کیا سونے کے نصاب کو زکوٰة کا معیار قرار دیا جا سکتا ہے؟ -…

کیا سونے کے نصاب کو زکوٰة کا معیار قرار دیا جا سکتا ہے؟

  دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

صفحہ 3 از 3

4. کسی کے پاس کچھ سونا اور کچھ مالِ تجارت یا کرنسی ہو یا تینوں میں سے ہر ایک کچھ کچھ ہو تو چونکہ مالِ تجارت یا کرنسی میں لا علی التعیین سونا، چاندی میں سے کسی ایک کا نصاب معتبر ہوتا ہے، اس لیے اس کی مالیت دورِ حاضر میں چاندی سے لگائی جائے گی اور جب سونا کے ساتھ چاندی ہو مفتی بہ قول کے مطابق ضم بالقیمة ہوتا ہے لہٰذا مالِ تجارت یا کرنسی کی صورت میں بھی ضم بالقیمة ہوگا اور باعتبار قیمت چاندی کا نصاب مکمل ہو جانے کی صورت میں زکوٰة واجب ہو گی۔

5. کسی کے پاس کچھ چاندی اور کچھ کرنسی یا مالِ تجارت یا تینوں میں سے ہر ایک کچھ کچھ ہو ۔ اس صورت میں بلا کسی تردد باعتبار مالیت چاندی کا نصاب معتبر ہو گا کیونکہ مالِ تجارت میں سونا یا چاندی میں سے کوئی ایک نصاب لازمی طور پر متعین نہیں اور جس کسی سے نصاب مکمل ہو جائے اس کا اعتبار ہوتا ہے اور کرنسی بہ حکم مال تجارت ہے اس لیے اس صورت میں اگر باعتبار مالیت چاندی کا نصاب مکمل ہو جاتا ہے تو زکوٰة واجب ہو گی۔

ہمارے معاشرہ میں عام طور پر آخر کی دو شکلیں ہی پائی جاتی ہیں، شروع کی تین شکلیں عام طور پر نہیں پائی جاتیں کیونکہ دورِ حاضر میں سارا لین دین اور اشیاء کی خرید و فروخت کرنسی سے ہوتی ہے، سونا یا چاندی سے نہیں ہوتی اس لیے کسی کے پاس کچھ بھی کرنسی نہ ہو، ایسا نہیں ہو سکتا۔

اور ان دونوں میں دوسری شکل میں کسی اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ چاندی میں بہر حال چاندی ہی کا نصاب معتبر ہو گا اور اس کے ساتھ جو مالِ تجارت یا کرنسی پائی جاتی ہے اگر بالفرض اس میں سونے کا نصاب معتبر مانا جائے تو ضم کی صورت میں بہر حال قیمت ہی کا اعتبار کرنا ہو گا کیونکہ یہی قول مفتی بہ ہے اور ضم میں قیمت کا اعتبار کرنے میں دورِ حاضر چاندی ہی کا نصاب مدار و معیار ہو گا۔

اور اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مالِ تجارت کی تقویم میں آدمی کو سونا یا چاندی میں سے کسی سے بھی قیمت لگانے کا اختیار ہوتا ہے تو جواباً یہ عرض ہو گا کہ اصل نصاب کی تمامیت میں اختیار نہیں ہوتا، وہاں بہر صورت اسی نقد کا اعتبار ہوتا ہے، جس سے نصاب بنے اور زکوٰة واجب ہو، یہ مسئلہ متفق علیہ ہے جیسا کہ ماقبل میں ذکر کیا گیا۔

اسی طرح پہلی شکل میں بھی امام صاحب کے قول کے مطابق ضم کی صورت میں قیمت کا اعتبار ہو گا اور باعتبار قیمت چاندی کا نصاب مکمل ہو جانے کی صورت میں زکوٰة واجب ہو گی۔

اور مالِ تجارت کی تقویم کے سلسلہ میں جو اقوال آئے ہیں، علماء نے صراحت فرمائی ہے کہ وہ عدم تفاوت پر محمول ہیں، یعنی سونا اور چاندی کی مالیت کی تفاوت نہ ہو تو ظاہر الروایہ میں اختیار ہو گا ورنہ نہیں،اور متعدد فقہاء نے الامالی کی روایت کو ظاہر الروایہ کی شرح قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے دونوں میں تطبیق دی ہے اور انفع سے تقویم کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مالِ تجارت کی زکوٰة میں قیمت دینا چاہے تو وہ قیمت دے جس میں فقراء کا نفع زیادہ ہو یعنی جس سے فقراء بآسانی فائدہ اٹھا سکیں۔

خلاصہ جواب یہ ہوا کہ ضم کے سلسلہ میں احناف کے یہاں ظاہر الروایہ کا کوئی فرق نہیں ہے البتہ مالِ تجارت کی قیمت لگانے میں چار اقوال ہیں جن کی تشریح اوپر ذکر کردی گئی۔

کیا دورِ حاضر میں چاندی کا نصاب بہ طور معیار متعین ہے؟

دورِ حاضر میں چاندی کا نصاب از خود معیار بن گیا ہے، اسے بالقصد وارادہ پلاننگ کے تحت معیار بنایا نہیں گیا ہے اور اگر یہ دائمی طور پر چاندی کے ساتھ خاص نہیں ہے اگر سونے کے نصاب کی مالیت چاندی کے نصاب سے کم ہو جائے تو اس صورت میں سونے کے نصاب کا اعتبار ہوگا ، پس یہ چاندی کے نصاب کی مالیت سونے کے نصاب سے کم ہونے کی وجہ سے ہو گیا ہے ورنہ شریعت کی طرف سے یا فقہائے احناف کی طرف سے کسی پلان و منصوبہ کے تحت چاندی کے نصاب کو معیار نہیں بنایا گیا ہے بلکہ یہ شریعت کے ایک عام اصول کی وجہ سے از خود ایسا ہو گیا جو سونے کے نصاب میں ہو سکتا ہے ناممکن نہیں ہے، اور اس کا مدار محض انفع للفقراء نہیں ہے بلکہ اس کا مدار اس پر ہے کہ قابل ضم مختلف نصاب جمع ہو جانے کی صورت میں مفتی بہ قول میں ضم بالقیمة کا اعتبار ہوتا ہے اور ضم بالقیمة میں چاندی کا نصاب پہلے پایا جاتا ہے کیونکہ اس کی مالیت سونے کے نصاب سے کم ہے اس لیے ایسی صورت میں چاندی کا نصاب مکمل ہو جانے پر وجوبِ زکوٰة کا حکم ہوتا ہے۔ ویسے انفع للفقراء کی روایت خود صاحبِ مذہب امام ابو حنیفہؒ سے مروی ہے اور اس میں کسی فقیہ حنفی کا اختلاف نہیں ہے البتہ اس کی صحیح تشریح یہ ہے کہ وجوبِ زکوٰة کے بعد صفتِ وجوب میں انفع للفقراء کا اعتبار ہوتا ہے ۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند


صفحہ 3 از 3