مناظرہ ابن سبا یہودی کے  پس منظر میں مختصر گفتگو ( رانا…

مناظرہ ابن سبا یہودی کے  پس منظر میں مختصر گفتگو ( رانا سعید شیعہ اور مختار احمد اہل سنت)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3

تین متقدمین علماء نے ذاتی رائے دی ہوتی تو اس کی تردید بھی دیگر روایات اور اقوال سے کی جاتی ہے، جبکہ ان تمام اقوال میں تینوں علماء نے باخبر ذریعے(اہل علم)  کو بیان کیا ہے۔  اس کے علاوہ اوپر تین صحیح روایات بھی عبداللہ ابن سبا کے متعلق انہی علماء نے بیان کی ہوئی ہیں۔ 

رانا سعید شیعہ کے 23 دلائل میں کثیر تعداد  ضعیف روایات کی تھیں  اور جو روایات صحیح تھیں ان سے  شیعہ استدلال باطل تھا۔ 

  مختار احمد اہل سنت عالم: جناب رانا صاحب ! قریشی صاحب کے ساتھ آپ کی گفتگو کا عنوان دوباتیں تھیں ابن سباافسانہ یا حقیقت ہے، دوسری بات شیعہ بنیادی عقائد کا موجد ابن سبا ملعون ہے۔

پہلی بات آپ آپ نے تسلیم کرلی کہ  عبداللہ ابن سبا افسانہ نہیں ایک حقیقت ہے۔ دوسری بات کہ شیعہ عقائد کاموجد ابن سبا ملعون ہےاس بارے میں آپ نے کہا کہ یہ عقائد اس کے ہوسکتے ہیں پر وہ شیعہ عقائد کا بانی نہیں،  

اس پر سنی مناظر نےاپنے دعویٰ کےمطابق آپ کے معتبرعلما کی تحریریں بحوالہ بطور ثبوت پیش کیں۔ 

اس کےجواب میں  آپ نے بار بار ایک ہی بات کی  کہ یہ صحیح نہیں،  مگر  ان کےصحیح نہ ہونے پر کوئی دلیل پیش نہیں کی بلکہ یہ کہہ کر دلیل دینے سے انکاری ہیں کہ سنی مناظر صحیح دلیل پیش نہیں کرسکے،  اس لیےان کا دعویٰ ہی باطل ہو گیاہے۔! 

جب کہ شرائط کی رو سےآپ کو سنی مناظرکے ثبوت کارداپنی رائے کے بجائے اپنےجید علما کےحوالےسے

کرناتھا۔

آپ نےسنی کتب سےالزامی جواب دینے کی جو ناکام کوشش کی اس کا ذکر بھی بار بار  کررہےہیں اس سے  پہلےآپ پرلازم تھا کہ  تحقیقی جواب دیتےجیسا کہ شرائط میں یہ بات طے تھی۔ کیاوجہ ہے کہ سنی مناظر کے بار بارکے مطالبےکے باوجود  آپ اپنے ہی عقائد پر کوئی ایک  دلیل اپنی ہی کتب سے نہیں دےسکے ؟ 

جبکہ اس سے سنی مناظر کےدعوے کارد بھی ہوجاتااورشیعہ کے بنیادی عقائد بھی ثابت ہوجاتے۔

   رانا سعید شیعہ: حضرت جب اہل سنت کا دعویٰ ہی باطل کر دیا گیا تو بات ختم ۔ فرمائشی پروگرام کرنے نہیں آئے تھے ہم ۔ آپکا وہ باطل دعویٰ  زمین بوس کرنے آئے تھے جس کے پرخچے اڑا دیئے گئے اور آپ کے قریشی صاحب گفتگو سے فرار ہونے میں ہی عافیت سمجھتے ہوئے بھاگ نکلے بہانے لگا کر۔

رانا سعید شیعہ کی خباثت کی کوئی انتہا نہیں ہے!!

رانا سعید شیعہ اہل سنت دلائل کے سامنے بے بس ہوکر فرمائشی دلیل خود مانگتے رہے کہ ابن سبا کی زبان سے عقائد ثابت کئے جائیں!!  اور دوران گفتگو خود اللہ عزوجل کی  قسمیں کھا کر یہ بھی کہتے رہے کہ اصولی طور پر میں شیعہ کتب سے اپنے عقائد ثابت کرنے کا پابند ہوں!!

 اسی  کے متعلق ایک اور ممبر مختار صاحب  نے اسے کہا  کہ اپنے عقائد اپنی کتب سے ثابت کرو تو یہ مطالبہ اسے فرمائشی پروگرام لگ رہا ہے!!

 مختار احمد اہل سنت عالم:   بالفرض مان لیتاہوں قریشی صاحب بقول  آپ کے ابن سبا سے آپکے عقائد پر دلیل نہیں دےسکے۔راناصاحب یا اہل تشیع کو کیا مسئلہ ہے وہ اپنے عقائد پر اپنی کتب سے کوئی صحیح دلیل کیوں پیش نہیں کرتے؟  

صاف مطلب ہے کہ کوئی صحیح دلیل ہےہی نہیں ،  ہوتی تو کیوں نہ پیش کرتے ۔کیا اپنے عقائد پر دلیل پیش کرنا شرم و حرج کی بات ہے؟

   رانا سعید شیعہ: محترم آپ کے مناظر اعظم حضرت مفتی مولانا ممتاز حسین قریشی صاحب مصنف کے ذاتی قول اور نقل قول میں تمیز کرنے کی بھی اہلیت نہیں رکھتے تو ہم اس جہالت پر آپکے مناظر کو صرف اصول یاد تو کر وا سکتے ہیں مگر ان کو اصول پر چلوانا تو میرا کام نہیں تھا ۔ 

ان کی دلائل کا مکمل انحصار ایک ایسے قول پر ہے جو کہ بعض اہل علم کا ہے اور وہ بعض اہل علم امام علی ع کے زمانہ کے لوگ تھے ۔ اول تو کشی ، نوبختی اور اشعری قمی سے لے کر ان بعض مجہول اہل علم تک کی سند پیش کرنا ان پر قرض ہے،  دوسرا  ان اہل علم کے نام و مرتبہ کو دکھانا ان پر قرض ہے ۔ تیسرا یہ کہ جب خود اہلسنت کے ہاں امام علی ع کو رسول اللہ ﷺ  کا وصی تسلیم کیا گیا ہے،  تو محترم ان کا دعویٰ  تو سرے سے ہی زمین بوس ہو گیا کہ وصی رسول کے عقیدہ کا موجد ابن سبا تھا ۔ کیا آپکے علماء بھی ابن سباء کے پیرو کار اور مریدین تھے ۔ ؟

   مختار احمد اہل سنت عالم :  جناب رانا صاحب! قریشی صاحب کے ساتھ مکالمہ میں آپ کس طرح اصولوں کے پابند ہو کر چلیں ہیں  وہ سب پر عیاں ہے۔ آپ کے کہہ دینےسےتو قریشی صاحب  کے دیےگے دلائل کا رد نہیں ہو گیا کہ بس آپ نے کہہ دیا اور رد ہوگیا۔ حضرت علی المرتضی کے زمانہ کے اہل علم کے قول کو آپکے معتبر علماء میں سے کس  نےباطل کہا ہے؟ آپکے معتبر علماء جن لوگوں  کو حضرت علی المرتضیٰ کےدور کے اہل علم کہہ کر ان کا قول نقل کریں ،انکامقام و مرتبہ آپ اہل سنت سے پوچھ  رہے ہیں!!!    کیا ان کو اہل علم کہنےوالے جھوٹے تھے یاان کے قول کا رد کیاہے؟کیا اہل تشیع کے ہاں انکی بات قبول نہیں کی جاتی؟ آپ مکالمہ میں کوئی ایسی دلیل دے کر قریشی صاحب سےان کی حیثیت پر وضاحت طلب کرتے تب بھی کوئی بات  تھی۔

کہنے کو تو آپ کہ رہے ہیں کہ قریشی صاحب کا دعویٰ زمین بوس ہوگیا، آپ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ انکے دعویٰ کی اس بات  کو آپ نےتسلیم کرلیا کہ ابن سبا ملعون افسانہ نہیں،  ایک حقیقت ہےبلکہ یہ بھی مانا ہے کہ ابن سبا دعویٰ میں ذکر کیے گے عقائد کا حامل اور نقل کرنے والابھی ہوسکتاہے۔

قریشی صاحب کے بار بار کے مطالبے کے باوجود آپ اپنے عقائد پر کوئی صحیح دلیل پیش نہیں کرسکے، اپنی کتب سے اپنے عقائد پر دلیل دینے کو آپ فرمائشی پروگرام کہ رہے ہیں۔  تحقیقی جواب تو آپ دے نہیں سکے اور آئندہ بھی کوئی امکان نظر نہیں آتا، پھر بھی کہ رہے ہیں قریشی صاحب گفتگو سے فرارہو گئے  ہیں !!

یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ اہل سنت کے ہاں حضرت علی المرتضیٰ کو رسول اللہﷺ  کا وصی تسلیم کیاگیا ہے! سوالیہ انداز میں یہ بھی کہ رہے ہیں کہ اہل سنت کےعلماء ابن سبا کے پیروکار اور مرید ہیں!! جبکہ  بقول آپ کے ابن سبا اہل تشیع کے بنیادی عقائد کا حامل اور نقل کرنے والا  بھی ہوسکتا ہے۔ کیا اس سے واضح نہیں ہو رہا کہ ابن سبا ملعون کے مرید اور پیروکار کون ہوسکتے ہیں ؟

صفحہ 2 از 3