قاضی کے فرائض - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

قاضی کے فرائض

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

صرف یہی نہیں بہت سارے معاملات میں حضرت عمرؓ کے اجتہاد میں تبدیلیاں واقع ہوتی رہیں، مثلاً مسئلہ میراث میں بھائیوں کی موجودگی میں دادا کو حصہ دیتے ہیں اور حقیقی بھائیوں کو وراثت میں اخیافی بھائیوں کے ساتھ ایک تہائی 3/1 میں شریک کرتے ہیں، لیکن جب آپؓ کے اجتہاد میں تبدیلی واقع ہوتی ہے تو اس سے پہلے والے حکم کو باطل نہیں کرتے، بلکہ آئندہ پیش آنے والے واقعات میں دوسرے اجتہاد کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ گویا حق واضح ہو جانے کے بعد آپ اسی پر عمل کرتے ہیں اور اپنے پہلے فیصلہ کو باطل قرار نہیں دیتے۔ چناںچہ آپؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام خط لکھا: 

’’اگر آج تم کوئی فیصلہ کرو اور بعد میں غور و خوض کر کے اس سے بہتر فیصلہ تمہاری سمجھ میں آ جائے تو یہ پہلا فیصلہ حق کو قبول کرنے سے مانع نہ ہو، کیونکہ حق ازلی ہے، اسے کوئی چیز باطل نہیں کر سکتی۔ حق کی طرف رجوع کرنا غلطی پر اڑے رہنے سے بہتر ہے۔‘‘ 

(إعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 85)

اسی نقطۂ نظر سے حضرت عمرؓ نے دادا کی وراثت کے بارے میں مختلف مرتبہ مختلف فیصلے دیے اور ایک عورت جس کی وفات ہو گئی اس نے اپنے پیچھے ترکہ، خاوند، دو حقیقی بھائی اور اخیافی بھائی چھوڑے، تو آپؓ نے ثلث مال میں سب بھائیوں کو یکساں شریک کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ سن کر ایک آدمی نے کہا کہ فلاں فلاں سالوں میں تو آپؓ نے ایسا فیصلہ نہیں دیا تھا، تو آپؓ نے فرمایا: وہ فیصلہ اسی وقت کا تھا، آج کا فیصلہ آج کے لیے ہے۔ 

(إعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 111، موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 729)

13۔ فرد جرم ثابت ہونے تک متہم کی تہمت سے برأت:

سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں ایک قافلہ کے ساتھ سفر پر نکلا، جب ہم ’’ذی المروۃ‘‘ پہنچے تو میرے کپڑوں کا صندوقچہ غائب ہو گیا، ہمارے ساتھ ایک متہم آدمی بھی تھا، اس سے میرے ساتھیوں نے کہا: اے فلاں ان کا صندوقچہ انہیں واپس کر دے، اس نے کہا: میں نے نہیں لیا، میں لوٹ کر سیدنا عمر بن خطابؓ کے پاس گیا اور واقعہ کی اطلاع دی۔ آپؓ نے پوچھا: تمہارے ساتھ کون لوگ تھے؟ میں نے سب کو بتایا۔ آپؓ نے بھی اسی فرد متہم کے بارے میں اندیشہ ظاہر کیا میں نے کہا: امیر المؤمنین! اگر آپؓ چاہیں تو میں اس کو باندھ کر لے آؤں۔ آپؓ نے فرمایا: کیا بغیر کسی ثبوت کے تم اسے باندھ کر لاؤ گے۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 729، المحلی: جلد 1 صفحہ 132)

14۔ نص شرعی کے مقابلے میں اجتہاد کا عدم جواز:

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’جب ایسا قضیہ پیش آئے جس کا فیصلہ قرآن و سنت میں نہ ہو تو اس میں خوب خوب غور کرو، پھر معاملات کو ایک دوسرے پر قیاس کرو۔‘‘ 

(إعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 85، مجلۃ البحوث العلمیۃ: جلد 7 صفحہ 287)

یہ چند اہم چیزیں ہیں جن کا ہر قاضی کو بہرحال التزام کرنا ہے۔

15۔ قاضیوں کا خود کو قضاء کے فیصلے کے تابع کرنا:

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ پہلے باکمال انسان ہیں کہ اپنی خلافت کے دور شباب میں قاضی کے فیصلہ کے سامنے پوری رضامندی سے جھک جاتے ہیں اور فیصلہ سننے کے لیے پوری خوشی سے قاضی کے سامنے متوجہ ہوتے ہیں اور قاضی کی برحق تعریف کرتے ہیں، گو کہ فیصلہ آپؓ کے خلاف صادر ہو۔ 

(شہید المحراب: صفحہ 211)

اس کی ایک مثال یہ واقعہ ہے: 

’’آپؓ نے ایک بدوی سے ایک گھوڑے کے بارے میں بھاؤ کیا، اسے آزمانے کے لیے اس پر سوار ہوئے، لیکن سوار ہوتے ہی گھوڑا عاجز ہو کر بیٹھ گیا، حضرت عمرؓ نے فرمایا: اپنا گھوڑا واپس لو، اس بدوی نے کہا: اب واپس نہیں لوں گا، آپؓ نے فرمایا: میرے اور اپنے درمیان کسی کو فیصل بنا لو۔ اس آدمی نے کہا: شریح کو بناتا ہوں۔ چنانچہ دونوں معاملہ لے کر وہاں پہنچے، جب قاضی شریح نے معاملہ سن لیا تو کہا: اے امیر المؤمنین! آپؓ نے جو خریدا ہے اسے لے لیں، یا جتنا آپؓ نے اسے استعمال کیا اس کا عوض دیں۔ حضرت عمرؓ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فیصلہ اسی طرح دیا جاتا ہے، اور پھر ان کو کوفہ کا قاضی بنا کر بھیج دیا۔‘‘ 

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 147، شہید المحراب، صفحہ 21)


صفحہ 3 از 3