ایجاد مذہب شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایجاد مذہب شیعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 14 از 16

امام نے فرمایا! ہاں زرارہ بُرا ہے یہود ونصاریٰ اور تین خدا ماننے والوں سے بھی۔

 اسی رجال کشی کے صفحہ100 پر امام جعفر کا فتویٰ

فقال لعن الله زرارة لعن الله زرارة لعن الله زرارۃ -

امام نے فرمایا کہ خدا لعنت کرے زرارہ پر، یہ لفظ تین بار فرمائے۔

 پھر زرارہ نے امام کو اس لعنت کا جواب دیا رجال کشی صفحہ 106

 فلما خرجت ضرت فی لحيته فقلت لا يفلح ابدا 

پس جواب میں امام سے باہر آنے لگا تو میں نے امام کی ڈاڑھی میں پاد مارا اور میں نے کہا کہ امام کبھی نجات نہ پائے گا۔

 اب سبائی کمیٹی کے پریزیڈنٹ ابوبصیر کا نمبر ہے۔ اس نے امام کی توہین کی تھی کہ امام کو طماع دنیادار کہا رجال کشی صفحہ 116 پر ہے۔ 

قال جلس ابو بصيير على باب ابی عبدالله عليهںالسلام ليطلب الاذن فلم يؤذن له فقال لوكان معناطبق لاذن قال فجاء كلب فشغر فی وجه ابی بصير

 راوی کا بیان ہے کہ ابو بصیر امام جعفر کے دروازہ پر بیٹھا تھا کہ اسکو اندر جانے کی اجازت دی جائے مگر امام نے اجازت نہ دی تو ابو بصیر نے کہا کہ اگر میرے پاس کوئی طبق ہوتا تو اجازت مل جاتی، پس کہتا آیا اور اس نے ابو بصیر کے منہ میں پیشاب کر دیا۔ 

 نوٹ: یہ ابوبصیر اندھا تھا اور کوفہ کا تھا۔

فرمایئے مجلسی صاحب! کیا زرارہ اور ابوبصیر جن کی روایات پر مذہب شیعہ کی مدار ہے، آپ نے ان کو اپنی پیشوائی سے معزول کیا؟ جب کہ امام نے ان پر گمراہی اور کفر کا فتویٰ دیا اور تمام مذہب کے علماء کا ان کی گمراہی پر بھی ہے اگر پہلے یاد نہ تھا تو اب وہ تمام حدیثیں جو ان سے مروی ہیں نکال دو مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے بھلا ان کی روایات نکال دیں تو پھر باقی مذہب کی سطح ہوا پر رہ جائے گی کیونکہ تین حصے دین ان سے مروی ہے۔ 

اب محمد بن مسلم کا حال حسبِ ذیل ہے۔ رجال کشی کے صفحہ 101 پر ہے محمد بن مسلم کو صرف دو اماموں سے چھیالیس ہزار احادیث یاد تھی۔

 عن محمد بن مسلم قال ما شجن في رائى شئ قط الاسئلت عنه اباجعفر عليه السلام حتى سئلت عن ثلثين الف حديث وسالث ابا عبد الله علیه السلام عن ستة عشرالف حديث

 محمد بن مسلم بیان کرتا ہے کہ میرے دل میں کوئی چیز کبھی نہیں کھٹکی مگر میں نے اس کا سوال امام باقر سے نہ کیا ہو اور امام باقر سے میں نے تیس ہزار حدیث تعلیم پائی اور امام جعفر سے سولہ ہزار حدیث تعلیم پائی۔

 اور رجال کشی کے صفحہ 113 پر محمد بن مسلم کے بارے میں امام جعفر کا فتویٰ مندرجہ ذیل ہے 

عن مفضل بن عمر قال سمعت اباعبد الله يقول لعن الله محمد بن مسلم كان يقول ان الله لا يعلم شيئا حتىٰ يكون

 مفضل بن عمر بیان کرتا ہے کہ میں نے امام جعفر سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے اللہ تعالیٰ محمد بن مسلم پر لعنت کرے کہ یہ ملعون خدا کو جاہل کہتا ہے کہ جب تک چیز پیدا نہ ہو جائے خدا نہیں جانتا۔

 اب بریدہ بن معاویہ کا حال حسب ذیل ہے۔

 رجال کشی کے صفحہ 99 پر ابی یسار امام جعفر سے بیان کرتا ہے۔ 

قال سمعت ابا عبد الله يقول لعن الله بريده ولعن الله زرارة

 ابی یسار بیان کرتا ہے امام جعفر نے فرمایا خدا کی لعنت ہو بریدہ پر اور زرارہ پر

 فائدہ: معلوم ہوتا ہے کہ زرارہ سے امام کو بہت پیار تھا اس کو عطیہ لعنت کے ساتھ یاد فرماتے ہیں۔ 

اے اہلِ اسلام! واللہ انصاف سے بتاؤ کہ مذہب شیعہ کے یہی چار ستون تھے جن پر چھت استوار تھی جب یہ چاروں ستون لعنت کی دیمک کی وجہ سے گر گئے تو فرمائیے کہ اب مذہب کی سطح کس چیز پر کھڑی ہو گی؟

 اے علماء شیعہ صرف چھیالیس ہزار حدیث محمد بن مسلم ملعون کی جو آپ کی کتابوں میں درج ہے برائے خدا اسی کو نکال کر دیکھنا کہ باقی مذہب شیعہ میں کیا رہ جاتا ہے؟ اور پھر زرارہ کو بمعہ اسکے شاگردوں کے نکال کہ مذہب شیعہ کا منہ شیشہ میں دیکھیں کہ کیا خوب ہے۔ 

باقی ہشامین کا حال پہلے مذکور ہو چکا کہ توحید باری کے قائل نہ تھے۔ اور اسی طرح مؤمن طاق اور میشی وغیرہ پھر یہی مومن طاق فضیل، ابوبصیر اور ہشام اور یہ حضرات بمعہ کافی جماعت شیعہ کے امام جعفر کی وفات کے بعد گمراہ ہوگئے، اور خارجی مذہب کو پسند کر لیا تھا۔ اصول کافی صفحہ 221 پر ہشام بن سالم سے روایت ہے۔

قال فخرجنا من عنده ضلالا لايدرى اين نتوجه انا وابو جعفر الاحول فقعدنا في المدينة باين حيارى لا ندرى الى اين نتوجه ولا الى من نقصد يقول إلى المرجيه الى القدرية الى الزيدية الى المعتزلة الى الخوارج فنحن كذلك ۔

 ہشام بن سالم کہتا ہے کہ ہم امام کے لڑکے عبداللہ بن جعفر کے پاس سے گمراہ ہو کر نکلے۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ کس طرح جائیں میں اور احول پس بیٹھ گئے مدینہ کی گلی میں روتے ہوئے حیران پریشان لاعلم تھے کس طرح جائیں اور کس کو اپنا مقصود بنائیں کیا ہم  فرقہ مرجیہ کی طرف پلٹ جائیں، قدریہ کی طرف زیدیہ کی طرف معتزلہ کی طرف، خارجی کی طرف، پس ہو گئے ہم خارجی۔

 لوحضرت جی!امام جعفر کی موت نے تمام کو خارجی بنا کر مرتد کر دیا۔ اس عبارت سے واضح ہو گیا کہ امام کی حدیثیں ان کے پاس اس وقت کوئی موجود نہ تھیں جن پر عمل کر کے یقین حاصل کرتے کیا امام مر گیا تھا تو اس کی حدیث تو نہ مر گئی تھی۔ آگے عمران و بیکر جن کو مجلسی نے راوی لکھا ان کا حال حسبِ ذیل ہے۔

 کہ یہ دونوں زرارہ کے بھائی تھے زرارہ کے تین بھائی تھے دو مذکور اور تیسرا عبد الملک، زرارہ کے دو لڑکے تھے حسن و حسین حمران کے دو لڑ کے تھے۔ حمزہ اور محمد اور عبدالملک کا ایک لڑکا عرشین تھا اور بیکر کے پانچ تھے عبد اللہ جہم، عبد المجید، عبدالاعلی، عمر، ان تمام کو آل اعین کہا جاتا ہے جیسا زراہ بن اعین، ان تمام کو رجال کشی صفحہ 102 پر یہود کی مثل لکھا ہے۔

باقی ہم کو کسی خاص خاص راوی کی جانچ پڑتال کی ضرورت نہیں۔ جب ہم نقل کر چکے ہیں کہ امام جعفر صادق کے زمانہ تک امام جعفر کو کوئی آدمی مومن سوائے عبداللہ بن یعفور کے نہ ملا تھا۔ ابان بن تغلب بھی امام جعفر کا شاگرد تھا اور انہی کے زمانہ میں فوت ہوا۔

 اب ذرا جابر، یزید اور جعفی محدث کا حال سنیں۔ رجال کشی صفحہ 128 پر ہے۔

 عن جابر بن يزيد الجعفی قال حدثنى ابوجعفر بسبعين الف حديث

 جابر جعفی بیان کرتا ہے کہ میں نے امام باقر سے ستر ہزار حدیث تعلیم پائی۔ اور اسی رجال کشی کے صفحہ 126 پر ہے ۔

صفحہ 14 از 16