قاضی کے فرائض - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

قاضی کے فرائض

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

سیدنا عمرؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ہی کے نام لکھا: ’’ایسی حالت میں فیصلہ نہ کرو جب غصہ سے ہو۔‘‘ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: ص 726)

اور قاضی شریح کا بیان ہے کہ جب سیدنا عمر فاروقؓ نے مجھے منصب قضاء پر فائز کیا تو شرط لگائی کہ میں غصہ کی حالت میں فیصلہ نہیں کروں گا۔

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 726، لمغنی: جلد 9 صفحہ 79 )

چوں کہ سخت بھوک و پیاس بعض معاملات میں جلد از جلد فیصلہ دینے اور چڑچڑے پن کا سبب بن جاتے ہیں اس لیے سیدنا عمرؓ نے شرط لگا دی تھی کہ ’’کوئی قاضی اس وقت تک فیصلہ نہ کرے جب تک کہ کھا پی کر آسودہ نہ ہو۔‘‘ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 726، سنن البیہقی: جلد 10 صفحہ 106)

9۔ ہر اس چیز سے اجتناب جو قاضی کی حق گوئی پر اثر انداز ہو:

مثلاً رشوت خوری اور خرید و فروخت میں تاجروں کی طرف سے ملنے والی خصوصی رعایت اور ہدیہ وغیرہ قبول کرنا، چنانچہ اسی اندیشہ کے پیش نظر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے قاضیوں کو تجارت کرنے، بازار میں خود سامان خریدنے، اور ہدیہ و رشوت قبول کرنے سے منع کر دیا تھا اور اس سلسلے میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام خط لکھا کہ تم نہ کوئی سامان فروخت کرو اور نہ خریدو، نہ تجارت میں شرکت کرو اور نہ فیصلہ کرنے کے لیے رشوت لو اور قاضی شریح کا بیان ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے مجھے منصب قضا پر فائز کیا تو شرط لگائی کہ میں خود نہ کچھ فروخت کروں گا نہ خریدوں گا، اور نہ رشوت لوں گا۔‘‘ اور فرمایا: ’’رشوت لینے سے بچو، اور خواہشاتِ نفس کے مطابق فیصلہ کرنے سے دور رہو۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 727)

10۔ ظاہری دلائل و قرائن کا اعتبار:

فریقین کی نیتوں سے قطع نظر ان کے ظاہری دلائل پر اعتبار کیا جائے، چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا:

’’ہم تم کو پہچانتے تھے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم میں موجود تھے، وحی نازل ہوتی تھی اور تمہاری باتیں نیتیں ہمیں معلوم ہو جاتی تھیں، لیکن آج ہم تم کو صرف تمہاری باتوں سے پہچان سکتے ہیں، جس نے ہمارے سامنے خیر و بھلائی کا مظاہرہ کیا ہم اسے اچھا سمجھیں گے، اور جس نے برائی کا مظاہرہ کیا اسے برا جانیں گے اور اس کی وجہ سے اس سے نفرت کریں گے، اور تمہاری نیتوں کا معاملہ اللہ کے حوالہ ہے۔‘‘ 

(صحیح البخاری: حدیث 2641، سنن البیہقی: جلد 10 صفحہ 125، 150)

11۔ طرفین میں مصالحت کی کوشش:

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’مدعی و مدعا علیہ کو واپس کر دیا کرو تاکہ باہم صلح کر لیں، کیونکہ عدالت کا قطعی فیصلہ لوگوں میں کینہ و کدورت ڈالنے کا سبب بنتا ہے اگر وہ باہم ایسی صلح کر کے لوٹیں جو شریعت الہٰی کے موافق ہو تو قاضی کو چاہیے کہ اسے نافذ کر دے، اور اگر وہ شریعتِ الہٰی کے خلاف ہو تو قاضی کو چاہیے کہ اس صلح کو توڑ دے۔‘‘

آپؓ نے فرمایا:

’’صلح و مصالحت مسلمانوں کے درمیان جائز ہے مگر ایسی صلح جائز نہیں جو حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر دے۔‘‘ 

(تاریخ المدینۃ: جلد 2 صفحہ 769۔ موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: 727 )

قاضی کو چاہیے کہ خاص کر ایسے وقت صلح کرانے کی زیادہ کوشش کرے جب اس کے سامنے کوئی صحیح فیصلہ سمجھ میں نہ آ سکے، کیونکہ حضرت عمرؓ نے حضرت معاویہؓ کے نام خط لکھا:

’’جب صحیح فیصلہ تمہاری سمجھ میں نہ آ سکے تو مدعی و مدعا علیہ میں صلح کرانے کی بھرپور کوشش کرو اور اسی طرح اگر دونوں فریق قریبی رشتہ دار ہوں تب بھی صلح کے لیے زیادہ کوشش کرو کیونکہ فیصلہ ان میں باہمی کدورت ڈال دے گا۔‘‘ 

(إعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 108)

12۔ حق کی طرف پلٹنا:

جب قاضی کسی معاملہ میں کوئی فیصلہ کر دے، پھر اس جیسے دوسرے مسئلہ میں دوبارہ اجتہاد کی بنا پر اس کی سمجھ میں دوسرا فیصلہ برحق معلوم ہو تو اس کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ اجتہاد جدید کی بنا پر پہلے فیصلے کو کالعدم قرار دے دے، کیوں کہ پہلا فیصلہ پہلے اجتہاد کی روشنی میں تھا اور دوسرا فیصلہ دوسرے اجتہاد کی بنا پر ہے۔ اسی طرح اس کے بعد آنے والے دوسرے قاضی کے لیے بھی فیصلہ کو کالعدم قرار دینا جائز نہیں ہے۔ چنانچہ سالم بن ابوالجعد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں کبھی حضرت عمرؓ پر اعتراض کرنے والے ہوتے تو اس موقع پر ضرور اعتراض کرتے جب ان کے پاس نجران کے نصاریٰ اپنا قضیہ لے کر آئے تھے، اور حضرت علیؓ نے ہی نجرانیوں اور نبی کریمﷺ کے درمیان معاہدہ لکھا تھا۔ لیکن آپؓ نے ایسا نہیں کیا، چنانچہ سیدنا عمر فاروقؓ کے عہد میں نجران کے نصاریٰ کی آبادی بڑھ گئی تو آپؓ کو ان لوگوں کے بارے میں خطرہ محسوس ہوا اور ان میں باہم اختلاف بھی پیدا ہو گیا، چنانچہ یہ لوگ خود حضرت عمرؓ کے پاس آئے اور معاہدہ میں تبدیلی کا مطالبہ کیا، آپ نے بات مان لی اور تبدیلی کر دی، لیکن پھر یہ لوگ شرمندہ ہوئے اور انہوں نے کچھ دوسرا سوچا، پھر حضرت عمرؓ کے پاس آئے اور کہا کہ پہلا حکم ہی بحال کر دیں، آپؓ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر جب حضرت علیؓ کے ہاتھ میں حکومت آئی تو انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپؓ نے ماضی میں سفارش کی تھی اور تب آپؓ ہی نے اس معاہدہ کو تحریر کیا تھا، لہٰذا اسی پرانے معاہدے کو بحال کر دیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: تمہارا برا ہو، حضرت عمرؓ بالکل صحیح فیصلے پر تھے۔ 

(سنن البیہقی: جلد 10 صفحہ 120، موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 729 )

اس واقعہ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے ماضی کے فیصلہ کو توڑنے سے انکار کر دیا اور ان کے بعد حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓ کے فیصلہ کو توڑنے سے انکار کر دیا۔ 

(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: صفحہ 728)

صفحہ 2 از 3