ثانی اثنین کے مصداق سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ - دفاعِ…

ثانی اثنین کے مصداق سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ

  نقیہ کاظمی

صفحہ 1 از 3

ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ کے مصداق سیدنا صدیقِ اکبرؓ

معزز قارئین کرام!
شیعہ حضرات جہاں بغضِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بہت سارے حقائق کو جھٹلاتے وہاں پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ کے مصداق نہیں ہیں بلکہ اس کے مصداق عبداللہ بن اریقط ہیں۔
قارئین کرام! میں یہاں کوشش کروں گا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زبانی یہ بات واضح کر سکوں کہ ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ کے مصداق سیدنا صدیقِ اکبرؓ ہی ہیں۔ ان شاء اللہ۔ 
سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو اللہ نے اپنے کلامِ مجید میں ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ سے ذکر فرمایا ہے اور یہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے لئے خصوصی فضیلت اور لقب ہے مفسرین نے یہاں ثانی کے لفظ سے جناب نبی کریمﷺ کی ذات بابرکات مراد لیتے ہیں یہ اس کلمہ کا ایک مفہوم ہے لیکن ایک دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ کا لفظ سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے لئے استعمال کیا گیا ہے یعنی دو شخصوں میں سے دوسرے شخص سمیت کافروں نے نکال دیا۔ اس صورت میں ثانی سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ مراد لینا درست ہے ذیل میں ایسے قرائن پیش کیے جاتے ہیں کہ جس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے کلام اور تکلم میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ کے لقب سے یاد فرماتے تھے۔ 
اس کی چند ایک مثالیں: ان مقامات سے ظاہر اور ثابت ہو گا کہ ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ کا لقب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے حق میں صحیح تصور فرماتے تھے۔
سیدنا عمرؓ کا کلام:
سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ سیدنا عمرؓ نے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے ساتھ بیعت کرنے کے موقعہ پر ایک کلام کیا تھا اس میں آں موصوف نے آپؓ کے صفات شمار کئے:
ان ابابکرؓ صاحب رسول اللہﷺ‎ و ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ و انہ اولی المسلمین بامورکم فقوموا فبایعو الخ۔
درج ذیل مقامات پر محدثین اور اہلِ سیرت نے سیدنا عمرؓ کے خطبہ کو نقل کیا ہے ملاحظہ ہو:
(مصنف عبدالرزاق: صفحہ، 438، 437 باب بداء مرض رسول اللہﷺ)
(بخاری شریف: صفحہ، 1702 جلد، 2 کتاب الاحکام باب الاستخلاف طبع نور محمد)
(المصنف لابنِ شیبہ صفحہ، 566 جلد، 14 باب ماجاء فی خلافۃ ابی بکرؓ)
(سیرتِ ابنِ ہشام: صفحہ، 661، 600 جلد، 2 تحت خطبہ عمرؓ قبل ابی بکرؓ عند البیعت عامہ)
سیدنا ابو عبیدہؓ کا قول:
سیدنا عمرؓ نے آنجنابﷺ‎ کے وصال پاک کے بعد بیعت کے معاملہ میں سیدنا ابوعبیدہ بن الجراحؓ کو بیعتِ خلافت کے لئے آمادہ کرنا چاہا تو سیدنا ابوعبیدہؓ نے فرمایا: 
اتبا یعنی وفیکم الصدیقؓ و ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ۔
ترجمہ: یعنی تم میرے ساتھ بیعت کرنا چاہتے ہو حالانکہ تم میں الصدیقؓ اور ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ موجود ہیں۔
(طبقات ابنِ سعد صفحہ، 128 جلد، 3 کنزالعمال لعلی متوی الہندی صفحہ، 140 جلد، 3 طبع اول دکن)
سیدنا عمرؓ اور سیدنا ابو عبیدہ بن الجراحؓ کا قول:
تاریخ ابنِ جریر الطبری صفحہ، 209 جلد، 3 میں طبری نے نقل کیا ہے کہ جس وقت مہاجرین اور انصار میں خلافت کے معاملہ میں گفتگو ہوئی تھی اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اس معاملہ میں معذرت چاہی تو اس وقت سیدنا عمرؓ اور سیدنا ابوعبیدہؓ دونوں نے فرمایا: اللہ کی قسم اس معاملے کا آپؓ کو چھوڑ کر ہم کسی دوسرے کو والی نہیں بنانا چاہتے کیوں کہ آپؓ افضل المہاجرین ہیں اور ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ ہیں جب کہ دونوں حضرات غار میں تھے اور نماز پر بھی آپؓ رسول اللہﷺ‎ کے خلیفہ اور قائم مقام ہیں حالانکہ نماز مسلمانوں کے دین میں افضل چیز ہے پس کس کے لئے مناسب ہے کہ وہ آپؓ سے مقدم ہو سکے؟ یعنی آپؓ سے مقدم ہونا کسی کے لائق نہیں۔
سیدنا عثمان بن عفانؓ کا قول:
کنزالعُمال میں بحوالہ خیثمہ بن سلیمان روایت ہے کہ:
عن حمران قال عثمان ابنِ عفانؓ ان ابابکر الصدیقؓ احق النا س بہا یعنی الخلافۃ انہ صدیقؓ و ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ وصاحب رسول اللہﷺ۔‎ 
ترجمہ: یعنی سیدنا عثمانؓ فرماتے ہیں کہ تحقیق سیدنا ابوبکر صدیقؓ خلافت کے معاملہ میں زیادہ حقدار ہیں۔ وہ صدیق ہیں ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ ہیں اور وہ صاحبِ رسول اللہﷺ‎ ہیں۔
(کنزالعمال لعلی متقی الہندی: صفحہ، 140 بحوالہ خیثمہ فی فضائل الصحابہ روایت نمبر: 2331 کتاب الخلافۃ طبع اول دکن)
سیدنا علیؓ اور سیدنا زبیر بن عوامؓ کا قول:
جب خلافت و نیابت کے معاملہ میں گفتگو ہوئی تو ان دونوں حضرات نے فرمایا:
انا نری ان ابا بکرؓ احق الناس بہا انہ لصاحب الغار و ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ۔
ترجمہ: یعنی سیدنا علیؓ اور سیدنا زبیر بن عوامؓ مسئلہ خلافت کی بحث میں فرماتے ہیں کہ ہم تمام لوگوں میں سے خلافت کا زیادہ حقدار سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو جانتے ہیں کیوں کہ وہ صاحبِ غار اور ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ ہیں
(السنن الکبریٰ للبیہقی: صفحہ، 18 الاعتقاد علی مذہب السلف للبیہقی: صفحہ، 179 طبع مصر)
سیدنا ربیعہ بن کعبؓ کا قول:
مسند امام احمد میں یہ واقعہ درج ہے کہ ایک بار سیدنا ربیعہ بن کعب الاسلمیؓ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا ایک نخلہ کھجور کے متعلق وقتی طور پر تنازع پیش آیا تھا۔ سیدنا ربیعہ بن کعب الاسلمیؓ کے قبیلے کے لوگ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے متعلق کچھ شکوہ کرنے لگے تو سیدنا ربیعہ بن کعب الاسلمیؓ نے ان کو فہمائش کرتے ہوئے کہا:
اتدرون ماھذا؟ ھذا ابوبکر الصدیقؓ ھذا ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ ھذا ذو شیبہ المسلمین الخ۔
یعنی سیدنا ربیعہ بن کعب الاسلمیؓ نے کہا کیا تم جانتے کہ ان کا کیا مقام ہے؟
یہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہیں۔ یہ ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ ہیں۔ یہ مسلمانوں کے شیخ اور بزرگ ہیں الخ۔
(مسند امام احمد: صفحہ، 58، 59 جلد، رابع تحت مسندات ربیعہ بن کعب الاسلمیؓ)
سیدنا حسان بن ثابتؓ کے اشعار:
روایات کی کتابوں میں مذکور ہے کہ ایک دفعہ نبی اکرمﷺ‎ نے سیدنا حسان بن ثابتؓ کو فرمایا: کہ تو نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے متعلق بھی کچھ اشعار کہے ہیں تو کہو تا کہ ہم بھی سن لیں تو سیدنا حسانؓ کہنے لگے
وثَانِىَ اثۡنَيۡنِ فی الغار ا لمنیف
وقد طاف العدو بہ اذ صعد الجبلاء
وکان حب رسول اللہﷺ قد علموا
من البریہ لم یعدل بہ زجلا۔
(دیوانِ حسانؓ: صفحہ، 240 طبع مصر ازالہ لشاہ ولی اللہ: صفحہ، 99 جلد، اول تحت مسند حسان بن ثابتؓ)
صفحہ 1 از 3