شریک بن سجماء رضی اللہ عنہ نے زنا کیا۔ (اسد الغابہ) 2 عمرو…

شریک بن سجماء رضی اللہ عنہ نے زنا کیا۔ (اسد الغابہ) 2 عمرو بن حمزہ رضی اللہ عنہ اسلمی نے زنا کیا۔ (اسد الغابہ) 3_ خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نے مالک بن نویرہ کی بیوی سے زنا کیا، رجم کرنے کا حکم۔ (کتاب المختصر فی اخبار البشر) 4 خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نے ایک مسلمان کو قتل کرنے کے بعد اسی رات اس کی بیوی سے زنا کیا۔ (کتاب الاصابہ فی تمیز الصحابہ)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 2 از 2

اب اگر عقل پر پردے پڑ جائیں تو علاج کوئی نہیں ورنہ سچ یہ ہے کہ بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق کا نام زنا نہیں ہے۔ شیعہ لوگوں کا مزاج بھی عجیب و غریب ہے متعہ کے نام پر زنا کی کھلے بندوں اجازت ہے مگر اپنی بیوی سے جو شخص ضرورت پوری کرے تو ان کی نظر میں وہ زانی ہے اور حد لگانا ضروری ہے۔ خُدا ناس کرے حسد کا، ایسا مرض ہے کہ جِس کو لگ جائے اس کی عقل کو ایسا ماؤف کر دیتا ہے کہ حق و باطل میں تمیز نہیں رہتی ۔ 

4_یہ اعتراض بھی بے جا اور سراسر غلط ہے کہ ایک طہر جو کہ قیدی عورت کے استبرا کے لیے شریعت نے مقرر فرمایا ہے یہ بھی نہ گُزرا تھا کہ خالد رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے اس عورت سے مباشرت کر ڈالی۔ درست یہ ہے کہ خالد رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے مذکورہ عورت سے ایک طہر کی مدت تک کوئی ازدواجی تعلق قائم نہیں کیا چنانچہ آپ عکسی صفحہ پورا کا پورا ملاحظہ فرما لیں پورے صفحہ میں یہ دونوں باتیں بالکل نہیں۔ 

(1۔) اسی رات 

(2۔) بلا عدت۔ 

بلکہ اسی عکسی صفحہ کی آڑ بنا کر شیعہ لوگوں نے اپنے اندر کی بھڑاس نکالی ہے ورنہ سچ یہی ہے کہ حضرت خالد رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے ایک طہر گزرنے کے بعد ازدواجی تعلق قائم کیا تھا۔ ملاحظہ ہو: وتركها ينقضي طهرها ۔ 

"کہ اس عورت کو چھوڑے رکھا۔" (کوئی ازدواجی تعلق قائم نہیں کیا) یہاں تک کہ ایک طہر اس کا گزر گیا۔ 

(تاریخ لابن الاثیر الطبری جلد 3 صفحہ 278، طبع جدید مصر)

لہٰذا قبل از طہر ازواجی قائم ہی نہیں کیا تو اعتراض کرنے کا کیا جواز بنتا ہے۔ 

کرم فرماؤں نے مذکورہ مقام پر جو اعتراض اٹھایا اس کا ضروری جواب تو ہو گیا تفصیلی جواب کا موقع اس لیے نہیں کہ کتاب کا طول بڑھتا جا رہا ہے جبکہ راقم اختصار کا خواہش مند ہے۔ البتہ چند ضروری باتیں عرض کی جاتی ہیں جِن کا جان لینا فائدہ سے خالی نہیں کہ خالد رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے جِس مالک بن نویرہ کو قتل کیا تھا یہ وہی شخص ہے جِس کے گھر میں خاتم المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال پر ملال پر خوشی منائی گئی تھی۔ دف بجائی گئی۔ عورتوں نے مہندی لگائی اور لوازمِ شادی ادا کیے گئے۔ (تحفہ اثنا عشریہ) ایسے شخص کا قتل خالد بن ولید رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کی ایمانی غیرت، اسلامی حمیت اور جذبہ حب رسول صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم کا کھلا ثبوت ہے اور اس محبتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر اعتراض کرنا اور الزام دینا جِس چیز کا پتہ دیتا ہے وہ کِسی ایماندار سے ذرا مخفی نہیں، شرط یہ ہے کہ کوئی ناخن بھر انصاف کی رتی بھی ہو۔

5_۔ کتاب المختصر فی اخبار البشر صفحہ 66 عکسی صفحہ کی جِس سطر پر اعتراض کی لکیر کھینچی گئی ہے اس کا مطلب یہ ہے: (جب مالک بن نویرہ قتل ہوا تو اس کی برادری نے خاصا شور شرابہ کیا اور اس نے بوجوہ مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کی) جب یہ خبر حضرت ابوبکر صدیق و عُمَر رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہما کے پاس پہنچی تو حضرت عُمَر رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ سے عرض کیا کہ (اس خبر سے تو اندازہ ہوتا ہے کہ) خالد رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے زنا کیا ہے لہٰذا اس کو تو رجم کرنا چاہیے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے (سرسری معلومات کے بعد) فرمایا اُس نے زنا نہیں کی بلکہ اُس نے تاویل کرنے میں غلطی کی ہے۔ حضرت عُمَر رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے فرمایا: (ان بتانے والوں سے تو یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ) خالد رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے مسلمان شخص کو قتل کیا ہے تو حضرت صدیق اکبر رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے ارشاد فرمایا اس نے مسلمان کو قتل نہیں کیا بلکہ تاویل کرنے میں غلطی کی ہے (عکسی صفحہ سطر نمبر 5-6) اندازه فرمائیے جِس عبارت میں خلیفۂ وقت خالد بن ولید رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کی صاف برأت کا اعلان فرما رہے ہیں اس سے شیعہ لوگ خالد بن ولید رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کو مجرم قرار دے کر رجم کا مستحق ظاہر کر رہے ہیں جو کہ سراسر شیطانیت اور بدترین دجل ہے۔

نوٹ:- مالک بن نویرہ کے قتل اور اس کی بیوی سے زنا کے بارے میں سیف من سيوف اللّٰه خالد بن ولیدؓ پر جو الزامات رافضی شیعہ امت نے جاری کیے ہیں ان کے جوابات علامہ ابن تیمیہ، شاہ عبد العزیز محدث دہلوی، حضرت مولانا مہر محمد صاحب، حضرت مولانا محمد نافع صاحب، حضرت مولانا اللّٰه یار خاں رحمۃ اللّٰہ علیھم اور اکابرین علماء ارشاد فرما چکے ہیں ان جوابات کے باوجود رافضی شیعہ امت عوام کو بہکانے اور گُمراہ کرنے اور عوام کو پروپیگنڈے میں مبتلا رکھنے کا مشغلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔


صفحہ 2 از 2