ایجاد مذہب شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایجاد مذہب شیعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 4 از 16

 فائدہ: یہ پہلے ثابت ہو چکا ہے کہ علیؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں بھی کوئی شرعی حکم خلفاء ثلاثہؓ کے خلاف جاری نہیں کیا تھا۔ بلکہ تمام زندگی تقیہ میں بسر فرمائی۔

کیونکہ ان کا کوئی تابعدار نہ تھا جیسا کہ حدیث قیامت سے واضح ہو چکا ہے۔ باقی امام حسنؓ و حسینؓ نے امیر معاویہؓ کی بیعت کر کے تقیہ میں زندگی بسر کی گویا ساٹھ سال تک جو زمانہ صحابہ کرامؓ کا تھا ان ائمہ سے دین کی کوئی بات صادر نہیں ہوئی۔ امیر معاویہؓ کی وفات سن 60 ہجری میں بیس سال امام حسینؓ اور سات سال امام حسنؓ ان کے تابعدار رہے پس قرن صحابہؓ میں وہی دین رسول معاذ اللہ تمام کا تمام ضائع ہو گیا۔ مگر کوئی دین و مذہب تھا تو اہل سنت والجماعت ہی کا تھا، نہ شیعہ کا۔

تقریر بالا کا خلاصہ یہ ہے کہ جس دین کو محمد رسولﷺ نے خدا سے لے کر صحابہؓ تک پہنچایا تھا۔ وہ دین صحابہؓ کے مرتد ہو جانے کی وجہ سے شیعہ کے نزدیک ضائع ہو چکا ہے، اور حضرت علی کرم اللہ وجہ اور دیگر تین چار آدمی جو بقول شیعہ اس ارتداد سے جو نبی کریم کی وفات کے بعد طاری ہوا تھا جو بچے تھے وہ تقیہ باز ہونے کی وجہ سے کسی کے سامنے دین رسولﷺ کو پیش نہ کر سکتے تھے۔ اگر بفرض محال اس پہلے ارتداد سے، جو رسول اکرم ﷺ کی وفات کے بعد طاری ہوا تھا اور تمام دین کو اس نے فنا کر دیا تھا۔ دین کی کوئی چیز بچی بھی تھی تو اس کو شہادت امام حسینؓ نے فنا کر دیا تھا۔ کیونکہ شہادت امام حسینؓ کے بعد تمام لوگ کافر و مرتد ہوگئے اور جو تین آدمی اس ارتداد سے بچے تھے وہ بھی میدان قیامت نجات کے مستحق نہ ہوں گے کیونکہ بقول شیعہ نجات اس کو ہوگی جو امام حسینؓ کے ساتھ شہید ہو چکا تھا۔ پس ان دونوں ارتدادوں نے پورے دین کا خاتمہ کر دیا۔ اب اگر کوئی شیعہ مذہب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ دھوکا باز ہے اور لوگوں کو فریب دیتا ہے۔

اب میں قرن دوم کو لیتا ہوں جو صحابہؓ کے بعد باقی ائمہ شیعہ کا زمانہ تھا۔ ائمہ کیا فرماتے ہیں؟ امام زین العابدین نے یزید پلید کی بیعت کر کے یزید خبیث کی غلامی کا دعویٰ بھی کیا تھا کہ میں تیرا غلام ہوں۔ (روضتہ الکافی اور جلاء العیون صفحه 588 )

یہ امام مدینہ میں رہا اور گوشہ نشین ہی رہا اور امام زین العابدین امام باقر امام جعفر، ان تینوں کی قبریں جنت البقیع میں ہیں۔ جلاء العیون صفحہ 602

 نوٹ: مدینہ میں رہنے والی بات کو یاد رکھنا آگے چل کر کام آئے گی۔

 امام زین العابدین نے کبھی مذہب شیعہ کی تبلیغ نہ کی تھی۔اس لیے ان سے مذہب شیعہ کی کتب میں بہت کم روایتیں ملتی ہیں۔ زیادہ تر مذہب شیعہ کی روایات امام باقر اور امام جعفر سے ملتی ہیں۔ بلکہ تمام مذہب شیعہ کی سنگ بنیاد ان دو اماموں کی روایتیں ہیں اب امام باقر کا حال سنو۔ (اصول کافی صفحہ 496 نولکشور)

ثم كان محمد بن على ابا جعفر وكانت الشيعة قبل ان يكون ابو جعفر وهم لا يعرفون مناسك حجهم وحلالهم وحرامهم حتى كان ابو جعفر ففتح لهم وبين لهم مناسك حجهم وحلالهم وحرامهم حتى صار الناس يحتاجون اليهم من بعد ما كانوا يحتاجون الى الناس۔

ترجمہ: پھر محمد بن علی ابا جعفر اور شیعہ تھے کہ ان سے پہلے نہیں پہچانتے تھے احکام حج نہ حلال نہ حرام یہاں تک کہ امام باقر آیا پس اس نے شیعہ پر احکام حج وحرام و حلال کا دروازہ کھولا۔ یہاں تک کہ لوگ شیعہ کی طرف محتاج ہونے لگے مسائل میں۔ اس کے بعد کہ پہلے شیعہ لوگوں کی طرف مسائل حرام و حلال وغیرہ میں محتاج تھے۔

نوٹ: اس لفظ کو خوب یاد رکھنا کہ شیعہ لوگوں کی طرف مسائل دینی میں محتاج تھے ان کو کوئی علم حلال و حرام کا نہ تھا۔

 دوم حلالہم و حرامہم میں ہم کی ضمیریں شیعہ کی طرف راجع ہیں یعنی شیعہ مذہب میں جو حلال و حرام ہیں، ان کا علم امام باقر سے پہلے کسی کو نہ تھا۔ نہ کوئی شیعہ مذہب کا حلال و حرام اس وقت تک بنایا گیا تھا۔

سوئم یہ شیعہ مذہب شیعہ مذہب کے حلال و حرام خدا اور رسولﷺ کے بنائے ہوئے نہیں۔ بلکہ امام باقر کے بنائے ہوئے ہیں۔ اور خدا کے حرام کو جو حرام نہ کہے اور حلال کو حلال نہ کہے، اس سے قتال حلال ہے قال اللہ تعالیٰ:

قَاتِلُوا الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوۡنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوۡلُهٗ(سورۃ توبہ: آیت 29)

ترجمہ: ان سے لڑو جو اللہ اور آخرت کو نہیں مانتے اور نہ اللہ اور رسول کی حرام شده چیزوں کو حرام مانتے ہیں۔

 بلکہ جو شخص حرام و حلال خود بناتا ہے، اس کو قرآن نے مشرک فرمایا ہے مگر یہ تمام باقر پر بہتان ہیں اور کذب ہیں۔ لیکن ہم کو ان باتوں سے اس رسالہ میں واسطہ نہیں ہے ہمیں تو یہ ثابت کرنا ہے کہ مذہب شیعہ امام باقر کے زمانہ تک کوئی نہ تھا۔ مذہب حرام و حلال و احکام کو کہتے ہیں جب یہ چیزیں نہ تھیں تو مذہب کہاں تھا اور یہی مضمون بعینہ رجال کشی کے صفحہ 267 پر بھی موجود ہے اس سے بڑھ کر علامہ دلدار علی مجتہد اعظم شیعہ نے اپنی کتاب اساس الاصول کے صفحہ 124 پر کمال کر دیا ہے۔ اس کی پوری عبارت میں نقل کرتا ہوں۔ نتائج آپ خود اخذ کر لیں۔

صفحہ 4 از 16