ایجاد مذہب شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایجاد مذہب شیعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 16

سیدنا سلمانؓ یا سیدنا ابو ذرغفاریؓ یا سیدنا مقدادؓ نے رسول خداﷺ سے یوں نقل کیا کہ رسول خداﷺ نے فرمایا۔ چلو پیش کرو جب آپ ان سے پانچ روایتیں مرفوع رسولِ خداﷺ سے نہیں پیش کر سکتے تو پھر انہوں نے مذہب شیعہ کو رسول خداﷺ سے کیسا نقل کیا تھا؟

 جواب دوم: خود ان تین حضرات کا یہ حال تھا کہ اپنے عقائد، دل کی بات اپنے بھائی ہم مذہب کو بھی نہ بتاتے تھے۔ اگر ایک دوسرے کو بتاتا تو یقیناً ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ورنہ فتویٰ کفر کا ایک دوسرے پر لگا دیتے۔ (دیکھیے اصول کافی صفحہ 254)

عن ابی عبد الله عليه السلام قال ذكرت التقية يوما عند على بن الحسينؓ فقال والله لو علم ابوذرؓ ما في قلب سلمانؓ لقتله ولقد اخارسول اللهﷺ بينهما فماظنكم بسائر الخلق

ابی جعفر صادقؒ سے ہے کہ ایک دن سیدنا زین العابدینؒ کے پاس تقیہ کا ذکر ہوا پس فرمایا امام نے قسم خدا کی اگر سیدنا ابوذرؓ کو سیدنا سلمانؓ کے دل کی بات معلوم ہو تو اس کو قتل کر دے البتہ محقق بات ہے نبی کریمﷺ نے دونوں کو بھائی بنایا تھا پس کیا خیال ہے تمہارا باقی مخلوق کے ساتھ اور یہی روایت رجال کشی کے صفحہ 12 پر موجود ہے۔

 اور فتویٰ کفر والی روایت رجال کشی کے صفحہ 7 پر موجود ہے۔

عن ابی بصير قال سمعت ابا عبد الله بقول رسول اللهﷺ يا سلمانؓ لو عرض علمك على مقدادؓ لكفر يا مقدادؓ لو عرض على سلمانؓ الكفر 

ابی بصیر کہتا ہے کہ میں نے سیدنا جعفرؒ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ رسول خداﷺ نے فرمایا اے سلمانؓ اگر تمہارا علم یعنی دل کی بات مقدادؓ کو معلوم ہو جائے تو مقدادؓ کافر ہو جائے۔ اے مقدادؓ اگر تمہارا حال دل کا سلمانؓ پر پیش کیا جائے تو سلمانؓ کافر ہو جائے۔

 فائدہ: یہ حال تھا ان دونوں بھائیوں کا بھائی بھی وہ جن کو رسول خداﷺ نے بھائی بھائی بنایا تھا پھر باقی ایرے غیرے شیعہ کا کیا پوچھنا۔

 اے حضرات شیعہ! جب ان کی یہ حالت تھی کہ اپنا عقیدہ اپنے بھائی کے سامنے زبان پر نہ لاتے تھے تو غیر کو یہ کب بتاتے تھے۔ اگر غیر کے سامنے پیش کرتے تو وہ یقیناً بجائے ایمان کے کافر و اکفر ہو جاتے۔ یہ عقائد ان کو یقیناً رسولﷺ نے سکھائے تھے اور بہت سے ایسے خراب اور متضاد عقیدے تھے جن کا انجام قتل و فتویٰ کفر پر تھا۔

اے شیعہ صاحبان فرمائیے! انہی سے دین شیعہ نقل ہو کر آیا ہوگا؟ یہ تھا حال صحابہ کرامؓ کا شیعہ مذہب میں کہ جس دین کو رسولﷺ لے کر آیا تھا وہ ہرگز ہرگز دنیا میں نہیں پھیلا۔

اے علماء شیعہ! آپ کسی دلیل سے کہتے ہیں کہ مذہب شیعہ رسولﷺ سے چلا ہے رسولﷺ نے اس مذہب کی تعلیم دی۔ آپ کے عقیدے سے تو کوئی مذہب ہی رسولﷺ کا ثابت نہیں ہو سکتا شیعہ کا بیان، پس جو دین نبی کریمﷺ نے پیش کیا تھا وہ ضائع ہو گیا۔ اول راوی چشم دید گواہ سب بے کار ثابت ہوئے ہیں شیعہ کو یہ بھی اقرار ہے کہ سیدنا علیؓ موت تک کوئی حکم، خلاف خلفائے ثلاثہؓ کے جاری نہ کر سکے۔ اور یہ بھی کہ آپ کے شاگرد بہت کم تھے۔ جیسے کہ( رجال کشی کے صفحہ6 پر موجود ہے) کہ میدانِ قیامت میں سیدنا علیؓ کے ساتھی صرف چار آدمی ہوں گے، باقی دوزخی ہوں گے۔ اول تو کوئی سیدنا علیؓ کے عقیدہ کا آدمی پیدا ہی نہ ہوا تھا۔ ان کی خلافت میں اگر ہوا تو سیدنا علیؓ اس سے بیزار ہو جائیں گئے قیامت کے دن جس سے سیدنا علیؓ بے زار ہوا ہم ان کے دین و مذہب سے بیزار ہیں۔ اور ان کی روایت سے بھی بے زار نیز جب خود سیدنا علیؓ نے خلفائے ثلاثہؓ کے مذہب کے خلاف کوئی بات اپنے زمانۂ خلافت میں نہ فرمائی، تو ان چار کو سُنی مذہب کے خلاف شیعہ مذہب کی کب تعلیم دی ہوگی؟ اگر شیعہ میں غیرت ہے تو اپنے مذہب پر ان چاروں سے، وہ سیدنا علیؓ سے اور سیدنا علیؓ رسولِ خداﷺ سے اس طرح کی روایت پیش کریں افسوس کہ روایات تو لیں زرارہ و ابوبصیر سے اور نام لیں رسولِ خداﷺ کا۔(دیکھو رجال کشی صفحہ 6 مذکورہ)

ثم ينادی مناد این حواری علی بن ابی طالبؓ وصى محمد بن عبد الله رسول اللهﷺ فيقوم عمر بن الحمق الخزاعی ومحمد بن ابی بكر وميشم بن يحيىٰ التمار مولى بنی اسد و اويس القرنی

پھر منادی کرنے والا ندا کرے گا۔ کہاں ہیں حواری علی ابن ابی طالبؓ کے جو کہ وصی رسول اللہﷺ کا تھا، پھر عمر بن الحمق خزاعی اور محمد بن ابی بکر اور میشم بن یحییٰ التمار مولی بنی اسد کا اور اویس قرنی کھڑے ہوں گے۔

 فائدہ: اویس قرنی کا خواہ مخواہ نام لے لیا۔ باقی عمر بن الحمق اور میشم اور محمد بن ابی بکر ان کی زبان سے پانچ حدیثیں مرفوع رسول خداﷺ سے پیش کریں دوئم بالفرض محال ہم بقول شیعہ علی کو معصوم بھی مان لیں تو آگے چل کر چار آدمی پیدا ہوتے ہیں جن سے تواتر نہیں چلتا۔ جب مذہب میں تواتر نہ رہا تو مذہب شیعہ باطل ہوا۔

آگے سیدنا حسنؓ کا زمانہ آیا، تو ان کے متبعین کی جماعت کا حال دیکھیں۔ رجال کشی کے صفحہ 6 پر ہے:

کہ سیدنا حسنؓ کے متبع صرف دو آدمی تھے۔

 ثم ینادی مناد این حوارى الحسنؓ بن على و ابن فاطمهؓ بنت محمد بن عبد الله رسول اللهﷺ فيقوم سفيان بن ابي ليلا الهمداني وحذيفة بن ابی اسيد الغفارى

 پھر منادی کرنے والا منادی کرے گا کہاں ہیں حواری سیدنا حسن بن علیؓ، و ابن فاطمہؓ بنت محمد رسول اللہﷺ پس سفیان ابن ابی لیلا ہمدانی اور حذیفہ اسید غفاری کھڑے ہو جائیں گے۔

 فائدہ: سفیان وہ شخص ہے جس نے سیدنا حسنؓ کو بعد صلح سیدنا امیر معاویہؓ کے مذل المؤمنین کہا تھا۔ یعنی امام کے حق میں گستاخی کی تھی۔ (رجال کشی: صفحہ 73 )

فقال له سفيان السلام عليك يا مذل المومنين۔

 سفیان نے کہا اے مومنوں کو ذلیل کرنے والے تم پر سلام ہو۔

 اصول کافی میں پورا باب باندھا ہوا ہے، کہ تمام کام بحکم خدا کیا کرتے ہیں۔ سیدنا امیر معاویہؓ سے صلح بحکم خدا تھی۔ اور سفیان نے حکم خدا کی نافرمانی کی اور امام کے فعل کو ذلیل فعل کہا یہ کب مسلمان رہا ہوگا؟ اگر کوئی دین کا مسئلہ باقی تھا تو سیدنا حسنؓ پر دین رسولی ختم ہو گیا۔ امام کا ساتھی ایک آدمی رہا۔

صفحہ 2 از 16