ایجاد مذہب شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایجاد مذہب شیعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 11 از 16

سعید سمان کہتا ہے کہ امام جعفر کے پاس تھا کہ دو مرد مذہب زیدیہ کے داخل ہوئے اور امام سے دریافت کیا کہ تم میں کوئی امام ہے جس کی اطاعت فرض ہو؟ سعید کہتا ہے کہ امام نے فرمایا میں نے نہیں فرمایا ان کو، ان دونوں نے کہا کہ ہم کو آپ سے بڑے ثقہ لوگوں نے خبر دی ہے کہ آپ فتویٰ دیتے ہیں اور اقرار کرتے ہیں اور ہم ان کے نام بتاتے ہیں اور نیکی میں بڑا مبالغہ کرنے والے ہیں اور ان لوگوں سے ہیں جو جھوٹ نہیں بولتے پس امام کو غضب آیا جب انہوں دیکھا تو وہ چلے گئے۔

 اور یہی مضمون رجال کشی کے صفحہ268 پر اس سے بھی بڑھ کر ہے ۔

عن سعيد الاعرج قال كنا عند ابي عبد الله فاستاذن له رجلان فاذن لهما فقال احدهما افيكم امام مفترض الطاعة قال ما اعرف ذلك فينا قال بالكوفة قوم يزعمون أن فيكم اماما مفترض الطاعة وهم لا يكذبون اصحاب ورع اجتهاد و تميزمنهم عبد الله عن ابي يعفور الى ان قال فما ذبني واحمر وجهه ما امرتهم 

 سعید اعرج بیان کرتا ہے کہ ہم ابی عبداللہ کے پاس موجود تھے کہ دو مرد زیدیہ فرقہ کے آئے انہوں نے اجازت لی۔ امام نے اجازت دی اور انہوں نے دریافت کیا کہ کیا تم میں کوئی امام مفترض الطاعة   موجود ہے تو امام نے فرمایا میں نہیں پہچانتا اپنے اندر کہا کہ کوفہ میں ایک قوم ہے وہ زعم کرتے ہیں کہ تم میں کوئی امام مفترض الطاعۃ ہے اور وہ جھوٹ بولنے والے نہیں صاحب ورع و تقویٰ ہیں انہی میں سے عبد اللہ بن یعفور بھی ہیں۔ امام نے فرمایا میرا کیا قصور ہے اور امام کا چہرہ سرخ ہو گیا فرمایا میں نے ان کو یہ حکم نہیں دیا اور نہ کہا ہے۔

اسی طرح مجالس المومنین کے صفحہ 166 پر بھی یہی مضمون ہے۔

اس روایت میں بھی عبداللہ بن یعفور ہے اور میں نے وعدہ کیا تھا کہ عبداللہ بن یعفور کی بات کو یاد رکھنا۔ جس کے متعلق امام جعفر فرماتے ہیں کہ یہ ایک مسلمان ہے باقی صرف دعویٰ کے شیعہ ہیں۔ اب دیکھیں کہ عبداللہ بن یعفور بھی جھوٹ کی زد میں آ گیا کہ امام نے امامت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی ان کو یہ فرمایا کہ میں امام ہوں، مگر کوفہ کے عبداللہ بن یعفور نے امام بنایا اور امام کو ناراض بھی کیا کہ امام اس امام کے لفظ سے غضب ناک ہوئے جس نے اہلِ بیت کے امام کو ناراض کیا اور غصہ دلایا وہ کب مسلمان رہ سکتا ہے چلو چھٹی ہوئی۔ عبداللہ سے بھی امام دعویٰ امامت کو ذنب یعنی گناہ سے تعبیر فرما رہے ہیں کہ مجھے امام کہنا گناہ ہے۔ 

اسی طرح کتاب حق الیقین کے صفحہ 721 پر یہ عبارت ہے۔ ائمہ طاہرین کے زمانہ میں شیعوں کے اندر ایسے لوگ بھی تھے جو ان بزرگوں کی عصمت کا اعتقاد نہ رکھتے تھے حتیٰ کہ ان کو نیک علماء کے مرتبہ شمار کرتے تھے۔ جیسا کہ کتاب رجال کشی سے واضح ہوتا ہے لیکن باوجود اس کے ائمہ طاہرین ان کو صاحب ایمان سمجھتے تھے بلکہ ان کی عدالت کو معتبر فرماتے تھے۔

 ثابت ہوا کہ نہ اماموں نے دعویٰ امامت کیا تھا اور نہ اماموں کی امامت کا اقرار ایمان تھا ورنہ عدم اقرار کی وجہ سے ایماندار عادل نہ رہتا۔

 پس معلوم ہوا کہ تمام من گھڑت مسئلہ زراره، ابو بصیر اور عبدالله بن یعفور حضرات کا دعویٰ ہے۔ بھلا امام دعویٰ امامت کیسے کرتے؟ یہ امامت کا مسئلہ تو ایک راز تھا جس کا علم سوائے جبرائیل کے کسی فرشتہ کو بھی نہ تھا۔ پھر رسولﷺ کے سوا کسی کو جبرائیل نے نہیں بتایا تھا اور رسولﷺ نے علیؓ کو بتایا۔ (اصول کافی صفحہ 477)

 قال ابو جعفر عليه السلام ولايه الله اسرها الى جبرئيل واسرها جبرئيل الى محمد وأسرها محمد الى على واسرها على من شاء ثوانتم تزيعون ذالك 

امام باقر نے فرمایا امامت ایک راز تھا جو خدا نے جبرائیلؑ کو پوشیدہ طور پر بتایا تھا جبرائیلؑ نے رسولﷺ کو رسولﷺ نے علیؓ کو راز کے طور پر بتایا اور علیؓ نے جس کو چاہا راز کے طور پر بتایا اور علیؓ نے جس کو چاہا راز کے طور پر بتایا اب تم شیعہ اس کو مشہور کرتے ہو۔

 اور یہی مضمون رجال کسی صفحہ 370 پر بھی ہے۔

 فائدہ: اس حدیث سے واضح ہو گیا کہ امامت کا ذکر قرآن و حدیث میں تو درکنار رہا یہ تو کسی انسان کو بھی معلوم نہ تھا چونکہ یہ ایک اسرار تھا اور اسرار پوشیدہ راز اور بھید کو کہتے ہیں لہٰذا اگر قرآن و حدیث میں ذکر ہوتا تو اسرار نہ رہتا لہٰذا قرآن یا حدیث شیعہ علماء کی امامت پر پیش کرنی غلط ہوئی۔

 اب سوال تو یہ ہے کہ پھر امامت کا مسئلہ کسی قاتل نے ایجاد کیا ہے؟ یہ تو ثابت ہو گیا کہ جب امامت کا علم کسی کو نہ تھا تو مذہب شیعہ کا علم کیسے ہو گیا؟ پس زمانہ اول میں نہ امامت تھی اور نہ مذہب شیعہ تھا۔ 

باقی رہا یہ سوال کہ امامت کا موجد کون ہے؟ یہ خود شیعہ اقرار کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن سباء یہودی تھا۔ رجال کشی کے صفحہ 71 پر ہے۔

وذکر بعض اھل العلم ان عبداللہ بن سباء کان یھودیا فاسلم ووالٰی علیاعليه السلام وكان يقول وهو على يهوديته في يوشع بن نون وصى موسى بالغلو فقال فی اسلامه بعد وفات رسول الله ﷺ فی على مثل ذالك وكان أول من استشهد بالقول بفرض امامة على واظهر البراة من اعدائه وكاشف مخالفيه واكفرهم فمن هذا قال من خالف الشيعة اصل التشيع والرفض ماخوذ من اليهودية

 بعض اہل علم نے بیان کیا ہے کہ عبد اللہ بن سباء یہودی تھا پھر وہ اسلام لایا اور اس نے حضرت علیؓ سے محبت کی اور وہ اپنے یہودیت کے زمانہ میں حضرت یوشع بن نون وصی موسیٰ کے بارے میں غلو کرتا تھا، پھر اپنے اسلام کے زمانہ میں رسول کریمﷺ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ کے بارے میں غلو کرنے لگا یہ ابن سباء پہلا شخص ہے جس نے مسئلہ امامت علی کے فرض ہونے کو شہرت دی اور ان کے دشمنوں پر تبراء کیا اور ان کے مخالفوں سے کھیل کھیلا اور ان کی تحقیر کی یعنی فتوٰی کفر لگایا اسی وجہ سے جو لوگ شیعوں کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں کہ شیعہ کی بنیاد یہودیت سے کی گئی ہے۔

 فائدہ: ثابت ہوا کہ مذہب شیعہ کے دونوں رکن اعظم امامت اور تبراء بازی اسی دشمنِ اسلام کی ایجاد ہے اور وہی مذہب شیعہ کا بانی ہے۔

صفحہ 11 از 16