ایجاد مذہب شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایجاد مذہب شیعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 8 از 16

اور ابی العوجاء کا قصہ مشہور ہے کہ وقتِ قتل اس نے اقرار کر لیا کہ چار ہزار جھوٹی روایتیں میں نے کتب شیعہ میں ملائی ہیں اور توضیح المقال جو شیعہ کی مشہور کتاب ہے اس کے صفحہ 2 پر لکھا ہے کہ ان حدیثوں کو کتب شیعہ احادیث سے نہیں نکالا گیا۔ باقی عبارت میں یونس، ہشام علی بن عمیر اور ابی مالک جن کے فساد پر علامہ کو حیرانی ہوئی کہ یہ تین اماموں کے شاگرد تھے ان کا ہی حال سن لو کہ اماموں کے شاگرد کس قدر نیک و صیحیح عقیدہ والے تھے۔ اور ائمہ کی نگاہ میں ان کی کیا قدر تھی، ان کا شاگرد ہونا اور پھر تین ائمہ کا علامہ دلدار علی کو مسلم ہے۔

 سب سے پہلے یونس صاحب کا حال سنو! جن کے متعلق علامہ دلدار علی کا فرمان كا ہے کہ امام باقر جعفر کے شاگردوں کی کتابوں اور حدیثوں کو اس نے سمجھا تھا۔ اس کے متعلق رجال کشی کے صفحہ 307 پر لکھا ہے ۔

 كان يونس يروى الاحاديث من غير سماع۔

یونس ائمہ کی حدیثیں بغیر سماع کے بیان کرتا تھا یعنی خود گھڑ کر اماموں کے ذمہ لگاتا ہے۔

اور رجال کشی کے صفحہ 308 پر ہے ۔

 عن عبد الله بن محمد بن الحجال قال كنت عند الرضا ومعه كتاب يقرء فی بابه حتى ضرب به الارض فقال كتاب ولد الزنا فكان كتاب يونس

عبد اللہ بن محمد الحجال کہتا ہے کہ میں موسیٰ رضاء کے پاس تھا اور امام کے پاس کتاب تھی جس کو پڑھ رہا تھا۔ یہاں تک کہ زمین پر ماری اور فرمایا کہ حرامی کی کتاب ہے اور وہ یونس کی تھی۔ اسی رجال کشی کے صفحہ 309 پر ہے۔

 ثم ضرب به الارض فقال هذا كتاب ابن زان لزانيه هذا كتاب زندیق لغیر رشد .

 پھر امام نے کتاب کو زمین پر مارا پس فرمایا کہ یہ کتاب حرامی کی جو واسطے حرامی کے ہے یہ کتاب زندیق کی ہے جو غیر رشد پہ پیدا ہوا۔

 کتاب کا زمین پر مارنا تو امام کا حق تھا کہ اس میں بغیر سماع امام کے حدیثیں لکھیں تھیں جو امام پر بہتان اور جھوٹ گھڑا ہوا تھا اور ساتھ ہی حرامی بھی ثابت ہو گیا اور حرامی کی شرعاً شیعہ کے نزدیک کوئی حدیث مقبول ہی نہیں اسی واسطے اس کی کتاب زمین پر ماری اب یونس کا مزید حال حسب ذیل ہے۔

 رجال کشی صفحہ 306 پر ہے

عن ابن سنان قال قلت لابی الحسن ان يونس يقول الجنة والنارلم يخلقا فقال له لعنة الله واين جنة اٰدم

 ابن سنان کہتا ہے کہ میں نے امام رضا سے عرض کیا کہ یونس کہتا ہے کہ جنت دوزخ ابھی پیدا نہیں ہوئے امام نے جواب دیا اس کو کہا اس پر خدا کی لعنت ہو آدم کی جنت کہاں ہے۔

 اسی رجال کشی کے صفحہ 306 پر ہے کہ محمد بن ابادیہ کوامام رضاء نے یہ جواب دیا۔

 كتب الى الحسن فی يونس فكتب فلعنه الله ولعن اصحابه۔

 امام نے جواب دیا کہ یونس بھی ملعون اور اس کے شاگرد ہی ملعون۔

کیوں! علامہ دلدار علی صاحب یہی یونس ہے جو تمام شاگردان امام باقر جعفر کی کتابوں کا وارث ہوا تھا؟ جس کو دوزخ سے بچاتے ہو؟ یہ تھا تین چار اماموں کا شاگرد، اس پہ ائمہ کرام کا جو انعام ہوا وہ سن لیا۔ باقی اب ہشام کا حال حسب ذیل ہے۔

اصول کافی صفحہ 56، نولکشور، امام رضا کے پاس عقیدہ ہشام بن سالم و ہشام بن حکم و مومن الطاق و میشمی کا بیان ہوا محمد بن الحسین ان کا عقیدہ یہ تھا۔

 ان هشام بن سالم وصاحب الطاق الميشى يقولون انه لجوف الى السرة والباقی صمد

 تحقیق ہشام بن سالم و مومن طاق اور میشمی کہتے تھے کہ خدا تعالیٰ ناف تک خالی ہے باقی ٹھوس مضبوط ہے۔

اسی روایت میں ان مذکورہ حضرات کا عقیدہ یہ بھی لکھا ہے۔

کان محمد ارای ربه فی هئة الشاب الموفق في سن ابناء ثلثين سنه.

خدا کی عمر تیس سال جوان کی تھی کہ رسول نے اس کو دیکھا۔

 فائدہ: کیا یہی ہشام تھا، جس کو علامہ دلدار علی جہنم سے بچانا چاہتے تھے؟ خدا کی توحید میں فاسد عقائد رکھتا تھا؟ وہمی خدا کا قائل تھا؟ یہ کافر ہے یا جنتی؟

 پس میں اب جرح کو ہشام پر ختم کرتا ہوں، کیونکہ ہشام ابی مالک کا استاد تھا۔ اور ابن ابی عمیر خود ہشام کو بڑا عالم جانتا تھا لہٰذا اس بڑے پر ہی ختم کریں۔

پہلے میں نے لکھا تھا کہ ان کے علماء میں بڑا اختلاف ہوتا ہے اب میں اس وعدہ کو پورا کرتا ہوں اس رجال کشی کے صفحہ 310 پر ہے کہ جعفر بن عیسیٰ نے امام رضا سے شکایت کی۔

قال له جعفر ابن عيسىٰ اشكوا الى الله اليك ما نحن فيه من اصحابنا فقال وما انتم فيه منهم فقال جعفرهم والله يزيد قوتا ويكفرونا ويبرؤن منا فقال عليه السلام هكذا كان اصحاب على بن الحسين ومحمد بن على و اصحاب جعفر و موسىٰ عليه السلام ولقد كان اصحاب زرارة يكفرون غيرهم كذلك غيرھم كانوا يكفرونهم فقلت له يا سيدی نستعين بك على هذان الشخين يونس وهشام وهما حاضران وهما ادبانا وعلمانا

 امام رضاء کو جعفر بن موسیٰ نے کہا کہ میں خدا اور آپ کی طرف شکایت کرتا ہوں اس تکلیف کی جس میں ہم اپنے شیعہ کی وجہ سے ہیں پس امام نے فرمایا کہ وہ کونسی تکلیف ہے جس میں تم ہو؟ پس جعفر نے کہا قسم خداہم کو وہ زندیق و کافر کہتے ہیں اور تبراء کرتے ہیں۔ پس امام نے فرمایا کہ یہی حال امام زین العابدین کے شاگردوں کا اور باقر جعفر صادق اور موسی کاظم کے اصحاب کا، اور شاگردان زرارہ بقایا اصحاب ائمہ کے شاگردوں کو کافر کہتے ہیں اور باقی ائمہ کے شاگرد زرارہ کے شاگردوں کو کافر کہتے تھے۔ میں نے عرض کی کہ اے میرے سردار! ہم مدد مانگتے ہیں آپ کے ساتھ دو بزرگوں سے کہ یونس اور ہشام ہیں ان دونوں نے ہم کو ادب و علم سکھایا۔

 فائدہ: غالباً مطلع صاف ہو گیا ہو گا اور مذہب شیعہ پر جو غبار تھا وہ اُڑ گیا ہوگا۔

اب قابل قدر تحفے حسب ذیل ہیں۔

 اولاً: معلم دین وہی یونس حرامی و هشام جو خالص توحید باری کا منکر تھا ثابت ہوئے۔ جو خود ملعون ان کے شاگرد بھی ملعون اوران کی تعلیم بھی سوائے لعنت کے اور کیا ہوگی۔

 ثانیاً: پہلے امام کی پوری تعلیم دوسرے امام کے زمانہ میں بوجہ فتویٰ کفر کے تمام ضائع ہو گئی۔

 ثالثاً: ہر امام کی تعلیم دوسرے امام کی تعلیم کے مخالف و متضاد ہوتی تھی ورنہ بعد والے کفر کا فتویٰ نہ دیتے۔ لہٰذا بعد والوں کے نزدیک امام سابق کی وہ تعلیم یقینی کفر سمجھتی جاتی تھی بغیر کفری تعلیم کے فتویٰ کفر محال ہے۔

صفحہ 8 از 16