ایجاد مذہب شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایجاد مذہب شیعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 15 از 16

 عن زرارة قال سئلت اباعبدالله عن احاديث جابر فقال ماراتيه عند ابی قط الأمرة واحدة وما دخل على قط

 زرارہ کہتا ہے کہ میں نے امام جعفر سے سوال کیا کہ جابر کی حدیث کے متعلق تو فرمایا کہ میرے باپ کے پاس صرف ایک دفعہ آیا تھا اور میرے پاس کبھی آیا بھی نہیں۔

 فائدہ : ستر ہزار حدیث کس سے لی تھی؟جب امام نفی فرما رہے ہیں تو اے حضرات شیعہ اب ستر ہزار حدیث کو اپنی کتب سے نکال ڈالیں۔ 

اور یہ بھی فرمائیے کہ آپ کے یہ راوی ائمہ سے حدیث نقل کرنے والے صادق ہیں یا کاذب؟ اگر صادق ہیں، تو پھر آپ کا مذہب حق بجانب اور اگر بقول مجلسی امام کی زبانی ان کا ملعون، کافر، یہودی، کاذب اور مفتری ہونا ثابت ہوچکا تو پھر تو مذہب شیعہ باطل ہوا؟

 تو خود انصاف کیجیے گا کہ صرف مرثیہ خوانی پر لوگوں کو خراب کرکے ان کی عاقبت برباد نہ کریں۔

 پس مختتم بات یہ ہے کہ اگر ان راویان مذہب شیعہ کو چشم بند کر کے صادق مان لیں، تو ائمہ کا مذہب و دین ایسا مشکل و مشتبہ ہو جاتا ہے کہ دنیا بھر کے شیعہ مل کر ان راویان کو کاذب مان لیں تو مذہب شیعہ دنیا میں ایک منٹ بھی باقی نہیں رہ سکتا۔ کیا خوب مذہب ہے جو لاعن و ملعون سے چل رہا ہے۔

 ناظم صاحب ملک النجات نے انبیاء کی میراث کے بارے میں ابو البختری پر جرح کی تھی کہ یہ کذاب ہے، اس کے جواب میں میرے محبوب دوست پیرا حمد شاہ صاحب نے جواب دیے۔ جب وہ جواب ناچیز کے سامنے آئے، تو میں نے عرض کی، کہ شاہ صاحب! آپ نے جواب میں طول دیا ہے جواب بالکل مختصر ہے، کہ دنیا بھر کے شیعہ مل کر اپنا ایک ایسا راوی پیش کریں جو ثقہ اور صادق ہو۔

 ابو البختری بے چارہ نے شیعوں کی ایک ایک فریبانہ کہانی متقدمین شیعہ کی زبانی بیان کی کہ شیعہ مذہب کن کن چالاکیوں اور فریب کاریوں سے دنیا میں پھیلا سنیوں میں سنی، حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی بن کہ مدرس رہے، کتب اہلِ سنت میں دست اندازی کی اور موضوع روایات اہلِ سنت کی کتابوں میں درج کی گئیں نور اللہ شوستری نے مجالس المؤمنین میں لکھا ہے۔

علما شیعہ بعلت تمادی استیلائے اصحاب شقاق و استیلائے اربابِ تغلب و نفاق ہموارہ درزاویه تقیہ مخفی بوده اند خود را شافعی یا حنفی نموده اند۔

علماء شیعہ بوجہ ربا ہو جانے زمانہ کے اور تسلط مخالفین و غلبہ متغلبین و منافقین کے ہمیشہ گوشتہ تقیہ میں چھپے رہے اور اپنے کو حنفی یا شافعی ظاہر کرتے ہے اور علماء نے منہج الکرامہ میں فرمایا۔

 كثير اما راينا من يتدين فى الباطن بدين الامامية ويمنعه من اظهاره حب الدنيا وطلب الرياسته وقد رءيت بعض ائمة الحنابلة يقول انی على مذهب الامامية فقلت لم تدرسين على مذهب الحنابلة فقال ليس فی مذهبكم الفلات والمشاهرات وكان اكبر مدرس الشافعيه في زماننا حيث توفى اوصى ان يتولى امره فى غسله وتجهيزه بعض الاماميه وان تدفن فی مشهد مولانا الكاظم واشهد عليه انه كان على مذهب الامامية

 ہم نے بہت سے لوگ دیکھے ہیں، جو باطن میں مذہب شیعہ رکھتے تھے مگر بوجہ محبت دنیا و طلب ریاست کے اس کو ظاہر نہ کرتے تھے اور میں نے دیکھا بعض ائمہ جنبلیہ کو وہ کہتے تھے کہ ہم شیعہ ہیں میں نے ان سے کہا کہ پھر اب جنبلی مذہب کی تعلیم کیونکر دیتے ہو!؟ تو انہوں نے کہا کہ تمہارے مذہب میں آمدنی اور تنخواہ نہیں ہیں اور ہمارے زمانہ میں شافعیہ کا ایک مدرس اعلیٰ یعنی صدر مدرس تھا جب وہ مرنے لگا تو وصیت کی کہ میری تجہیز و تکفین کسی شیعہ کے سپرد کی جائے۔ اور ہم کو مشہد موسیٰ کاظم میں دفن کیا جائے اور لوگوں کو کہا کہ میں باطن میں شیعہ تھا۔

 یہ فریب اس واسطے دیا کہ طلباء کو شیعہ بنانے کا یہی اچھا طریقہ ہے۔ اگر شیعہ کے رنگ میں رنگے نہ گئے تو کم از کم بھگوڑے تو ضرور ہو جائیں گے۔

 مجالس المؤمنین میں قاضی نور اللہ صاحب رقمطراز ہیں۔

 بسیارے از اصحاب خود را دیده بودم که چوں استماع علم عامه علم خاص کردند ہر دورا کہ با هم مخلوط کردند تاآنکہ حدیث عامہ راز خاصہ روایت نموده اندو روایت خاصہ از عامہ

 میں نے بہت سے شیعہ کے اصحاب کو دیکھا کہ جب علم عامہ(سُنی) اور خاصہ شیعہ کا علم حدیث حاصل کر لیا، تو دونوں کو ملا کر سُنیوں کی حدیثوں کو شیعوں سے اور شیعوں کی حدیثوں کو سنیوں سے روایت کرتے تھے۔ 

اس تقیہ بازی کی وجہ سے ان علماء شیعہ کے ہاتھوں سنیوں کی کوئی کتاب نہ بیچ سکی۔ آج جس قدر سُنی کتب پر شیعہ اعتراض کرتے ہیں اور تمام روایتیں ان کی خود ساختہ ہیں۔ ان تقیہ بازوں میں حسین بن روح سفیر ثالث امام غیب ہے جس کے متعلق فصل الخطاب صفحہ 28 پر ہے۔

 ورئيس هذا الطائفة الشيخ الذى ربما قيل بعصمته ابو القاسم حسين بن روح

 قائلین تحریف قرآن کی جماعت کا رئیس وہ شیخ جس کے بارے میں بہت دفعہ معصوم ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے ابو القاسم حسین بن روح ہے۔

 اس نے اکیس برس امام اور شیعہ کے درمیان سفارت کی حق الیقین کے صفحہ 384 پر ہے۔

 وہ اکیس برس سے زیادہ سفارت و نیابت میں مشغول رہا اور تمام شیعوں کا مرجع تھا۔ وہ اس طرح تقیہ کرتا تھا کہ اکثر سُنی اس کو اپنے گروہ سے جانتے تھے اور محبت کرتے تھے۔

 فائدہ: یہ تو علماء معصومین کا حال تھا غیر کا کیا کہنا؟ شیعوں کے راویوں نے ہر موقع و ہر محل کی حدیث گھڑلی جب کوئی سوال ہوا کہ امام تو امامت سے انکار کرتے ہیں جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے تو ان پرزوں نے جواب دیا کہ وہ تقیہ کر کے انکار کرتے تھے۔ ورنہ ان کا مذہب تو شیعہ ہی تھا۔اور پھر اس پر سوال ہوا، مکہ تقیہ تو صاف جھوٹ ہے، تو جواب دیا۔ (اصول کافی باب الثواب) 

التقية من ديني ومن دين ابائى لادين لمن لا تقية له 

کہ امام فرماتے ہیں کہ تقیہ ہمارا اور ہمارے باپ دادوں کا دین ہے جو تقیہ نہ کرے وہ بے دین تقیہ نہ کرے وہ بےدین ہے تقیہ میں تو بڑا ثواب ہے۔

 پھر سوال ہوا کہ تم پھر اپنے مذہب کی تبلیغ کیوں نہیں کرتے تو جواب دیا۔ (اصول کافی صفحه 485)

 انكم على دين من كتمه اعزه الله ومن اذاعه اذله الله۔

 اے شیعو! تم ایسے دین پر ہو کہ اگر اس شیعہ دین کو چھپا رکھو گے تو تم کو خدا عزت بھی دے گا اور اگر ظاہر کرو گے تو تم کو خدا ذلیل کرے گا۔ پس مذہب کو ظاہر نہ کرنا۔

صفحہ 15 از 16