کیا سونے کے نصاب کو زکوٰة کا معیار قرار دیا جا سکتا ہے؟ -…

کیا سونے کے نصاب کو زکوٰة کا معیار قرار دیا جا سکتا ہے؟

  دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 3

علامہ ابنِ الہمامؒ نے بھی اس صورت کو غیر اختلافی قرار دیا ہے اور تائید میں نہایہ اور خلاصہ کی عبارت پیش کی ہے اور صاحبِ ہدایہ نے نوادر کی روایت کی تشریح میں انفع کا جو مطلب تحریر فرمایا ہے، اس پر یہ نقد کیا ہے اور یہ فرمایا:

لاخلاف في تعین الأنفع بھذا المعنی 

(دیکھیے: فتح القدیر جلد1صفحہ 528، مطبوعہ: مصر)۔

اور علامہ ابنِ نجیم مصریؒ نے بھی نہایہ اور خلاصہ وغیرہ کی عبارتیں نقل کرنے کے بعد آخر میں یہ فرمایا:

فالحاصل أن المذھب تخییرہ إلا إذا کان لا یبلغ بأحدھما نصاباً تعین التقویم بما یبلغ نصاباً

(البحر الرائق،جلد2 صفحہ 400،ط، مکتبة زکریا دیوبند)

بدائع الصنائع میں علامہ کاسانیؒ نے الامالی کی روایت کی دلیل میں اس مسئلہ کو بطور تائید پیش کیا ہے، جس سے ان کے نزدیک بھی اس مسئلہ کا اجماعی ہونا معلوم ہوتا ہے کیونکہ مختلف فیہ مسئلہ میں مختلف فیہ روایت یا جزئیہ بطور تائید پیش نہیں کیا جاتا، بدائع کی عبارت ملاحظہ ہو:

ألا تری أنہ لوکان بالتقویم بأحدھما یتم النصاب وبالآخر لا فإنہ یقوم بما یتم بہ النصاب نظراً للفقراء و احتیاطاً، کذا ھذا

(البدائع الصنائع في معرفة الشرائع، جلد 2 صفحہ 417، ط، دار الکتب العلمیة بیروت)

نوٹ: واضح ہوا کہ بعض فقہی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صورت بھی اختلافی ہے، جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے، اس لیے ان عبارات کے متعلق یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ تسامح پر مبنی ہیں جیسا کہ ابنِ الہمامؒ نے صاحبِ ہدایہ کی تفسیر انفع پر نقد کیا ہے اور بعض عبارتیں ایسی بھی ہیں، جن میں واضح طور پر امام صاحب کی روایت میں اس متفق علیہ صورت کو ذکر کیا گیا ہے، جس سے اس کا اختلافی ہونا معلوم ہوتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے، لہٰذا ان کے بارے میں بھی یہی کہنا ہوگا کہ وہ تسامح پر مبنی ہیں اور امام صاحب کے بقول کی نقل روایت بالمعنی کی گئی ہے۔

اور انفع للفقراء کی تشریح میں نصاب کی تمامیت یا عدم تمامیت کی صورت کو داخل کرنا اصولاً بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ وجوبِ زکوٰة میں نفس نفع ہوتا ہے اور عدم وجوب میں عدم نفع، ایسا نہیں ہے کہ عدم وجوب میں کچھ نفع ہوتا ہو اور وجوب میں زیادہ نفع اس لیے لغوی اعتبار سے بھی اس صورت کو انفع للفقراء کا مصداق قرار دینا محل نظر ہے، اور اگر کسی فقیہ نے ذکر کیا ہے تو یہ بطور تمہید و تشریح ذکر کرنے پر محمول کرنا چاہیے، اس کو انفع کا مصداق نہیں قرار دینا چاہیے۔

اور مال زکوٰة کی ایک قسم: کرنسی ہے جو ثمن عرفی ہے اور اس میں بھی نمو ہے اس لیے مالِ تجارت کا جو حکم ہے وہ کرنسی کا بھی ہو گا بلکہ اس سے بھی اعلیٰ ہوگا کیونکہ اس میں صفت نمو کے علاوہ ثمنیت بھی پائی جاتی ہے اور شریعت کی نظر میں سونا اور چاندی دونوں ثمنیت میں یکساں و برابر ہیں، کوئی دوسرے پر فائق نہیں ہے اس لیے اس کا الحاق دونوں میں سے ہر ایک ساتھ ہو گا، کسی ایک کے ساتھ دائمی طور پر اس کا الحاق متعین نہ ہو گا۔

خلاصہ: یہ کہ اگر مختلف قسم کے نصاب جمع ہو جائیں اور وہ سب غیر تام ہوں، ان میں سے کوئی نصاب مکمل نہ ہو تو ایسی صورت میں اگر وہ سب الگ الگ جنس کے ہیں تو ان میں ضم نہیں ہوگا، جیسے کسی کے پاس 4 اونٹ ، 25 گائیں، 35 بکریاں،6 تولہ سونا یا 50 تولہ چاندی یا پندرہ ہزار روپے یا پندرہ بیس ہزار روپے کی مالیت کا سامان تجارت ہے تو چونکہ یہ سب نصاب آپس میں مختلف الجنس ہیں لہٰذا ان میں ضم نہ ہوگا اور ایسے شخص پر زکوٰة واجب نہ ہوگی۔

اور اگر کسی کے پاس ایک ہی جنس کے دو یا زائد نصاب ہوں، جیسے کچھ سونا اور کچھ چاندی ہے، یا ان میں سے کسی کے ساتھ یا دونوں کے ساتھ کچھ کرنسی یا مالِ تجارت ہے یا چاروں میں سے تھوڑا تھوڑا ہے اور کوئی ایک مال بہ قدر نصاب نہیں ہے تو ایسی صورت میں ضم ہوگا اور سونا اور چاندی میں سے کسی ایک نصاب کی مالیت مکمل ہو جانے پر صاحبِ مال پر زکوٰة واجب ہوگی ورنہ نہیں۔

سونا،چاندی، کرنسی اور مالِ تجارت میں بعض کے اجتماع یا انفراد کے اعتبار سے مجموعی طور پر کل سات صورتیں نکلتی ہیں، جو حسبِ ذیل ہیں:

1. آدمی کے پاس صرف سونا ہو، چاندی، کرنسی یا مال تجارت میں سے کچھ بھی نہ ہو۔ یہ صورت دورِ حاضر میں اگرچہ تقریباً نا ممکن ہے، پھر بھی اگر ایسا ہو تو اس صورت میں صرف سونے کا نصاب معتبر ہوگا، یعنی اگر اس کے پاس 87 گرام 480 گرام سونا ہے تو زکوٰة واجب ہوگی، اور اگر اس سے ایک گرام بھی کم ہے تو اس پر زکوٰة واجب نہ ہوگی کیونکہ سونا، چاندی میں سے اگر صرف کوئی ایک ہو تو قیمت کا اعتبار نہیں ہوتا، اداء اور وجوب دونوں میں وزن ہی کا اعتبار ہوتا ہے، 

أما عند انفراد أحدھما فلا تعتبر القیمة إجماعاً بدائع لأن المعتبر وزنہ أداء و وجوبا

(رد المحتار جلد 3 صفحہ 234، ط,مکتبة زکریا دیوبند)

2. اسی طرح اگر کسی کے پاس صرف چاندی ہو، سونا، کرنسی یا مالِ تجارت کچھ بھی نہ ہو تو صرف چاندی کا نصاب معتبر ہوگا، اگر چاندی کا نصاب مکمل ہے تو زکوٰة واجب ہوگی ورنہ نہیں

أما عند انفراد أحدھما فلا تعتبر القیمة إجماعاً ، بدائع لأن المعتبر وزنہ أداء و وجوبا

(رد المحتار جلد 3صفحہ 234، ط،مکتبة زکریا دیوبند)۔

3. سونا اور چاندی دونوں ہوں اور کرنسی یا مالِ تجارت میں سے کچھ بھی نہ ہو، تو اس صورت میں ائمہ احناف کے نزدیک بالاتفاق دونوں کا باہم ضم ہوگا البتہ امام صاحب کے نزدیک ضم بالقیمة اور صاحبین کے نزدیک ضم بالاجزاء، یعنی امام صاحب کے نزدیک اگر قیمت کے اعتبار سے کوئی ایک نصاب مکمل ہو گا تو زکوٰة واجب ہو جائے گی اگرچہ اجزاء کے اعتبار سے نصاب مکمل نہ ہو اور صاحبین کے نزدیک اجزاء کے اعتبار نصاب کا مکمل ہونا ضروری ہے ورنہ زکوٰة واجب نہ ہوگی۔ اور اوپر گذر چکا ہے کہ فقہ حنفی میں راجح و مفتی بہ قول امام صاحب کا ہے صاحبین کا نہیں۔

صفحہ 2 از 3