ایجاد مذہب شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایجاد مذہب شیعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 5 از 16

 لا نسلم انهم كانوا مكلفين بتحصيل القطع والبقين كما يظهر من سجية أصحاب الائمة بل كانوا مامورين باخذ الاحكام من الثقاة وغيرهم ايضامع قرينة تفيدالظن كما عرفت مرارً ابانماء مختلفة كيف ولو لم يكن الامر كذالك لزم ان يكون اصحاب ابی جعفر و الصادق لذين اخذ يونس كتبهم وسمع احاديثم مثلاها لكين مستوجبين النار و ھكذا حال جميع اصحاب الائمة بانهم كانوا مختلفين فی كثير من المسائل الجزئية الفرعية كما يظهر ايضا من كتاب العدة وغيره وقد عرفتہ ولم يكن احد منهم قاطعالها يرويه الاخر فى مستمسكه كما يظهر ايضا كتاب العدة وغيره ولنذكر فی هذا المقام رواية رواها محمد بن يعقوب الكلينی فی الكافی فانها مفيدة لما نحن نقصده ونرجوا من الله ان نطمئن بها قلوب المومنين يحصل لهم الجزم بحقيقة ما ذكرنا فنقول قال ثقة الاسلام فى الكافى على ابن ابراهيم عن الشريع بن الربيع قال لم يكن بن ابی عمير يعدل بهشام بن الحكم شيئا ولايغيب ايمانه ثم انقطع عنه وخالفه وكان بسبب ذلك ان ابامالك الحضرمی كان احد رجال هشام وقع بينه وبين ابن ابی عمير ملاماة فی شی من الامامة قال ابن عميرالدنيا كلها للامام من جهة الملك وانه اولىٰ بها من الذين هی فی ايديهم وقال ابو مالك كذلك املاك الناس لهم الاماحكم الله به للامام كألفى والخمس والمغنم فذلك له وذلك ايضا قد بين الله للامام ان يضعه وكيف يصنع به فتراضيا به ہشام بن الحكم وما را اليه فحكم هشام لابی عمير فغضب بن ابی عمير وهجر هشام بعد ذلك فانظروا يا اولى الالباب واعتبروا يا اولى الابصار فان هذه الاشخاص الثلاثة كلهم كانوا من ثقاة اصحابنا وكانوا من اصحاب الصادق والكاظم والرضاء عليهم السلام كيف وقع النزاع بينهم حتى وقعت المهاجرة فيمابينهم مع كونهم متمكنين من تحصيل العلم واليقين من جناب الائمة۔

 ہم نہیں مانتے کہ اصحاب ائمہ پر لازم تھا کہ یقین حاصل کریں چنانچہ اصحاب ائمہ کی روش سے یہ بات ظاہر ہوئی ہے بلکہ اصحاب ائمہ کو حکم تھا، کہ احکام دین معتبر اور غیر معتبر ہر قسم کے لوگوں سےحاصل کر لیا کریں بشرطیکہ کوئی قرینہ مفید زن موجود ہو۔ جیسا کہ بارہا تم کو مختلف طریقوں سے معلوم ہو چکا ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو لازم آئے گا کہ امام باقر اور امام صادق کے جن کی کتابوں کو یونس نے لیا اور ان کی حدیثوں کو سنا ہلاک ہونے والے اور مستحق دوزخ ہو جائیں اور یہی حال تمام اصحاب ائمہ کا ہوگا۔ کیونکہ وہ بہت سے مسائل جزئیہ فرعیہ میں باہم مختلف تھے چنانچہ کتاب العدة وغیرہ سے ظاہر ہے اور تم اس کو معلوم کر چکے ہو اور ان میں سے کوئی شخص اپنے مخالف کی روایت کی تکذیب نہ کرتا تھا جیسا کہ کتاب العدة وغیرہ سے ظاہر ہے اور ہم اس مقام پر ایک روایت ذکر کرتے ہیں جس کو محمد بن یعقوب کلینی نے کافی میں ذکر کیا ہے وہ روایت ہمارے مقصود کے لیے مفید ہے اور ہم دل سے امید کرتے ہیں کہ اس روایت سے ایمان والوں کے دلوں کو اطمینان حاصل ہو گا اور جو کچھ میں نے بیان کیا اس کے حق ہو جانے کا یقین ان کو ہو جائے گا۔ لہٰذا میں کہتا ہوں کہ ثقہ الاسلام نے کافی میں بیان کیا ہے کہ علی بن ابراہیم نے شریع بن ربیع سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ ابن ابی عمیر ہشام بن حکم کی بہت عزت کرتے تھے ان کے برابر کسی کو نہ سمجھتے تھے اور بلاناغہ ان کے پاس جاتا تھا پھر اس سے قطع تعلق کر لیا اور اس کے مخالف ہو گیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابو مالک حضرمی جو ہشام کے راویوں میں سے تھے ایک آدمی تھا اس کے اور ابن ابی عمیر کے درمیان میں مسئلہ امامت کے متعلق گفتگو ہو گئی ابن ابی عمیر کہتے ہیں کہ دنیا سب کی سب امام کی ملک ہے اور امام کو تمام چیزوں میں تصرف کرنے کا حق ہے ان لوگوں سے زیادہ جن کے قبضے میں دو چیزیں ہیں ابو مالک کہتا تھا لوگوں کی مملوک چیزیں ان ہی کی ہیں امام کو صرف اس قدر ملے گا جو اللہ نے مقرر کیا ہے جیسا مال فی اور خمس اور غنیمت اور اس کے متعلق بھی اللہ نے بتا دیا ہے کہ امام کہاں کہاں خرچ کرے۔ آخر ان دونوں نے ہشام بن حکم کو اپنا پچ بنایا اور دونوں اس کے پاس گئے ہشام نے اپنے شاگردوں مالک کے موافق اور ابن عمیر کے خلاف فیصلہ کر دیا۔ اس پر ابن عمیر کو غصہ آیا اس نے ہشام سے قطع تعلق کر دیا یعنی سلام کلام تک بند کر دیا۔ پس اے صاحبان بصیرت عبرت حاصل کرو یہ تینوں اشخاص ہمارے معتبر اصحاب میں سے ہیں اور امام صادق اور امام کاظم امام رضا کے اصحاب میں سے ہیں ان میں باہم کس طرح جھگڑا ہوا یہاں تک کہ باہم قطع تعلق ہوگیا باوجود یہ کہ ان کو قدرت حاصل تھی کہ جناب ائمہ سے اپنے جھگڑے کا فیصلہ کروا کر اعلم و یقین حاصل کر لیتے۔

اسی اساس الاصول کے صفحہ 15 پر علامہ دلدار علی نے اختلاف کا اقرار کیا۔

 وامتياز المناشى بعضها عن بعض في باب كل حديثين مختلفين بحيث يحصل العلم واليقين بتعين المنشاء عسير جدا وفوق الطاقة كمالايخفى

 ہر وہ مختلف حدیثوں میں امتیاز کرنا کہ یہاں اختلاف کا سلب کیا ہے۔ اس طور پر کہ اس سبب کا علم و یقین ہو جائے ساتھ مقرر کرنے سبب اختلاف کے بہت دشوار اور انسانی طاقت سے باہر ہے جیسا کہ یہ بات پوشیدہ نہیں۔

شیخ مرتضیٰ نے فرائد الاصول مطبوعہ ایران کے صفحہ 86 پر علامہ دلدار علی سے بھی بڑھ کر قدم مارا ہے۔

 ثم ان ما ذكره من تمكن اصحاب الائمة من اخذا الاصول والفروع بطريق اليقين دعوىٰ ممنوعة واضح المنع ولا قل مايشهد عليها ماعلم بالعين والاثر من اختلاف اصحابهم صلوات الله عليهم في الاصول والفروع ولذاشكى غير واحد من الاحاديث الماثورة عن الائمة مختلفة جدا الايكاد يوجد حديث الأوفی

صفحہ 5 از 16