قاضی کن دلائل پر اعتماد کرے گا - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

قاضی کن دلائل پر اعتماد کرے گا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

قرائن کا دائرہ کافی وسیع ہے قرائن کے استنباط و فہم میں قاضیوں کو مختلف زاویوں سے غور کرنا چاہیے، مثلاً مضبوط قرائن میں سے ایک قرینہ یہ ہے کہ غیر شادی شدہ عورت حاملہ ہو جائے، پس ایسی حالت میں اس کا حاملہ ہونا اس کے زانیہ ہونے کی دلیل ہے۔ اسی طرح مدت حمل سے کم مدت میں ولادت ہونا بھی اس کے زانیہ ہونے کی دلیل ہے اور قرائن کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ دو مردہ لاشیں ایک دوسرے کے اوپر ہوں، پس ان کا ایک دوسرے کے اوپر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ جس کی موت پہلے ہوئی ہے وہ نیچے ہے اور جس کی موت بعد میں ہوئی ہے وہ اوپر ہے، چنانچہ اسی قرینہ کا اعتبار کرتے ہوئے طاعون عمواس میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دو شہدائے طاعون میں سے جس کے ہاتھ یا پیر کو دوسرے کے اوپر دیکھا تو اوپر والے کو نیچے والے کا وارث قرار دیا، نیچے والے کو اوپر والے کا وارث نہیں بنایا۔ نیز شراب نوشی کے قوی قرائن میں سے یہ بات ہے کہ اگر آدمی قے کرے تو اس میں شراب پائی جائے، سیدنا عمرؓ نے ایسے آدمی پر شراب نوشی کی حد جاری کی جس کی قے میں شراب پائی گئی۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 735)

6۔ قاضی کا علم:

حدود و قصاص کے معاملات میں قاضی کی معلومات اس بات کی دلیل نہیں بن سکتیں کہ وہ انہی بنیادوں پر فرد متہم کے خلاف فیصلہ صادر کر دے۔ چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام تحریر کیا تھا کہ ’’حاکم اپنی معلومات، گمان اور شبہ کی بنیاد پر فیصلہ نہ کرے۔‘‘ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 735، مصنف عبدالرزاق: جلد 8 صفحہ 342)

اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہو گا اگر میں یہ کہوں کہ فلاں آدمی نے قتل کیا ہے، چوری کی ہے، یا زنا کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: تمام مسلمانوں کی طرح آپؓ کو بھی ایک گواہ شمار کروں گا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم نے بالکل صحیح کہا۔

(سنن البیہقی: جلد 10 صفحہ 44، موسوعۃ فقہ عمر، صفحہ 735)

البتہ حدود و قصاص کے علاوہ دیگر معاملات میں کیا قاضی کی اپنی معلومات اس کے فیصلہ کے لیے ان حالات میں دلیل بن سکتی ہیں، جب کہ کوئی اور دلیل نہ ہو؟ تو اس سلسلے میں حضرت عمرؓ سے مختلف روایات وارد ہیں۔

(موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 735)

معاملات میں اس قدر تحقیق و جستجو کے باوجود حضرت عمرؓ لوگوں کو ان کی غلطیوں کے اعتراف پر شاباشی دینے سے گریزاں اور اس بات کے لیے کوشاں رہتے تھے کہ وہ اپنے گناہوں کو چھپائے رکھیں اور اللہ سے توبہ کریں۔ چنانچہ شرحبیل بن سمط الکندی جب مدائن میں سرحدی افواج میں سے ایک گروہ کے ذمہ دار تھے تو خطبہ دیتے ہوئے کہا: ’’اے لوگو! تم ایسی زمین میں ہو جس میں شراب نوشی عام ہے اور عورتوں کی کثرت ہے۔ یعنی شراب و شباب کا چلن ہے، لہٰذا تم میں سے جو حد نافذ کرنے والا جرم کر گزرے وہ ہمارے پاس آ جایا کرے، تاکہ ہم اس پر حد قائم کر دیں، اس میں اس کے لیے پاکی ہے۔‘‘ جب حضرت عمرؓ کو اس خطبہ کی خبر ملی تو آپؓ نے ان کو لکھا: ’’تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ لوگوں کو اللہ کی ردائے پردہ داری کو پھاڑنے کا حکم دو، جس سے اللہ نے ان کی پردہ پوشی کی ہے۔‘‘ 

(القضاء فی خلافۃ عمر: ناصر الطریفی: جلد 2 صفحہ 862)

ہاں ضرور ہے کہ اگر لوگ اس کے جرم کو دیکھ لیں اور محکمہ قضاء تک وہ معاملہ پہنچا دیں تو بغیر کسی رواداری و مروّت کے اسلامی حکومت اس پر حد نافذ کرے گی۔ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 146)

آپؓ جب فریقین مدعی و مدعا علیہ کے درمیان فیصلہ کرنے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا کرتے تھے:

’’اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ فیصلہ لینے کے لیے جب میرے سامنے فریقین ہوں گے تو میں کسی ایک کی طرف داری کروں گا، خواہ وہ میرا قریبی ہو یا کوئی دوسرا ہو، تو پلک جھپکنے تک کی مجھ کو مہلت نہ دے۔‘‘ 

(الحلیۃ: أبی نعیم: جلد 6 صفحہ 120، الطبقات: جلد 3 صفحہ 29۔ اس کی سند صحیح ہے)


صفحہ 2 از 2