ایجاد مذہب شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایجاد مذہب شیعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 12 از 16

 عبد اللہ بن سباء یہودی خلیفہ سوم حضرت عثمان غنیؓ کے زمانہ میں منافقانہ طور پر مسلمان ہوا اور خلیفہ کے دربار میں مقرب بننے کی کوشش کی مگر ناکام رہا اور بڑے پوسٹ پر ملازم ہونے کی بھی کوشش کی تو بھی ناکام رہا اور اس وجہ سے اس کی خلیفہ ثالث سے عداوت پیدا ہو گئی اور ان کی بدگوئی شروع کردی آخر خلیفہ نے ان کو مصر کی طرف نکال دیا مصر جا کہ اس نے اپنی جماعت تیار کی اسی جماعت نے حضرت عثمانؓ کو شہید کیا۔ اور جنگ جمل و صفین بھی اسی حضرت کے کارناموں سے ہیں پھر اس نے یہ تبلیغ شروع کر دی کہ تینوں خلیفے ظالم اور غاصب تھے، خلافت حضرت علیؓ کا حق تھا جس کو خلفائے ثلاثہؓ نے جبراً چھین لیا ہے۔ جب کسی نے اعتراض کیا تو جواب دیا کہ نہیں میں تو صرف علیؓ کو تین خلفاء پر فضیلت دیتا ہوں کسی کو کہا کہ حضرت علیؓ خدا تھا، میں ان کا نبی ہوں آخر حضرت علی کرم اللہ وجہ نے اس کو واصل جہنم کیا۔ مگر اس کا لگایا ہوا پودا موجود تھا جنگِ صفین کے بعد جیسا کہ رجال کشی کے صفحہ 72 ہے پر ہے کہ اس کے 70 شاگردوں نے حضرت علیؓ کو خدا کہنا شروع کر دیا جب روکنے سے بھی نہ رکے تو حضرت علیؓ نے فی النار کئے مگر پھر بھی اس کمیٹی کے ممبر ختم نہ ہوئے۔ ایران و عراق میں اس نے آگ پر تیل چھڑکا تھا۔ چونکہ ایران و عراق کے تخت خلفائے ثلاثہؓ نے الٹ کر زیر بالا کر دئیے تھے خزانے لیے گئے ان کی عورتیں باندیاں بنائی گئیں اور حکومتوں کی عزت و غرور خاک میں مل گیا تھا اس لیے ان کو خلفائے ثلاثہؓ سے سخت عداوت تھی۔ عبد اللہ بن سباء کا منتر بھی اس ملک میں خوب چل گیا اور اس کمیٹی کے پھر بڑے بڑے ممبر پیدا ہو گئے جنہوں نے مذہب شیعہ کو خوب سراہا۔ مثلاً زرارہ، ابوبصیر محمد بن مسلم، بریدہ بن معاویہ عبداللہ بن یعفور، ہشام بن سالم اور مومن طاق وغیرہ ذالک جن کا ذکر عنقریب آتا ہے اور سبائی مشین کے پرزوں نے خوب موقع محل کی حدیثیں ڈھالنی شروع کر دیں۔

آج شیعہ عبداللہ بن سباء کے بانی مذہب شیعہ ہونے سے انکاری ہیں۔ ہاں شیعہ مذہب کو یہودیت سے مشتق ہونا مخالفین کا قول قرار دیا ہے مگر بانی مذہب شیعہ ہونے سے انکار نہیں کیا نہ ہی ان دونوں اعظم رکنوں سے انکار کیا ہے۔ چلو میں چند منٹ کے لیے مان لیتا ہوں کہ شیعہ مذہب یہودیت سے مشتق نہیں تو پھر کسی اور دشمن اسلام کو بانی مذہب شیعہ ماننا پڑے گا۔ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔

یہ مندرجہ ذیل تین مسائل جن پر مذہب شیعہ کی عمارت کھڑی ہے سوائے دشمن اسلام کے کسی غیر سے ایجاد نہیں ہو سکتے۔

1: یہ کہ قرآن محرف ہے۔ اس میں پانچ قسم کی تحریف ہو چکی ہے اس کی آیتیں اور سورتیں نکال ڈالی گئی ہیں اس میں اپنی طرف سے عبارتیں داخل کی گئیں جس کی وجہ سے کفر کے ستون اس میں قائم ہوتے ہیں۔ 

یہ قرآن رسول کی توہین کرتا ہے۔ اس کے حروف و الفاظ بدل ڈالے گئے اس کی سورتوں اور لفظوں کی ترتیب الٹ پلٹ کر دی گئی اب بجائے دین کے بے دینی کی قرآن تعلیم دیتا ہے۔

 بتاؤ جب قرآن کی یہ حالت ہے تو دین اسلام میں باقی کیا رہ گیا؟

 2: یہ کہ تمام صحابہؓ رسولﷺ کی سوائے چار پانچ کے کافر، مرتد کاذب خائن، ظالم اور غاصب تھے گویا باطن میں وہ چار کافرو مرتد نہ تھے مگر کاذب اور اعلیٰ درجہ کے کذاب وہ بھی تھے لیکن ان کے کذب کا نام تقیہ رکھ دیا۔

پس جب صحابہؓ کی یہ حالت تھی جو رسالت کے چشم دید گواہ اور نزولِ قرآن کے اول گواہ ہیں، تو اب نبوت رسول اکرم ﷺ دلائل نبوت معجزات نبوت اور تعلیمات نبوت سب مشکوک ہوئیں۔ جس واقعہ کا چشم دید گواہ صادق نہ ہو، اس واقعہ کو کون مانتا ہے؟

3: یہ کہ رسول کے بعد بارہ اشخاص مثل رسول ہیں معصوم ہیں اور مفترض الطاعتہ ہیں ان کی اطاعت بھی مثل اطاعتِ رسول ہے۔ جب تک ان کی امامت پر ایمان نہ لائیں توحید و رسالت کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ان کو حرام و حلال کرنے کا اختیار ہے موت اور زندگی ان کے اپنے اختیار میں ہے ہر سال ان پر نئے احکام شب قدر کو نازل ہوتے ہیں وغیرہ ذالک۔(اصول کافی کتاب الحجہ)

بتاؤ: یہ مسائل دشمنِ اسلام کے ایجاد شدہ نہیں تو اور کیا ہے؟ حضرات شیعہ کے بانیان مذہب نے جب دیکھا کہ مذہب شیعہ زمانہ رسول میں تو تھا ہی نہیں، نہ اس کی کوئی سند رسول سے ملتی ہے، نہ ہی کوئی مسئلہ رسول سے ملتا ہے اور نہ ہی ہم حدیث کو وضع کر کے رسول سے روایت کر سکتے ہیں تو اب اماموں کا سلسلہ باقی رہا۔ اگر ان سے روایت کو گھڑیں تو مذہب سوائے معصوم و مفترض الطاعۃ کے چل ہی نہیں سکتا، تو ائمہ کی عصمت کے قائل ہو کر مثل رسول کے مانا اور اس چال پر چل کر پھر از سرِ نو حدیثیں گھڑنی شروع کر دیں۔ پس جب حدیثیں اماموں سے گھڑی گئیں تو یقینی طور پر یہ ثابت ہو گیا کہ رسول کے ساتھ اس مذہب کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اب رہا اماموں سے اس مذہب کا چلنا، اس پر ہم بحث کریں گے کہ جن راویوں نے ائمہ سے ان کا مفترض الطاعۃ ہونا معصوم ہونا مثل رسول ہونا اور ان کا مذہب شیعہ ہونا ذالک نقل کر کے ہم تک پہنچایا ہے چونکہ ہم نے خود تو کسی امام کو دیکھا نہیں اور نہ ہی ان کا دعویٰ سنا صرف راویوں کی نقل ہے

لہٰذا! اب ہم راویوں کے حالات کو دیکھتے ہیں کہ کیا وہ اس قابل ہیں کہ ان کے اقوال قابل قبول ہوں؟ یا نہیں اور اماموں کا اور ان راویوں کا آپس میں کیا سلوک رہا؟ اور اماموں نے ان کے حق میں کیا فرمایا؟

صفحہ 12 از 16