جنازۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

جنازۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 3 از 5

سوال : سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ نے آنحضرت ﷺ کے جنازہ سے پہلے حصولِ خلافت کا اہتمام و انتظام کیوں کیا ؟

  سیدنا صدیقؓ و فاروقؓ کی طرف سے حصولِ خلافت کا اہتمام و انتظام تو بجائے خود رہا ان حضرات کو حصولِ خلافت کا خیال تک بھی نہ تھا اور پھر قدرتی طور پر خلافت کے حاصل ہو جانے کے باوجود حضورﷺ کی تجہیز و تکفین اور جنازہ و دفن وغیرہ امور میں مکمل اور پورے اور پورے طور پر شامل اور شریک رہے۔

 حضورﷺ کے انتقال پرُ ملال کے بعد صحابہ کرامؓ کے دل و دماغ پر اتنا صدمہ پڑا کہ بعض کہتے تھے حضور ﷺ کا انتقال نہیں ہوا بعض کہتے تھے کہ نزولِ وحی والی استغراقی حالت میں ہیں اور بعض حالت بے خودی میں کچھ بول نہ سکتے تھے ۔ ادھر سیدنا عمرفاروقؓ ہاتھ میں تلوار لے کر کہہ رہے تھے کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کے متعلق کہے آپﷺ فوت ہو گئے ہیں اس کا سر قلم کردوں گا تواس عالم غم والم میں سیدنا صدیق اکبرؓ نے وہ مشہورو معروف خطبہ دیا جس میں آنحضرت ﷺ کی وفات اور رحلت کے مسئلہ کو سمجھایا جس سے سیدنا عمرؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ مغموم و اداس ہو کر مسجد نبوی میں بیٹھ گئے ۔ اسی اثناء میں خبر ملی کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار تقررِ خلیفہ کے سلسلے میں بات چیت کر رہے ہیں۔ سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ امت مسلمہ کو افتران و اختلاف سے بچانے کی غرض سے سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار کے مجمع میں پہنچے۔ یہ دونوں حضرات تو صدمہ فراق رسول اللہﷺ میں مغموم و اداس مسجد نبوی میں بیٹھے تھے سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار کا مجمع یا مسئلہ خلافت کا تذکرہ نہ سیدنا صدیق اکبرؓ و فاروق اعظمؓ کے انتظام و اہتمام سے ہوا اور نہ ان دونوں حضرات کے وہم و گمان میں یہ بات تھی ۔ اتفاق قدرت سے ان حضرات کے پہنچنے کے بعد اس مجمع نے صدیق اکبرؓ کے ہاتھ پر باوجود ان کے انکار کرنے کے ان کی صحبت و خدمت قدیمہ اور رفاقت غار اور حضورﷺ کے آخری وقت میں اپنا قائم مقام بنا کر امامت نماز پر مقرر فرمانے کی وجہ سے بیعت کر لی ۔ اس فیصلہ پر بیعت کے فوراً بعد اسی وقت یہ حضرات واپس مسجد نبوی میں پہنچے اور حضورﷺکی تجہیز و تکفین غسل وجنازہ وغیرہ تمام امور کا انتظام و اہتمام فرمایا اور اس بیعت خلافت کے پہلے ہو جانے کی قدرتی طور پر کئی حکمتیں اور ضرورتیں تھیں۔ مثلا اگر یہ بیعت نہ ہوتی تو خلافت کا انتظام بگڑ جاتا اور کوئی ایسا شخص خلیفہ منتخب ہو جاتا جس میں سیاسی قابلیت اور روحانی قوت اس درجہ کی نہ ہوتی تو اس کی اصلاح نا ممکن ہوتی اور جو فتنے ارتداد و منع زکوٰۃ وغیرہ کے پیش آئے ان میں دین اسلام کا باقی رہ جانا بظاہر ناممکن تھا۔

ایک بات یہ بھی تھی کہ حضورﷺ کی تجہیز و تکفین جیسے عظیم الشان کام کا بغیر کسی خلیفہ کی سرکردگی کے انجام پانا ہزاروں اختلافات کا سبب بنتا مثلاً نماز جنازہ کے متعلق اختلاف ہوتا۔کچھ لوگ جنازہ مبارک کو حجرۂ سے باہر لا کر نماز پڑھنا چاہتے اور اس میں جو قیامت برپا ہوتی ظاہر ہے۔ کوئی آپ کو دیکھنا چاہتا کوئی روتا، کوئی بیہوش ہو جاتا، عورتوں اور بچوں کا بھی ہجوم ہوتا ۔ پھر مقام دفن میں بھی اختلاف ہوتا کہ مکہ میں دفن کریں جو آپﷺ کا مولد سے یا شام میں جو حضرت خلیل اللّٰہ کا مدفن ہے یا جنت البقیع میں۔ اگر کوئی خلیفہ نہ ہوتا تو ان اختلافات کا فیصلہ کون کرتا ۔ اب چونکہ سیدنا صدیق اکبرؓ خلیفہ ہو گئے تھے لہٰذا انہوں نے سب امور کا فیصلہ کر دیا کہ نماز جنازہ حجرۂ مبارکہ کے اندر ہوگی۔ دس دس آدمی جائیں اور نماز پڑھ کر آئیں اور تنہا تنہا پڑھیں، نبی کے جنازہ پر کوئی امام نہیں بن سکتا۔ حضور ﷺخود امام ہیں اور مقامِ دفن کے متعلق

سیدنا صدیق اکبرؓ نے فرمایا کہ حضور ﷺ کی روحِ اطہر جہاں قبض ہوئی وہی مقام ِدفن ہے۔ سب اختلافات بآسانی رفع ہو گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے سیدنا ابوبکرصدیقؓ کو جو نہ خلافت کے خیال میں تھے اور نہ کسی سعی و کوشش میں تھے محض اپنے فضل و کرم اور اپنے وعدہ قرآنی کو پورا فرماتے ہوئے تمام بنی ہاشم تمام مهاجرین و انصار کو اتقی امت، یارِ غار ، صدیق با وقار کے ہاتھ پر متفق و متحد کر کے خلیفہ بلا فصل بنا دیا ۔ الحمد للہ علی ذلک۔ اس بیعتِ خلافت کے معاملہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و حکمت سے اتنے تھوڑے سے وقت وقفہ میں طے فرمادیا کہ خود شیعہ کی معتبر روایات میں ثابت ہے کہ:-

حضرت علیؓ ابھی تک جناب رسول ﷺ کو غسل دے رہے تھے کہ مہاجرین و انصار مسجد نبوی میں آکر حضورﷺ کے جنازہ اور دفن وغیرہ کے متعلق باہم مشورہ کر رہے تھے جس کی اطلاع حضرت عباسؓ نے آکر حضرت علیؓ کو دی چنانچہ حیات القلوب جلد 2 صفحہ664 پر امام جعفر صادق سے روایت ہے

عباس بخدمت حضرت امیر المؤمنین آمدو گفت که مردم اتفاق کرده اندکه حضرت رسول رادر بقیع دفن کنند ابوبکر پیش بایستد و برآں حضرتﷺ نماز کند .......... الخ

 حضرت عباسؓ جناب امیرالمومنین حضرت علیؓ کی خدمت میں آئے اور کہا کہ لوگوں نے اتفاق کیا ہے کہ حضور ﷺ کو جنت البیع میں دفن کریں اور ابوبکرؓ حضور ﷺ کے جنازہ کا امام بنے۔

اور مرآة العقول جلد اول صفحہ 371 پر بھی اسی مضمون کی روایتیں موجود ہیں نیز احتجاج طبرسی صفحہ 54 پر مرقوم ہے ، حضرت سلمان کہتے ہیں :-

 وقلت لعلىّ حين يغسل رسول اللہ ﷺ ان القوم فعلوا كذا وكذا وان ابا بكر الساعة العالىٰ منبر رسول اللہ ﷺ

 میں نے حضرت علیؓ کو اس وقت کہا جبکہ وہ جناب رسولﷺ کو غسل دے رہے تھے کہ تحقیق لوگوں نے اس اس طرح کر لیا ہے اور اب ابوبکرؓ جناب رسولﷺ کے منبر پر ہے۔

 تو شیعہ مذہب کی ان معتبر روایات سے ثابت ہوا کہ سیدنا علیؓ اب تک غسل رسول ﷺ سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ صحابہ کرامؓ مہاجرین و انصار اور ابوبکر صدیقؓ جنازه رسول و کفن دفن کا انتظام اور مشورہ کر رہے تھے حتیٰ کہ بعض لوگ ابوبکر صدیقؓ کو امام جنازہ بنانے کا باہم تذکرہ کر رہے تھے . غور کیجیے کہ حاضرین جنازة رسول تو سیدنا صدیقِ اکبرؓ کو امام جنازہ بنانے کا باہم تذکرہ کرتے ہیں لیکن چودہ سو برس بعد آنے والے کس جرآت و بے باکی سے آنحضرت ﷺ کے جنازہ پر صدیق اکبرؓ کی شمولیت کا انکار کرتے ہیں فاعتبروا یا اولی الابصار

صفحہ 3 از 5