ایجاد مذہب شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایجاد مذہب شیعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 3 از 16

آگے سیدنا حسینؓ کا حال سنو! شیعوں کا عقیدہ ہے کہ وفات رسول کریمﷺ کے بعد تمام صحابہ کرامؓ مرتد اور کافر ہو گئے اور تمام دین رسولﷺ کا صحابہ کرامؓ کے زمانہ میں ختم ہو گیا تھا اور ارتداد دوم، زمانہ سیدنا حسینؓ میں طاری ہوا جو ائمہ سے کوئی خبط بے ربط چیز بچی ہوئی تھی وہ بھی اس ارتداد نے ختم کر دی۔(رجال کشی: صفحہ7 )

 ثم ينادي منادين حواری الحسين ابن علی ابن ابی طالبؓ فيقوم كل من استشهدو لم يتخلف۔

پھر منادی کرنے والا منادی کرے گا کہ کہاں ہیں حواری سیدنا حسین بن علی ابن ابی طالبؓ کے؟ پس ہر وہ شخص کھڑا ہوگا جو ہمراہ کربلا میں شہید ہوا تھا اور پیچھے نہ رہا تھا۔

 فائدہ: اس امر کو یاد رکھنا آگے کام آئے گا کہ سیدنا حسینؓ کے متبع وہی لوگ تھے جو ان کے ہمراہ شہید ہوئے اور جو باقی رہ گئے تھے وہ مرتد اور غیر ناجی ہیں۔ (رجال کشی کے صفحہ 28 پر ہے)۔

عن ابی عبد الله عليه السلام قال ارتد الناس بعد قتل الحسينؓ صلوات الله عليه الاثلثة ابوخالد الكابلى ويحيىٰ بن ام طويل وجبير بن معطم 

امام جعفر نے فرمایا کہ بعد قتل حسینؓ کے تمام لوگ مرتد ہو گئے تھے صرف تین بچے تھے۔ ابو خالد کابلی یحییٰ بن ام طویل اور جبیر بن معطم۔

فائدہ: اس روایت سے صرف تین آدمی استثناء فرمائے ہیں مگر حدیث منادی نے صاف بتا دیا کہ کوئی آدمی نجات نہ پائے گا۔ سوائے ان آدمیوں کے جو امام کے ساتھ شہید ہوئے ہیں لہٰذا ان تین آدمیوں کو بھی جو مرتد ہونے سے بچے ہیں دوزخی سمجھو، کیونکہ امام حسینؓ کے ساتھ کربلا میں شہید نہ ہوئے تھے۔ اور نجات اسی کو ہو گی جو امام کے ساتھ کربلا میں شہید ہوا۔ جلاء العیون کے (صفحہ 472) سے بھی یہی مضمون ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کے میدان میں وہی کامیاب ہوں گے جو ہمراہ امام شہید ہوئے تھے نیز رجال کشی کے(صفحہ 84)پر موجود ہے کہ ابو خالد کابلی نے حجاج سے بھاگ کر مکہ میں پوشیدہ زندگی بسر کی تھی اور رجال کشی کے اسی (صفحہ 82) پر یحییٰ بن ام طویل کے متعلق لکھا ہے کہ اس کو حجاج نے قتل کر دیا تھا اور رجال کشی کے(صفحہ 4) پر ہے کہ ابو خالد کابلی نے مدت تک محمد بن حنفیہ کو اپنا امام بنا رکھا تھا اور غیر امام کو امام بنانے والا شیعہ کے نزدیک کافر ہے۔

لو جناب مطلع صاف جس دین کو حضرت محمدﷺ لے کر آئے تھے وہ دو ارتداروں نے ضائع کر دیا۔ باقی ہر امام کے دو یا ایک شاگرد جو تابع تھے۔ اول تو انہوں نے رسولﷺ سے مذہب شیعہ کا چلنا بیان ہی نہیں کیا۔ اگر بالفرض بیان کرتے بھی تو مذہب متواتر نہ رہا تو جھوٹ محض ہوا اور شیعہ کو اس بات کا بھی اقرار ہے، کہ جو مذہب رسولﷺ کے صحابہ کرامؓ کے جم غفیر کا تھا، وہی عرب میں اور باہر ملکوں میں بھی پھیلا جیسا کہ فصل الخطاب کے صفحہ 164 پر ہے:

وكون كثير من البلاد فتح خلافة عمر و تلقن اصحاب تلك البلاد سنن عمر فی خلافتهٖ من نوابه رهبة ورغبة كما يلقنوا شهادة ان لا الہٰ الا الله وان محمد رسول الله فنشاء عليها الصغير ومات عليها الكبير

 اور فتح ہونا بہت شہروں کا زمانہ خلافت عمرؓ میں اور سکھاتے گئے اصحاب شہروں کے عمرؓ کا طریقہ اس کی خلافت زمانہ میں جس قدر نائب تھے عمر کے رہبتہ رغبتہ یعنی رعب سے یا خوشی سے جیسا کہ ان گاؤں کے لوگوں کو تلقین کلمہ شہادت یعنی لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گئی تھی پس اسی طریقہ پر پیدا ہوا چھوٹا اور اسی پر فوت ہوا بڑا آدمی۔

 فائدہ: اسی سے دو امر ثابت ہوئے۔

اول یہ تمام علاقوں میں مذہب فاروقی ہی پھیلا۔ جو آج اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے اس پر بچے پیدا ہو کر تعلیم پاتے تھے اور اسی پر بڑے ہو کر مرتے تھے۔

دوم یہ کہ لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ کے آگے کوئی کلمہ نہ تھا۔ جیسا کہ علی ولی اللہ وصی رسول الله۔

 اس سے ثابت ہوا کہ ایران، عراق، یمن، روم، مصر، شام، عرب، افریقہ وغیرہ تمام سنی مذہب پر تھے۔ شیعہ بعد کو ہوئے، چونکہ ان تمام علاقوں کو سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ اور سیدنا صدیقؓ ہی نے فتح کیا تھا اور جو علاقے فتح ہوئے ان میں دین خلفاء ثلاثہؓ کا متمکن ہوتا گیا اور جم گیا اور مضبوط ہو گیا تھا۔

جیسا کہ خود سیدنا علیؓ کا فرمان ہے (نہج البلاغہ: جلد 3 صفحہ 263)

ووليهم وال فاقام واستقام حتى اضرب الدين بجرانۃ۔

 والی ہوا، ان کا والی یعنی حاکم ہوا مسلمانوں کا تو

قائم کیا دین اور خود بھی سیدھا رہا یہاں تک کہ دین نے اپنا سینہ زمین پر رکھ دیا یعنی مضبوط ہو گیا۔

 فائدہ: اور دُرّۃ النجفیہ شرح نہج البلاغہ میں ہے کہ والی سے مراد فاروق ہے۔

 ووليهم وال المنقول ان الوالى هو عمر بن الخطابؓ ۔

 علماء سے منقول ہے کہ حاکم سے مراد فاروق اعظمؓ ہے۔

فائدہ: ثابت ہوا کہ مذہب اہلِ سنت والجماعت خلافتِ خلفاء میں خوب زبردست مضبوط ہو چکا تھا۔

 هم ما قال وليمكنن لهم دينهم الذی ارتضى لهم (قرآن)

اور البتہ ضرور بالضرور مضبوط کر دے گا ان کے لیے دین ان کا وہ دین جس کو خدا نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے۔

 فائدہ: باوعدہ خدائی معلوم ہوا کہ جن خلفاء کا دین متمکن و مضبوط ہو گا اور جن کے زمانہ میں خوب طاقت پکڑے گا وہی خلفاء برحق ہوں گے اور باقرار شیعہ خود واضح ہو چکا ہے کہ دین جس کو خدا نے مضبوط فرمایا وہ زمانہ ثلاثہ میں مضبوط ہوا اور تمام علاقوں میں پھیلا، نہ شیعہ نہ دین شیعہ اور نہ ائمہ شیعہ بہ اقرار شیعہ تین یا دو آدمیوں سے زائد ائمہ کے زمانہ میں پائے ہی نہ گئے تھے۔ لہٰذا نہ دین شیعہ کو تمکن و مضبوطی حاصل ہوئی اور نہ وہ خدا کا دین ہوا بلکہ کسی دشمنِ دین کا ایجاد شدہ ہے، شیعہ یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ امام حسنؓ و حسینؓ نے امیر معاویہؓ کی بیعت کر لی تھی اور مان کر اپنا پیرو حاکم مان لیا تھا۔ جس طرح حضرت علیؓ نے خلفاء ثلاثہؓ کی بیعت کر کے ان کو اپنا پیشواء دین و حاکم مان لیا تھا۔

رجال کشی کے صفحہ 72 پر امام جعفرؓ سے مروی ہے۔

فقال معاوية ياحسن قم فبايع فقام فبايع ثم قال للحسين عليه السلام قم فبايع فقام فبايع

 معاویہ نے امام حسن کو کہا، اٹھ کھڑا ہو اور میری بیعت کر پس امام حسنؓ نے بیعت کر لی پھر امام حسین (ع) کو کہا کھڑا ہو اور میری بیعت کر پس امام حسین (ع) نے بیعت کر لی۔

صفحہ 3 از 16