ایجاد مذہب شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایجاد مذہب شیعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 10 از 16

 فائدہ:  جب امام کا حکم نہ مانتے تھے تو مسلمان کس بات کے تھے؟ پس ایک ابن یعفور باقی رہا۔ اس سے مذہب شیعہ متواتر نہ رہا مگر اس امر کو یاد رکھنا، عبد اللہ بن یعفور بھی اڑ جائے گا اس کا ذکر ابھی آتا ہے کہ یہ بھی کذاب تھا۔ یہ تھا حال ائمہ کے متبعین کا جن سے مذہب شیعہ کو چلایا جاتا ہے اب ائمہ کا حال برنگ تعلیم ملاحظہ ہو کہ امام ہر مخلص سے مخلص شیعہ سے بھی تقیہ کرتے تھے اور اس تقیہ بازی کو دیکھ کہ انسان کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتا کہ خدا جانے ان کا اصلی مذہب کیا تھا جیسا کہ اصول کافی میں ہے کہ امام سے ایک آدمی نے مسئلہ پوچھا تھا تو اس کو کچھ اور طرح بتایا۔پھر زرارہ کی باری آتی یہ اصول کافی صفحہ 35 سے

فلما خرج الرجلان قلت يا بن رسول الله رجلان من اهل العراق من شيعتكم قد يسئلان فاجبت كل واحد منهما بغير ما اجبت به صاحبه فقال يا زرارة ان هذا خير لنا وابقى منائكم ولو اجتمعتم على امر واحد اصدقكم الناس علينا ولكان اقل بقائنا وبقائكم.

پس جب دونوں مرد چلے گئے تو میں (زرارہ) نے کہا اے فرزند رسول! یہ دونوں مرد عراقی آپ کے پُرانے شیعوں سے تھے۔سوال کرتے ہیں پس آپ نے ہر ایک کو جواب مختلف دیا ہے۔ فرمایا امام نے اے زرارہ! یہ تحقیق یہ جواب ایک دوسرے کے مخالف دینا ہمارے تمہارے لیے اچھا ہے اور اس میں ہماری اور تمہاری بقاء ہے اگر تم ایک مسئلہ پر جمع ہو جاؤ گے تو لوگ تمہیں سچا سمجھیں گے ہم پر اور یہ ہمارے لیے اور تمہارے لیے باقی رہنے میں نقصان پیدا کرے گی۔

 فائده: ائمہ خود شیعہ کو جو خاص شیعہ ہوتے تھے جھوٹے مسائل بلا کسی خوف و خطرہ کے بتاتے تھے اور ائمہ خود چاہتے تھے کہ شیعہ کو لوگ کذاب کہے کوئی ان کے سچا ہونے کا اعتبار نہ کر بیٹھے سو ائمہ کو شیعہ کے نام کی ضرورت تھی مذہب و ایمان کی ضرورت نہ تھی کہ شیعہ ایمان دار ہوں۔ ان کا باقی رکھنا مقصود تھا خواہ ایماندار ہوں یا نہ ہوں بقول شیعہ ائمہ کو علم تھا کہ یہ وفادار نہیں اسی واسطے غلط مسائل بتاتے تھے جیسا فرمایا کہ ایک بھی مطیع نہیں ملا ورنہ حدیث نہ چھپاتا۔

زرارہ کے بعد ابوبصیر کا نمبر ہے استبصار میں خود ابوبصیر نے سنت فجر کا مسئلہ دریافت کیا، تو امام نے غلط بتایا۔

استبصار کے صفحہ 146 پر ہے۔

 عن ابی بصير قال قلت لا بی عبد الله عليه السلام متى اصلى ركعتی الفجر قال فقال لى بعد طلوع الفجر قلت له أن أبا جعفر عليه السلام امرنی ان اصلهما قبل طلوع الفجر فقال يا ابا محمد ان الشعة التوابي مسترشدين فافتاھم بالحق واتونى شكاكا فافتيتهم بالتقية

ابو بصیر نے کہا کہ میں نے امام جعفر سے مسئلہ پوچھا کہ سنت فجر کو کس وقت پڑھوں؟

تو امام نے مجھے فرمایا بعد طلوعِ فجر کے تو میں نے عرض کی کہ امام باقر نے مجھے حکم دیا تھا کہ طلوعِ قبل فجر کے پڑھیں پس امام جعفر نے فرمایا اے ابامحمد! شیعہ میرے باپ کے پاس طالب ہدایت ہو کر آتے تھے تو حق مسئلہ بتا دیتے تھے اور میرے پاس وہ شک لے کر آتے ہیں تو میں تقیہ کر کے بتاتا ہوں۔

فائدہ: امام نے شک کو زائل کرنا تھا یا الٹا شک زیادہ ڈالنا تھا، معلوم ہوا کہ امام کے پاس تو وہ آدمی جاتا جو سابق دین کا عالم ہوتا ورنہ بجائے حق اور راہبری کے الٹا گمراہی کے گڑھے میں ڈالتے تھے۔ ذرا انصاف کرنا! یا یہی مذہب ہے جس کو دنیا کے سامنے حق بنا کر پیش کرتے ہیں؟ بھلا کیونکہ غلط مسائل نہ بتاتے، یہ شیعہ مومن نہ تھے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے ائمہ کی کلام میں 70،70 پہلو جھوٹ کا ہوتا تھا۔ ایک کلام میں اگر 70 سامع ہوتے، تو یقینی70 ہی جھوٹ سیکھ کر جاتے اور ایک بھی یقین حاصل کر کے نہ اٹھتا۔

 اساس الاصول علامہ دلدار علی مجتہد اعظم کے صفحہ 65 پر ہے۔

عن ابن عبد الله انه قال انى اتكلم على سبعين وجه لي في كلها المخرج وايضا عن ابی بصير قال سمعت ابا عبد الله يقول انی اتكلم بالكلمة الواحدة لها سبعون وجها ان شئت اخذت كذا وان شئت اخذت كذا 

 امام جعفر صادق نے فرمایا کہ میں 70 پہلوؤں پر کلام کرتا ہوں میرے لیے ان تمام پہلوؤں میں نکلنے کا راستہ ہوتا ہے دوم ابی بصیر سے مروی ہے کہ میں نے امام جعفر سے سنا کہ فرماتے تھے، میری کلام میری 70 پہلو ہوتا ہے ایک کلمہ میں اگر چاہوں تو اس کو لے لوں اور اگر چاہوں تو اس کو لے لوں۔

 فائدہ: کیا کوئی مجتہد شیعہ منصف مزاج دنیا میں ہے کہ انصاف سے یہ بتائے کہ جب امام کی ایک بات میں 70 پہلو ہوں اور ہر بات دوسری کے بات کے مخالف و متضاد ہوتی تھی تو ترجیح کس طرح دی جاسکتی ہے؟ یہ ایک عجیب معمہ درپیش ہے شاید کسی مجتہد شیعہ کی سمجھ میں آجائے تو وہ اس کو حل فرما دے۔

مثلاً امام نے فرمایا! زرارہ ملعون ہے تو اس کلام میں بھی صدق کذب کا ستر 70 پہلو ہوا اس جملہ کے بعد فرمایا کہ زرارہ کو میں نے؟ یعنی "اعیب زرارة" اب اس کلام میں بھی 70 پہلو ہوا۔ پھر مثلاً فرمایا انا اصلی یا فرمایا اصوم اب اس کلام میں بھی 70 پہلو صدق کذب کا ہوگا مثلاً فرمایا لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللّٰہ اب اس کلمہ توحید میں بھی 70 پہلو صدق کذب کا ہوگا۔ اب آپ ہی فرمایے کہ آئمہ کا مذہب کس طرح متعین ہوگا؟ سنی شیعہ تو در کنار رہا، ان کا کوئی مذہب ہی ثابت نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی دلیل ان کے مذہب کے ثبوت پر شیعہ کے پاس ہے تو پیش کریں۔

مگر اے حضرات شیعہ! ان کو تقیہ باز مان کر خدا کے لیے ان بزرگوں کی توہین مت کیجیے گا ورنہ اس کلام میں تسلسل یا دور لازم آئے گا۔ شیعہ کو بھی یہ اقرار ہے کہ امام اپنی امامت سے انکار کرتے تھے اصول کافی صفحہ 142۔

 عن سعيد السمان قال كنت عند ابی عبد الله اذ دخل عليه رجلان من الزيدية فقالا له افيكم امام مفترض الطاعة قال فقال لا قال فقالا له قد اخبرنا عنك الثقاة انك تفتى وتقر وتقول به وتسميهم لك فلان وفلان و هو اصحاب ورع وتشهيروهم ممن لا يكذب فغضب ابو عبد الله وقال ما امرتهم بهذا فلما رايا الغضب في وجهه خرجا

صفحہ 10 از 16