ایجاد مذہب شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایجاد مذہب شیعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 7 از 16

 میں عرض کرتا ہوں کہ جب خود ائمہ معصوم موجود تھے، تو پھر وہ ایرے غیرے اور ہر فاسق فاجر اور سُنی وغیرہ سے احکامِ دین حاصل کرنے میں کیونکر مجاز تھے؟ بتائیے نبی کریم ﷺ کے زمانے میں کبھی کسی صحابی نے رسولﷺ کو چھوڑ کر کسی نتھو خیرا سے دین کے اصول حاصل کیے تھے؟ وہ بھی فاسق فاجر سے۔

ثانیہ: پھر شیعہ کیوں کہتے ہیں کہ مذہب شیعہ سارا کا سارا ائمہ سے منقول ہے؟ یہ غلط فاحش ہے بلکہ ہر فاسق فاجر مذہب شیعہ کا بانی ہے اور وہی امام ہوا۔ امام باقر سے پہلے جب حلال و حرام مذہب شیعہ کا موجود ہی نہ تھا تو امام باقر نے ان احکام کو کہاں سے حاصل کیا؟ اگر خود بیان کئے تو فرمایئے کہ خاتم النبیین امام باقر ہوا نہ رسول اللهﷺ؟ اور اسی اساس کی صفحہ 51 والی عبارت میں یہ مان لیا،کہ ائمہ اللہ و رسولﷺکے احکام میں سے جس کو چاہتے تھے منسوخ کر دیتے تھے تو یہ حقیقتہً ختم نبوت کا انکار ہے بلکہ ائمہ ہی صاحب شریعت رسول ہوئے۔

اجی صاحب! کہو کہ ائمہ رسول سے افضل صاحب وحی تھے۔ علامہ دلدار علی فرماتے ہیں: کہ اگر شاگردان ائمہ کو اصول دین فروعِ دین کے حصول میں مکلف قرار دیں، تو تمام شاگردان ائمہ جہنمی و دوزخی و ناری ہو جائیں، کیا عجیب بات ہے کہ اصحاب ائمہ وہ تو خواہ کیا ہی کر دیں ان کا دوزخی ہونا امر محال ہے، خواہ کسی قدر آپس میں لڑیں۔ مگر اصحاب رسولﷺ ان میں کوئی ایسا امر پیش آجائے تو کافر ہو جائیں۔

یا للعجب: اصحاب ائمہ لڑیں اور ترک سلام و کلام تک نوبت آجائے تو بھی شیعہ دونوں کو پیشوائے دین تسلیم کریں مگر اصحاب رسولﷺ سے معاذ اللہ ایک ہی مسلمان رہے۔

 ہاں جی! شاگردان و اصحاب ائمہ نے دین ائمہ میں اتنا شدید اختلاف جس کی وجہ سے سلام و کلام ترک کر دی جائے۔ بلکہ فتویٰ لگایا جائے کیوں ہے مگر اس شق سے انکار کیا گیا کہ صرف ائمہ سے حاصل نہ کرتے تھے بلکہ غیروں سے بھی حاصل کرتے تھے۔ اگر صرف ائمہ سے تسلیم کریں تو پھر اس اختلاف کی وجہ سے وہ جہنمی بنتے ہیں۔ بہر حال ائمہ سے احکام لیں تو وہ دوزخی ہو جاتے ہیں؟

 اب شق دوم کہ غیروں سے بھی حاصل کرتے تھے تو اس صورت میں بھی مذہب شیعہ ائمہ سے نہ آیا نہ ہی مذہب شیعہ ائمہ کا دین ہوا نہ حق ہوا بلکہ باطل ہوا۔ نیز اس صورت میں بھی اصحاب ائمہ جہنمی ہو جائیں گے جیسا ائمہ سے حاصل کرنے میں جہنمی بنتے ہیں۔

اول تو یہ مشکل ہے کہ غیروں سے دین حاصل کریں چونکہ شیعہ کا مذہب ہے کہ اصحاب کرامؓ نے علم دین بقدر ستر نفاق رسولﷺ سے حاصل کیا تھا جیسا کہ فصل الخطاب کے صفحہ 99 پر ہے۔

 واخذ وامن رسول اللهﷺ بقدر ما يحفظون به ظاهرھم ويسترون به نفاقهم

 صحابہ کرامؓ نے رسولﷺ سے علم اس قدر حاصل کیا جس سے ان کے ظاہر کی حفاظت ہو سکے اور اپنے نفاق کو پوشیدہ رکھ سکیں۔

 فائدہ: جب صحابہ کرامؓ کے پاس علم شریعت موجود ہی نہ تھا تو غیروں نے صحابہ کرامؓ سے کیا لیا تھا۔ جب استاذ کے پاس نہ تھا تو شاگردوں کو کب تھا؟ کہ شیعہ غیروں سے حاصل کرتے تھے۔

 دوم: شیعہ مذہب کا موٹا اصول ہے کہ غیر شیعہ سے دین کی تعلیم حاصل کرنی قطعاً حرام کفر ہے جیسا کہ کافی کتاب الروضہ اور فصل الخطاب صفحہ 220 مطبوعہ ایران اور رجال کشی صفحہ 1، 2 میں ہے کہ علی بن سوید نسانی کو موسیٰ کاظم نے جواب دیا تھا ،اور امام جیل میں تھا۔

 واما ماذكرت يا على ممن ناخذ معالم دينك لا تاخذن معالم دينك عن غير شيعتنا فانك فان تعديتهم اخذت دينك من الخائنين الدين خانوا امانتهم فهم اوتمنواعلى كتاب الله جل وعلى فحرفوه وبدلوه فعليهم لعنة رسوله ولعنة ملئكة ولعنة ابائی الكرام البررة ولعنتى ولعنة شيعتي الى يوم القيمة

اے علی! جو تم نے دین کی تعلیم کے متعلق دریافت کیا کہ کس سے حاصل کروں؟ ہرگز ہرگز سوائے شیعہ کے دین کسی سے حاصل نہ کریں۔ پس اگر تم نے تعدی کر کے غیر شیعہ سے دین حاصل کیا تو پھر تم نے دین کو خائن سے حاصل کیا جنہوں نے اللہ اور سولﷺ کی خیانت کی ہے ان کو کتاب اللہ پر امانتی بنایا گیا تھا۔ انہوں نے قرآن میں تحریف کر دی قرآن بدل ڈالا ان پر خدا اور رسول کی ملائکہ کی میرے آباء واجداد کی میری اور میرے شیعوں کی لعنت ہو قیامت تک

 فرمائیے ملعون کا شاگرد خاص ملعون کے دین پر چلنے والا اور اس سے دین کی تعلیم حاصل کرنے والا ملعون ہوا یا کون۔

 باقی دین بتائیے کہ ان غیروں سے چلا جو ملعون تھے؟ پس شیعہ کے اس قول کے طابق شیعہ نے خود اپنے آپ پر ملعون ہونے کا فتویٰ دے دیا چونکہ شیعہ نے ملعون سے دین حاصل کیا، لہٰذا وہ شیعہ بھی ملعون اور وہ دین بھی ملعون ہوا کیا اب بھی یہ شبہ باقی ہے کہ یہ مذہب شیعہ ائمہ سے چلا؟ نعوذ باللہ منہ

 اے بیچارے شیعو! کیا مصیبت بنی؟ اگر ائمہ سے دین حاصل کر نے کا دعویٰ کریں تو دوزخی اور اگر غیر سے حاصل کرنے کا دعویٰ کریں تو خود زیر بار لعنت اور مذہب خود ملعون۔

 اساس الاصول صفحہ 51 والی حدیث پر بھی غور کرنا، کہ شافعی، مالکی، حنبلی اور حنفی اختلاف ہے اور جس کی بنا پر کفر کے فتوے جڑ جاتے ہیں کبھی کہا جاتا ہے کہ ہم اہلِ بیت کے تابع اور ان کے مذہب پر ہیں اور سُنی امتیوں کے مذہب پر ہیں لیکن شیعہ یاد رکھیں کہ ہمارا امام صرف اللہ اور اس کا رسولﷺ ہے جو امام الرسل ہے۔

باقی سب کمتر ہیں۔ امام صرف رسول اکرم ﷺ ہے یہ استاد ہیں باقی بڑے عالم میں ہر عالم کے شاگرد اس کے تابع ہیں ان کا رتبہ ایسا ہے جیسا شیعہ آج اپنے مجتہدوں کو دیتے ہیں۔ ہم ان ائمہ کو حلت و حرمت کا اختیار نہیں دیتے جیسے شیعہ ائمہ کو رسول اکرمﷺ سے بھی آگے لے جاتے ہیں۔

 اساس الاصول کے صفحہ 51 والی عبارت نے واضح کر دیا کہ ائمہ کی احادیث سے کسی صحیح نتیجہ پر پہنچ جانا طاقت انسانی سے باہر ہے یعنی کسی مسئلہ پر جو ائمہ سے نقل ہو کتب شیعہ میں موجود ہے، عمل کرنا اس مسئلہ کو ترجیح دے کر انسانی قوت سے باہر ہے اسی وجہ سے غیر مکلف ہونے کا دعویٰ کیا۔ لہٰذا شیعہ کا نماز، روزہ، حرام حلال وغیره قطعاً بیکار ثابت ہوئے واللہ اعلم اماموں سے کونسی حدیث منقول ہے۔ اور غیروں سے کونسی؟ اور اس کی تمیز چونکہ ازحد مشکل ہے لہٰذا ان پر عمل بھی مشکل ہے۔

صفحہ 7 از 16