ایجاد مذہب شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایجاد مذہب شیعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 13 از 16

 اگر یہ سچے اور صادق ہیں تو مذہب شیعہ کا اماموں سے چلنا ٹھیک اور اگر یہ جھوٹے اور کذاب ہیں تو مذہب شیعہ کا اماموں سے چلنا غلط ہے۔ حق الیقین اردو صفحہ 371 سے قول باقر مجلسی کا میں پورا نقل کر دیتا ہوں ہر صاحب انصاف نتائج آسانی سے خود نکال لے گا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اہل حجاز و عراق و خراسان و فارس وغیرہ سے فضلاء کی ایک جماعت کثیر حضرت باقر و حضرت صادق اور نیز تمام ائمہ کے اصحاب سے تھی مثل زرارہ محمد بن مسلم ابوبریده ابو بصیر ہشامین حمران جیکر، مومن طاق ابان بن تغلب اور معاویہ بن عمار کے اور ان کے علاوہ اور جماعت کثیرہ بھی تھی جن کا شمار نہیں کر سکتے اور کتب رجال اور علماء شیعہ کی فہرستوں میں مسطور و مذکور ہیں یہ سب شیعوں کے رئیس تھے ان لوگوں نے فقہ، حدیث و کلام میں کتابیں تصنیف کر کے تمام مسائل کو جمع کیا ہے۔ ان میں ہر ایک شخص بہت سے شاگرد اور پیرو رکھتا تھا یہ لوگ ائمہ طاہرین کی خدمت میں ہمیشہ حاضر ہو کر حدیثیں سنتے تھے۔پھر ملک عراق اور تمام شہروں کی طرف مراجعت کر کے ان حدیثوں کو اپنی کتابوں میں ثبت کرتے تھے۔ یہ لوگ ائمہ طاہرین سے روایت کرتے اور بزرگوں کے معجزات منتشر کرتے تھے، ان لوگوں کا اختصاص ائمہ طاہرین کے ساتھ معلوم و محقق ہے جیسا کے ابوحنیفہؒ کے ساتھ ابویوسفؒ اور اس کے شاگردوں کا اور یہ بھی تمام لوگوں کو معلوم ہے اور اس میں کوئی شک نہیں اگر ائمہ طاہرین ان کے اقوال و احوال سے مطلع تھے۔

پس ان لوگوں کی حالت دو صورتوں سے خالی نہیں ہے یعنی یہ لوگ مذہب شیعہ سے جن امور کی نسبت ائمہ طاہرین سے دیتے ہیں ان میں راست گو اور محقق ہیں، یا دروغ گو اور مبطل اگر ان امور میں صادق ہیں جن کی نسبت ائمہ طاہرین سے کرتے ہیں(یعنی دعویٰ امامت، ان بزرگواروں پر نص کا صادر ہونا ان بزرگوں کے معجزات، ان کے مخالفوں کا کفر و فسق) پس یہ تمام امور حق اور ثابت ہیں اور اگر دروغ کہتے ہیں تو پھر ائمہ باوجودیکہ ان کے اقوال و احوال سے آگاہ تھے کس لیے ان سے بیزاری طلب نہ کرتے تھے اور ان کا کذب بطلان ظاہر نہ کر دیا۔ جیسا ابوالخطاب و مغیرہ بن شعبہ اور تمام غالیوں اور اہل ضلالت کے مذاہب باطلہ سے بیزاری طلب کرتے تھے۔ اگر دیدہ و دانستہ اغماض کر کے ان کے مذاہب باطلہ کے اقوال و افعال کو بہتر کہتے تھے پس العیاذ باللہ خود بھی اہل ضلالت سے قرار پائیں۔(ختم ہوئی عبارت)

 اس عبارت سے موٹے چار فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ 

 فائدہ 1: یہ کہ مذہب شیعہ نبی کریمﷺ کے زمانہ میں نہ تھا نہ ہی یہ مذہب نبی کریمﷺ سے ماخود ہے اور نہ ہی اس مذہب کا واسطہ نبی کریمﷺ سے ہے، البتہ اس مذہب کی نسبت ائمہ کی طرف کی گئی ہے مگر وہ دیکھا جائے گا۔

 فائدہ 2: یہ کہ اس مذہب کا کوئی راوی عرب کا اور خاص کر مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کا نہیں ملتا۔ تمام راوی عراق و ایران کے ہیں جو ملک کہ خلفائے ثلاثہؓ اور اسلام کے بدترین دشمن تھے اور جن کو ملک کا بَیر تھا۔

 فائدہ 3: یہ کہ اگر جماعت کاذب ثابت ہو جاتے تو مذہب شیعہ باطل ہے۔

 فائدہ 4: یہ کہ اگر یہ باطل پر ہے اور ائمہ نے ان سے بیزاری نہ حاصل کی ہو، تو خود ائمہ معاذ اللہ بےدین ثابت ہو جائیں گے کیا جن لوگوں کو ائمہ کرام نے خالی نکال نہیں دیا، بلکہ ملعون و کافر قرار دیا تھا ان کو شیعہ نے پیشوائی سے معزول کیا ہے کیا ان کی مروی حدیثیں کتابوں سے نکال دی ہیں۔

 میں کہتا ہوں کہ جن کو ائمہ کرام نے کافر و ملعون قرار دیکر نکالا ہے، اگر شیعہ کو وہ آگے معلوم نہ تھے تو اب میں بتاتا ہوں، آپ ہی برائے خدا ان کی مروی حدیثیں شیعہ اپنی کتب سے نکال ڈالیں۔ 

 لو! سب سے اول زرارہ جو سبائی کمیٹی کا صدر اعظم ہے جس پر نصف مذہب شیعہ کی مدار ہے جس کے ہزاروں شاگرد تھے۔ رجال کشی کے صفحہ 95 میں ہے کہ یہ امام جعفر سے کم نہ تھا۔ 

قال اصحاب زرارة من ادرك زرارة بن اعين فقد ادرك ابا عبد الله عليه السلام

 زرارہ کے شاگردوں نے فرمایا جس شخص نے زرارہ کو پایا تحقیق اس نے امام جعفر کو پالیا۔

 فائدہ : خلاصہ یہ کہ امام کا ہم پلہ تھا علم وغیرہ میں رجال کشی صفحہ 103 پر ہے۔

 عن جميل بن دراج قال ما رايت رجلا مثل زرارة بن اعين انا كنا نختلف اليه فما كنا حوله الا بمنزلة الصبيان في الكتاب حول المعلم 

جمیل بن دراج کا بیان ہے کہ میں نے کوئی آدمی مثل زرارہ کے نہیں پایا ہم اس کے حلقہ تعلیم میں بچوں کی طرح ہوتے تھے جیسا معلم کے گرداگرد ہوتے ہیں۔ 

اسی رجال کشی صفحہ90، 91 پر ابی عبداللہ سے ہے۔

يقول عبد الله ما اجد احداً احياذ كرنا واحاديث ابى عليه السلام الازرارة وابو بصير ليث الراوى ومحمد بن مسلم وبريد بن معاوية العجلی ولولا هوٰلآء ما كان احد يستنبط هذا هولاء حفاظ الدين وامناء ابی عليه السلام على حلال الله وحرامه

امام جعفر فرماتے ہیں کہ میں کسی ایک کو نہیں پاتا کہ اس نے ہمارا ذکر یا احادیث میرے والد کی زندہ کی ہوں۔ سوائے زرارہ، ابوبصیر محمد بن مسلم او یزید بن معاویہ کے اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو کوئی ایک بھی نہ تھا کہ اس علم کا استنباط کرتا۔ یہ لوگ دین کے محافظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حلال حرام کے امین ہیں۔ 

 فائدہ: امام جعفر صادق کے قول کے مطابق معلوم ہوا کہ جس قدر امامت کا ذکر یا معجزات ائمہ کا ذکر یا حدیثیں، یا حرام و حلال کا ذکر زندہ رہا اور حدیثیں منقول ہیں، سب ان ہی کی روایت شدہ ہیں۔ نہ غیر سے اگر غیر سے ہیں تو بہت کم، اور پھر غیر ان کا ہی شاگرد ہو گا یا شاگرد کا شاگرد ہو گا۔

 خلاصہ: یہ کہ شیعہ کا دین ان ہی حضرات سے منقول ہے یہ چار ستون ہیں۔ مذہب شیعہ کی سطح انہی پر استوار ہے زرارہ کے بعد ابو بصیر کا نمبر ہے پھر محمد بن مسلم کا اب یہ دیکھنا ہے کہ آیا امام نے ان چاروں کو جن پر مذہب شیعہ کی سطح استوار ہے نکالا تھا یا نہیں؟

حق الیقین اردو کے صفحہ 766 پر ہے کہ زرارہ و ابو بصیر باجماع امامیہ گمراہ ہیں۔ عبارت یہ ہے

 یہ حکم ایسی جماعت کے حق میں ہے جن کی ضلالت پر صحابہ کا اجماع ہے جیسا کہ زراره و ابوبصير"

 رجال کشی کے صفحہ 107 پر زرارہ کے حق میں امام جعفر کا فتویٰ۔ 

قال نعم زرارة شر من اليهود والنصارىٰ ومن قال ان مع الله ثالث ثلاثہ 

صفحہ 13 از 16