ایجاد مذہب شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایجاد مذہب شیعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 6 از 16

 المقابلته حديث بنا فيه ولا يتفق خبرا الا وبازنه ما يضاده حتى صار ذلك سببا فی رجوع بعض الناقصين عن اعتقاد الحق كما صرح به شيخ الطائفة فی اوائل التهذيب والاستبصار ومناشئ هذا الاختلافات كثيرة عبدا من التقيه والوضع واستنتاج السامع والنسخ والتخصيص والتفسيد وغير هذا المذكورات عن الأمور الكثيرة كما الوقع التصريح على اكثرها الأخبار الماثورة عنهم اصحاب الائمة اليهم ختلاف اصحابه ما اجابوهم بانهم قد القوا الاختلاف حقنا لدمائهم كما في رواية حريز و زرارة وأبي ايوب الجزار واخرى اجابوهم بان ذلك من جهة الكذا بين كما فی رواية الفيض بن المختار قال قلت لا بی عبد الله جعلنی الله فداك ما هذا الاختلاف الذی بين شيعتهم قال فای اختلاف یا فیض فقلت له انی اجلس فی حلقهم بالكوفة وأكاد أشك فى اختلافهم فی حديثهم حتى ارجع الى الفضل بن عمر فيوقفني من ذلك على ما تستريح به نفسی فقال عليه السلام اجل كما ذكرت يا فيض ان الناس قداربعوا بالكذب علينا كان الله افترض عليهم ولا يريد منهم غيره انی احديث احدهم بحديث فلا يخرج من عندى حتى يناوله على غير تاويله وذالك لانهم لا يطلبون بحديثنا ويحبنا ما عند الله تعالى وكل يحب ان يدعى واما قريب منها رواية داؤد بن سرحان واستشناء القمين كثيرا من رجال نوادر الحكمة معروف وقصة ابن ابی العرجاءانه قال عند قتله قد و مسست فی كتبكم اربعة الاٰف حديث مذكورة فی الرجال وكذا ما ذكر يونس بن عبد الرحمٰن من انه اخذ احاديث كثيرة من اصحاب الصادقين ثم عرضها على ابى الحسن الرضا عليه السلام فانكر منها احاديث كثيرة الى غير ذلك مما يشهد بخلاف ما ذكره۔

 پھر یہ اس شخص نے ذکرہ کیا ہے کہ اصحاب ائمہ اصول و فروع دین کو یقین کے ساتھ حاصل کرنے پر قادر تھے یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جو تسلیم کرنے کے لائق نہیں کم ازکم اس کی شہادت وہ ہے جو آنکھ سے دیکھی ہوئی اور اثر سے معلوم ہوئی کہ ائمہ صلوات اللہ علیہم کے اصحاب اصول و فروع میں باہم مختلف تھے اور اسی سبب سے بہت لوگوں نے جو حدیثیں اماموں سے منقول ہیں ان میں بہت سخت اختلاف ہے۔ ایسی کوئی حدیث نہیں ملتی جس کے مقابل میں اس کی مخالف حدیث موجود نہ ہو یہاں تک کہ یہ اختلاف بعض کمزور خیال لوگوں کے لیے مذہب شیعہ ترک کرانے کا سبب بنا جیسا کہ شیخ الطائفہ نے تہذیب و استبصار کے اول میں بیان کیا اس اختلاف کے اسباب بہت ہیں مثلاً تقیہ کرنا ائمہ کا اور موضوع حدیثوں کا بنایا جانا اور سننے والوں سے غلطی ہو جانی نہ سمجھنا اور منسوخ ہو جانا اور مخصوص ہونا اور ان کے علاوہ بھی بہت سے امور ہیں۔ چنانچہ ان میں سے اکثر کی تصریح احادیث ائمہ میں موجود ہے اور ائمہ سے شکایت کی کہ آپ کے صحابہ میں اختلاف بہت ہے تو ائمہ نے جواب دیا کہ یہ اختلاف ہم نے خود تم میں ڈالا ہے ان کی جان بچانے کے لیے جیسا کہ حریز اور زرارہ اور ایوب جزار کی روایتوں میں ہے اور کبھی یہ جواب دیا کہ یہ اختلاف جھوٹ بولنے والوں کے سبب سے پیدا ہو گیا ہے جیسا کہ فیض بن مختار کی روایت میں ہے وہ کہتے ہیں میں نے امام جعفر صادق سے کہا کہ اللہ مجھے آپ پر فدا کر دے۔ یہ کیسا اختلاف ہے، جو آپ کے شیعوں کے آپس میں ہے؟ امام نے فرمایا کہ اے فیض! کونسا اختلاف؟ میں نے عرض کی کہ میں کوفہ میں ان کے حلقہ درس میں بیٹھتا ہوں تو ان کی احادیث میں اختلاف کی وجہ سے فریب ہوتا ہے کہ میں شک میں پڑ جاؤں یہاں تک میں فضل بن عمرو کی طرف رجوع کرتا ہوں تو وہ مجھے ایسی بات بتلا دیتے ہیں جس سے میرے دل کو تسکین ہوتی ہے امام نے فرمایا کہ اے فیض یہ بات سچ ہے۔ لوگوں نے ہم پر افترا پردازی کی ہے جھوٹ بہت کی گویا خدا نے ان پر جھوٹ بولنا فرض کر دیا ہے، اور ان سے سواء جھوٹ بولنے کے اور کچھ چاہتا ہی نہیں میں ان میں سے ایک سے کوئی حدیث بیان کرتا ہوں تو وہ میرے پاس سے اٹھ کر جانے سے پہلے ہی اس کے مطلب میں تحریف شروع کر دیتا ہے۔ یہ لوگ ہماری حدیث اور ہماری محبت سے آخرت کی نعمت نہیں چاہتے بلکہ ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ سردار بن جائے اور اسی کے قریب داؤد بن سرحان کی روایت ہے اور اہل قم کا نوادر الحکمت نے بہت سے راویوں کو مستثنیٰ کر دینا مشہور ہے اور ابن ابی عرجاء کا قصہ کتب رجال میں لکھا ہے کہ اس نے اپنے قتل کے وقت کہا کہ میں نے تمہاری کتابوں میں چار ہزار حدیثیں بنا کر درج کی ہیں اسی طرح وہ واقعہ جو یونس بن عبد الرحمٰن نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے بہت سی حدیثیں ائمہ کے اصحاب سے حاصل کیں پھر ان کو امام رضا علیہ السلام کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے ان میں سے بہت سی حدیثیں ہیں جن کا امام نے انکار کیا ان کے علاوہ اور بہت سے واقعات میں جو اس شخص کے دعویٰ کے خلاف شہادت دیتے ہیں۔

فائدہ: ان تینوں عبارتوں کے چند قابل قدر فوائد نمبر وار حسب ذیل ہیں:

اول: شاگردان آئمہ باوجودیکہ قدرت رکھتے تھے اور پھر وہ یقین علم اور اصول و فروع دین یقیناً حاصل کرنا ان پر فرض نہ تھا یہ مذہب شیعہ کے عجائبات سے ہے علامہ فرماتے ہیں کہ:

لا نسلم انهم كانوا مکلفین کہ وہ مکلف ہی نہ تھے سبحان اللہ! ہر عاقل و بالغ انسان خواہ نبی ہی کیوں نہ ہو، یقین کے حصول کا مکلف ہے، مگر ائمہ کے شاگرد مکلف نہ تھے۔

کیوں صاحب! فرشتے تو نہ تھے وہ شیعہ راویوں نے جب دیکھا کہ احادیث ائمہ میں اس قدر اختلاف ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس اختلاف کو اٹھا نہیں سکتی۔ اگر یہ حدیثیں ائمہ سے مروی ہوتیں اس قدر شدید اختلاف کیونکر ہوتا؟ تو ان چلتے پُرزوں نے فوری یہ جواب گھڑ لیا کہ وہ علم و یقین و احکام دین کو صرف ائمہ سے حاصل کرنے میں مکلف ہی نہ تھے ہر فاسق فاجر ثقہ غیر ثقہ سے دین حاصل کر لیتے تھے اسی طرح اصول کافی کی روایت میں کہ امام باقر سے پہلے شیعہ غیر لوگوں سے دین کے احکام حاصل کرتے تھے۔ اسی طرح فرائد الاصول میں بھی کیا خوب فرمایا کہ بطریق یقین اصول و فروع دین کا حاصل کرنا ایک دعویٰ ہے جو قابل تسلیم ہی نہیں اگر بطورِ یقین حاصل کرتے تو شدید اختلاف نہ ہوتا من هذا الاصول و نفروع بطريق اليقين دعویٰ ممنوعة واضح المنع

صفحہ 6 از 16