا ہو، پس اب تو میرے نزدیک موت میں سعادت اور ظالموں کے ساتھ زندگی گزارنے میں نری اکتاہٹ ہے۔‘‘ (مقتل الحسین لبحر العلوم: صفحہ 263)

دکتور احمد راسم نفیس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی اس تقریر کو نقل کرتا ہے، (یہ تقریر علامہ طبرسی شیعی کی ’’الاحتجاج: جلد، 2 صفحہ 24‘‘ سے معمولی اختلاف کے ساتھ نقل کی گئی ہے) جس میں آپ اپنے ان شیعہ کو رب کا واسطہ دیتے ہیں، جنہوں نے آپ کو کوفہ آنے کی دعوت دی تاکہ آپ کی مدد کریں، لیکن بعد میں آپ کا ساتھ چھوڑ گئے۔ چنانچہ احمد راسم نفیس لکھتا ہے:

’’قوم نے آپ کو پریشان کرنا شروع کر دیا تاکہ آپ ان تک حجت نہ پہنچا سکیں اور نہ ان پر حجت قائم کر سکیں جس پر آپ نے انہیں غصہ ہو کر یہ کہا:

’’اگر تم لوگ ذرا دیر کو خاموش ہو کر میری بات سن لو تو اس میں کیا حرج ہے؟ میں تم لوگوں کو راہِ ہدایت کی طرف بلا رہا ہوں۔ پس جس نے میری بات مانی وہ ہدایت پانے والوں میں سے ہو گا اور جس نے میری بات نہ مانی وہ ہلاک ہونے والوں میں سے ہو گا۔ اب تم لوگوں کا حال یہ ہے کہ تم سب کے سب میرے امر کے نافرمان اور میری بات کو سننے سے گریز کرنے والے ہو۔ تمہاری تنخواہیں حرام سے گراں بار اور تمہارے پیٹ حرام سے بھرے ہیں۔ اللہ نے تمہارے دلوں پر مہریں لگا دی ہیں ۔ تم لوگوں کی ہلاکت ہو! تم لوگ خاموش ہو کر میری بات کیوں نہیں سنتے؟‘‘ اس پر لوگ خاموش ہو گئے، تب آپ نے فرمایا:

’’اے (کوفی) جماعت! تمہاری ہلاکت ہو، وہ وقت یاد کرو جب تم لوگوں نے پکار پکار کر اور گڑگڑا کر ہمیں مدد کے لیے پکارا تھا۔ پھر جب ہم تمہاری مدد کو کمربستہ ہوئے تو تم لوگوں نے ہماری گردنوں پر تلواریں سونت لیں۔ تم لوگوں نے ہم پر فتنوں کی اس آگ کا ایندھن اکٹھا کیا جو ہمارے اور تمہارے مشترکہ دشمن نے چنا تھا۔ پس تم اپنے دوستوں کے خلاف ہو گئے اور ان کے خلاف ان کے دشمنوں کے دست و بازو بنے، جبکہ تم لوگوں نے عدل کو چھوڑا اور حرام دنیا کی آرزو رکھی اور خسیس زندگی کی طمع کی۔ تمہارا ناس ہو، بے شک تم اس امت کے طاغوت، حق جماعتوں سے منحرف، کتاب اللہ کو پھینک مارنے والے، شیطان کی پھونک، گناہوں کی پشت پناہ، کتاب اللہ کے مجرم، سنتوں کو مٹانے والے اور پیغمبروں کی اولادوں کے قاتل ہو۔‘‘ (علی خطی الحسین: صفحہ 130-131)

مذکورہ مصنف نے جن الفاظ کو نقل کیا ہے، ان کے اصل خطبہ کو ان کے شیخ علی بن موسی بن طاؤس نے روایت کیا ہے (اللہوف: صفحہ 58) اور آگے اس خطبہ کو عبدالرزاق مقرم، (مقتل الحسین: صفحہ 234) فاضل عباس حیاوی، (مقتل الحسین: صفحہ 16) ہادی نجفی، (یوم الطف: صفحہ 28) حسن صفار، (الحسین و مسؤولیۃ الثورۃ: صفحہ 61) محسن الامین، (لواعج الاشجان: صفحہ 97 یہاں کی عبارت بتلاتی ہے کہ ان کوفیوں نے نہ تو بات کی اور نہ سنی) عباس قمی (منتہی الآمال: جلد، 1 صفحہ 487) اور دوسرے متعدد شیعہ مصنّفین نے نقل کیا ہے۔ (معالم المدرستین: جلد، 3 صفحہ 100 کربلا، الثورۃ و الماسأۃ للمحامی احمد حسین یعقوب: صفحہ 283-284)

قارئین کرام!  دیکھ لیجیے کہ جناب سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے اپنے شیعوں کو کن صفاتِ محمودہ و ستودہ کے ساتھ یاد کیا ہے!

٭ تمہاری تنخواہیں حرام سے گراں بار ہیں۔

٭ تمہارے پیٹ حرام سے بھرے ہیں۔

٭ اور اللہ نے تمہارے دلوں پر مہریں لگا دی ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کر لیجیے کہ یہ نواسۂ رسولﷺ کے وہ شیعہ ہیں جنہوں نے بڑے اصرار اور بے قراری کے ساتھ انہیں کوفہ آنے کی دعوت دی اور پھر کمال ڈھٹائی سے ان کا ساتھ بھی چھوڑ دیا اور ان کے گرد فتنوں کے الاؤ جلا دئیے۔

بے شک یہ لوگ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی زبانی:

٭ امت کے طاغوت

٭ حق پرستوں سے منحرف

٭ کتاب اللہ کو ٹھکرانے والے

٭ گناہوں کے پشت پناہ

٭ کتاب اللہ کے مجرم

٭ سنتوں کو مٹانے والے اور

٭ پیغمبروں کی اولادوں کو قتل کرنے والے ہیں۔

اب ہم اپنی گزشتہ بحث کی طرف لوٹتے ہیں۔

صفحہ 1 از 5