سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا میدان کربلا میں کوفیوں…

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا میدان کربلا میں کوفیوں کے سامنے تین باتیں پیش کرنا

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 2

چنانچہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے روبرو تنقیدیں سنیں، برملا طعن و تشنیع سنی، سب کو کھل کر بولنے کا موقعہ دیا، سب کا موقف سنا، معارضین کے اعتراضات پر توجہ دی، مگر یہاں سوائے صبر و برداشت کے اور کچھ نہ تھا، نہ اسلحہ نہ تلوار، بس کرم ہی کرم تھا۔ چنانچہ آپ نے سب کو راضی کیا، زیادتیوں کو برداشت کیا، جفاؤ ں کو سہا، تلخی و ترشی کو جھیلا اور سب کی لغزشوں سے درگزر کیا۔ جس کے نتیجہ میں ایک بے مثال اسلامی حکومت وجود میں آئی جس میں فتنہ پروروں کو پر مارنے کی جرأت نہ ہوتی تھی اور نہ انہیں سر چھپانے کو جگہ ہی ملتی تھی۔

کہاں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جیسا عظیم مدبر اور حلیم و کریم انسان اور صحابی رسولﷺ اور کہاں ابن زیاد جیسا بے بہرہ انسان جس نے باطنیت اور حقد و مکر میں غرق اور کینہ و نفرت سے لتھڑی رافضی اور سبائی کوفی فضاؤ ں میں پرورش پائی تھی۔ کیا ایسے انسان میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حلم و کرم کی پاکیزہ صفات کی ادنیٰ سی جھلک بھی پائی جا سکتی تھی۔ کیا اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے تدبر و سیاست کی پرچھائیاں نظر آ سکتی تھیں؟ کیا اس میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عفو و درگزر کی خوئے طیبہ کے آثار مل سکتے تھے؟ کیا ابن زیاد میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی صلح جوئی کی عظیم ترین صفت کے نشانات مل سکتے تھے؟!!

ہرگز نہیں!

یہاں صبر و برداشت، کرمِ نفس اور عفت لسان کا دُور دُور تک نشان نہ ملتا تھا۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ ابن زیاد کوفہ میں پیش آنے والے پہلے ہی امتحان میں بری طرح ناکام ہو گیا۔ چنانچہ اس نے بے سوچے سمجھے اور خانوادۂ رسول پر کمال جرأت کرتے ہوئے ابن عقیلؓ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لیے اور اس نالائق اقدام میں اس قدر تیزی دکھلائی کہ ذرا دیر کو بھی یہ نہ سوچا کہ کیا اس مشکل کا حل تلوار کے استعمال کے بغیر بھی ممکن ہے؟!!

ابن زیاد نے دوسری اور بدترین ناکامی یہ دکھلائی کہ جن بدباطنوں نے اسے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ صلح کر لینے کے فرضی خوفناک نتائج سے ڈرایا، ابن زیاد آنکھ بند کر کے ان کینہ پروروں کے پیچھے ہو لیا اور ان کوفیوں کے اس مشورہ کو بلا تامل قبول کر لیا کہ سیّدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی صلح کی تمام تر پیش کشوں کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیا جائے، اور سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے جس سمع و طاعت اور صلح و جماعت کی پیش کش کی ہے اسے ہرگز بھی درخورِ اعتنا نہ سمجھا جائے۔

چنانچہ ان کوفیوں نے ابن زیاد کو یہ کہہ کر ڈرایا:

’’کیا آپ ان سے صلح قبول کرتے ہیں، حالانکہ اس وقت وہ آپ کی زیر ولایت سرزمین پر فروکش ہو چکے ہیں؟ اللہ کی قسم! اگر آج آپ نے انہیں اپنے علاقہ میں سے اس حال میں جانے دیا کہ انہوں نے اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں نہیں دیا تو یاد رکھئے! یہ اس سے بھی زیادہ طاقت اور قوت کے ساتھ ابھر کر آپ سامنے آئیں گے ‘‘

چنانچہ ان ناہنجاروں نے تینوں میں سے کسی ایک بات کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا اور شرط لگا دی کہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما واپس جانے یا شام جانے سے قبل ایک بار عبیداللہ بن زیاد کے پاس ضرور آئیں گے، پھر جو ابن زیاد نے مناسب سمجھا وہ کرے گا۔ وگرنہ انہیں نہ تو مدینہ جانے دیا جائے گا، نہ شام، اور نہ کہیں اور۔

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے ابن زیاد اور اس کے حواریوں کی اس بات کو ماننے سے صاف انکار کر دیا، جس پر کوفی سبائی لشکر نے آپ سے قتال شروع کر دیا اور بالآخر آپ کو شہید کر دیا۔ (تاریخ الطبری: جلد، 3 صفحہ 313 البدایۃ و النہایۃ: جلد، 6 صفحہ 232 تاریخ ابن عساکر: جلد، 45 صفحہ 52 تاریخ الاسلام: جلد، 1 صفحہ 603)

ان بدبختوں میں سب سے پیش پیش شمر بن ذی الجوشن کوفی تھا۔ بلاشبہ یہ اعدائے صحابہ تھے اور ان کا عہد و وفا اور اصحاب و آل رسول کی حرمت سے کیا واسطہ؟!!

واقعات کا سلسلہ آگے بڑھانے سے قبل سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے میدان کربلا میں نزول اور ما بعد کے واقعات سے متعلقہ باتوں کو کتب شیعہ کے حوالے سے بھی پڑھ لیا جائے تاکہ امت کے سامنے منافقین کی تصویر کا ہر ہر رخ سامنے آتا رہے۔


صفحہ 2 از 2