ایجاد مذہب شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایجاد مذہب شیعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 9 از 16

 رابعاً: ہر امام کے شاگرد سابقہ امام کی اقتدار و تابعداری کو واجب نہ جانتے تھے ورنہ امام کی تعلیم پر کفر کا فتویٰ دیتے۔امام کی اقتداء کیا چیز ہے حدیث امام جیسا رسول کی اتباع کیا چیز ہے۔ ایمان بالحدیث و تعلیم رسول بجائے ایمان لانے کے جن لوگوں نے امام سے حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ عقائد حاصل کئے ان احادیث و عقائد پر فتویٰ کفر جڑا گیا۔

خامساً: یہ فتویٰ دو وجہ سے خالی نہ ہو گا۔ اول یہ کہ ان عقائد و اعمال کی تعلیم خود امام نے دی تھی یا خود ساختہ عقائد واعمال تھے؟ اگر پہلی بات ہے تو معاذ اللہ ثم معاذ اللہ ثم معاذ اللہ کفریہ عقائد و اعمال کی ایجاد امام نے فرمائی تو پھر ہادی کس طرح ہوئے؟ اور ان کو امام کس طرح کہا جائے؟ دوم اگر دوسری بات ہے تو یہ لوگ ائمہ مطہرین کے شاگرد نہ تھے نہ ہی ان کو امام مانتے ہیں بلکہ ان کا امام و استاد اپنا نفس شیطان تھا۔

انصاف سے فرمائیے! کیا انہی لوگوں سے شیعہ مذہب چل کر آج دنیا میں پھیلا جس کو مذہب ائمہ عظام کہا جاتا ہے؟ ہرگز نہیں! یہ سبائی کمیٹی کے ممبروں کے تمام بہتان ہیں۔ یہ مذہب نہ ائمہ کا تھا نہ یہ لوگ ائمہ کے شاگرد تھے اور نہ ائمہ نے مذہب شیعہ کی تعلیم دی۔

سادساً: محدثین شیعہ نے تمام ائمہ کے شاگردوں کی احادیث اپنی اپنی کتابوں میں جمع کر دی ہیں غضب یہ کہ متقدمین شیعہ نے جن ائمہ کے شاگردوں پر کفر کا فتویٰ دیا تھا علماء شیعہ خلف کا فرض تھا کہ ان کی حدیثیں ہرگز اپنی کتابوں میں داخل نہ کرتے۔ فتویٰ کفر سے اگر بچے ہیں تو امام تقی و نقی و امام حسن عسکری کے شاگرد بچے صرف ان کی حدیثیں نقل کرتے بھلا جن پر مقتدمین شیعہ نے کفر کا فتویٰ دیا، ان کی حدیث کب قابل عمل ہے؟ جس پر آج شیعہ عمل کر رہے ہیں۔ علمائے شیعہ نے یہ بھی اقرار کیا ہے کہ جب دو ائمہ کی احادیث میں اختلاف پڑ جائے، تو پچھلے امام کی حدیث معتبر ہوگی۔ (اصول کافی صفحہ 38۔)

 معطی بن قیس نے امام جعفر سے پوچھا! کہ جب پہلے اور پچھلے امام میں اختلاف ہو جائے تو کیا کریں۔

قلت لابي عبد الله اذا جاء حديث عن أولكم وحديث عن اٰخراكم بايتهما ناخذ فقال فخذوا به حتى يبلغنكم عن الحيى فان مبلغكم عن الحي فخذوا به

معلیٰ کہتا ہے کہ میں نے امام سے دریافت کیا کہ ایک حدیث امام سابق کی ہے اور ایک حدیث بعد والے امام کی اس کے خلاف ہے تو ہم کس پر عمل کریں؟ تو فرمایا کہ جب زندہ کی حدیث مل جائے تو اس پر عمل کرو۔

اس حدیث نے واضح کر دیا کہ امام زین العابدین کے شاگردوں پر جو فتویٰ امام باقر کے شاگردوں نے دیا تھا، وہ ٹھیک ہے اس پر عمل کرنا چاہیے اور امام باقر کے شاگردوں پر امام جعفر کے شاگردوں کا فتویٰ علی ہذالقیاس امام موسیٰ رضا تک امام موسیٰ رضا کے شاگردوں کا فتویٰ ٹھیک مانا جائے اور سابقہ ائمہ کی تعلیم پر بدستور فتویٰ جاری رکھ کر اس تعلیم کو ردی کی ٹوکری میں ضائع کر دینا چاہیے۔

 اے حضرات شیعہ! ذرا انصاف کرو اور سُنی بھائی عبرت حاصل کریں کہ جن کے فتویٰ کفر سے ائمہ کا کوئی شاگرد نہ بچ سکا وہ اصحاب رسولﷺ پر کس طرح فتویٰ نہ دیں۔

خلاصہ: یہ کہ جو دین رسول تھا، وہ بوجہ ارتداد کے امام حسین کی شہادت پر ختم ہو کر دنیا سے نابود ہو گیا باقی دین جو ائمہ کا تھا وہ امام زین العابدین بن امام حسینؓ سے لے کر امام موسیٰ رضا تک جو ساتویں امام ہیں سب کا دین بوجہ فتویٰ کفر کے ضائع و برباد ہو گیا تھا۔ لہٰذا شیعہ کا فرض ہے کہ امام تقی و نقی و امام حسن عسکری سے مذہب شیعہ کا ثبوت دیا کریں یہ نہ کہیں کہ مذہب شیعہ رسول سے چلا۔

 امام جعفر صادق کا حال حسب ذیل ہے اصول کافی صفحہ 496 پر ہے ۔

امام فرماتے ہیں، کہ اگر سترہ شیعہ مجھ کو مل جاتے تو میں جنگ کرتا۔

 والله يا سدير لو كان لى شيعة بعده هذا الجداء ما وسعتى الفقود ونزلنا وعلينا فلما فرغنا من الصلواة عطفت الى الجداء فعدتها فاذا هي سبعة عشر

فرمایا امام نے اسے سدیر خدا کی قسم اگر ان بھیڑوں کی تعداد پر میرے شیعہ ہوتے تو ضروری جنگ کرتا یعنی جہاد جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا اور شمار کیں تو بزغالہ سترہ تھیں۔

اسی اصول کافی کے صفحہ 496 پر امام جعفر کا فرمان موجود ہے کہ اگر مجھے تین شیعہ مل جاتے تو بھی میں حدیث کو نہ چھپاتا۔

لوانی اجد منكم ثلاثة مومنين يكتمون حديثی ما استحللت ان اكتمهم حديثاً۔

 اے ابو بصیر! اگر میں تم میں سے جو(دعویٰ شیعہ ہونے کا کرتے ہو)،تین مومن پاتا جو میری حدیث کو ظاہر نہ کرتے تو میں ان میں سے اپنی حدیثیں نہ چھپاتا۔

 فائدہ: امام کے قول سے معلوم ہوا کہ امام جعفر کے زمانہ میں جو شیعہ ہونے کا دعویٰ کرتے تھے ان میں تین بھی مسمان نہ تھے اور جو کوئی تھا اس سے امام اپنا مذہب و عقیدہ پوشیدہ رکھتے تھے ظاہر نہ کرتے تھے۔

کہو صاحب! امام تو فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی حدیث کسی پر ظاہر نہیں کی تو یہ کافی استبصار، تہذیب اور من لا یحضرہ الفقیہ امام جعفر کے اقوال سے کیونکر بھری ہوئی ہیں۔ کیا تم اور آپ کے محدثین اس دعویٰ میں حق بجانب ہیں کہ یہ حادیث امام جعفر کی ہیں؟ یا امام کا فرمان سچا ہے کہ میں حدیثیں ظاہر نہیں کرتا ہے یقیناً امام سچا ہے، لہٰذا امام پر احادیث کا بہتان ہوا۔

رجال کشی صفحہ 107 میں امام جعفر نے فرمایا کہ مجھے ایک آدمی شیعہ ملا ہے باقی کوئی شیعہ نہیں۔

كان ابو عبد الله عليه السلام يقول ما وجدت إحدا يقبل وصيتي ويطيع امرى الأعبد الله بن يعفور

امام جعفر فرماتے ہیں کہ میں نے ایسا کوئی آدمی نہیں پایا جو میری وصیت کو قبول کرتا اور میرے حکم کی تابعداری و اطاعت کرتا سوائے عبداللہ بن یعفور کے۔

صفحہ 9 از 16