ایجاد مذہب شیعہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایجاد مذہب شیعہ

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 1 از 16

اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ

 بِسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ

 الحمد لله رب العٰلمين والصلوٰة والسلام على عباده الذين اصطفىٰ امّابعد

  جب اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو مکمل کرنا چاہا اور اپنی تمام نعمتیں مخلوق پر پوری کرنی چاہیں اور ہدایت اور رضامندی کا دروازہ کھولنا چاہا اور ہر قسم کی نبوت تشریعی اور غیر تشریعی کا دروازہ بند کرنا چاہا۔ تو حضرت محمد رسول اللہﷺ خاتم الانبیاء کو مبعوث فرمایا۔ حضور انورﷺ نے اپنے منصب رسالت کو اس طرح ادا فرمایا کہ جس کی نظیر نہیں ملتی، آپﷺ نے اس جاہل قوم میں آ کر تبلیغ و دعوت اِلی اللہ شروع فرمائی تو جناب محمدﷺ کے شاگردوں اور مریدوں کا ہجوم ہوا، اپنے مریدوں کو عقائد و اعمال حلال و حرام سکھلائے اور ان کے نفوس کا وہ تزکیہ فرمایا جس کی مثال سابقہ انبیاءؑ میں بھی تلاش کرنی ناممکن ہے جب دین ہر طرح سے مکمل ہو گیا۔ اور دین میں فوج در فوج لوگ داخل ہو گئے، اور جب آپﷺ اپنے منصب کو ادا کر چکے تو داعی اجل کو لبیک فرماتے ہوئے رفیق اعلیٰ کی طرف رحلت فرمائی۔ جزاه الله عنا خير الجزاء جس وقت آپﷺ نے دنیا فانی کو ترک فرمایا تو آپﷺ کے شاگردوں کی جماعت کی تعداد ایک لاکھ کئی ہزار پر مشتمل تھی بقول ڈاکٹر اسپرنگر چار لاکھ تھی آپﷺ سے حدیثیں نقل کرنے والوں کی تعداد مردوں عورتوں کی جیسا کہ اصابہ کے صفحہ 11، 12 پر موجود ہے۔

تعداد رواة توفی النَّبِیّﷺ ومن سمع منه زيادة على مائةالف انسان من رجل وامراة كلهم قدروى عنه سماعا ورواية۔

رواۃ کی تعداد جنہوں نے نبی کریمﷺ سے حدیثیں سنی ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد تھے مرد و عورت تمام نے نبی کریمﷺ سے سن کر حدیثیں بیان فرمائیں اور کوئی دوسروں سے سن کر۔

اس مقدس جماعت کے اندر کوئی ذرہ بھر اختلاف نہ تھا تمام کا ایک ہی عقیدہ تھا۔ جو عقیدہ آج اہلِ سنت والجماعت کا ہے ان کے اعمال و عبادات میں بھی کوئی اختلافات نہ تھا۔ اگر تھا تو مقتضائے فہم ورائے تھا۔ جیسا کہ خود سیدنا علی المرتضیؓ نے نہج البلاغہ میں فرمایا ہے۔

(نہج البلاغہ: جلد 3 صفحہ 125)

 والظاهران ربنا واحد ونبينا واحد ودعوتنا في الاسلام واحدة ولا نستزيدھم فی الايمان بالله والتصديق برسول اللهﷺ ولا يستزيدوننا الامر واحد

ترجمہ: ظاہر بات ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ وغیرہ کا اور ہمارا رب ایک ہے نبی ایک ہے۔ اسلام ایک ہے۔ ہم ان سے نہ ایمان میں زائد ہیں بات ایک ہے۔

اس کلام سے واضح ہے کہ سیدنا علیؓ کا مذہب دیگر صحابہ کرامؓ سے کوئی علیحدہ نہ تھا، ورنہ سیدنا امیر معاویہؓ کے ایمان کو اپنے ایمان کے برابر نہ فرماتے اور یہ بھی ثابت ہوا کے سیدنا علیؓ شیعہ نہ تھے نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ اس وقت تک صحابہ کرامؓ میں اصولی اختلاف کا وجود تک نہ تھا۔ البتہ معمولی عمل میں تھا جیسا کہ دمِ عثمانؓ کے قصاص میں اختلاف ہوا۔

علیٰ ہذا القیاس اس مقدس جماعت میں نہ کوئی جبری تھا، نہ قدری تھا، نہ معتزلی تھا نہ خارجی تھا اور نہ رافضی تھا، کسی شاعر نے خوب کہا ہے۔

 لگایا تھا مالی نے ایک باغ ایسا

 نہ تھا جس میں چھوٹا بڑا کوئی پودا

حضرات شیعہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ اس مقدس جماعت میں اور آپﷺ کے زمانہ میں صرف چار آدمی شیعہ مذہب کے تھے مگر وہ بھی تقیہ کر کے اندر دل میں تو شیعہ تھے اور بظاہر سُنی ہی تھے اور خلفائے ثلاثہؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی اور مرید بن کر حلف وفاداری دیدی تھی کہ ہم آپ کے کسی امر میں مخالفت نہ کریں گے۔ جیسا کہ خود سیدنا علیؓ کے عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے زمانہ خلافت میں بھی کوئی مخالفت نہ کی۔ اور بیعت پر قائم رہے جیسا کہ احتجاج طبرسی جو شیعہ کی چوٹی کی کتاب ہے کے صفحہ 49 پر ہے۔

ما من الامة احدٌ بايع مكرها غير على واربعتنا۔

 امت محمدیہﷺ سے کوئی ایسا نہ تھا جس نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیعت خوشی سے نہ کی ہو سوائے سیدنا علیؓ اور چار آدمیوں ہماروں کے۔

 فائدہ: بہرحال اگر شیعہ کے ان توہینی خرافات کو ہم مان بھی لیں تو یہ تو ثابت ہوا، کہ بظاہر یہ پانچ بھی سُنی مذہب کے مطابق قول و اقرار عمل و عبادت کرتے تھے، یا کہ دیں کہ معاذ اللہ ان کی طرح یہ پانچ شیعہ بھی مرتد ہوگئے تھے، اسی رنگ میں رنگے گئے تھے جب پیرو مرشد مسلمان نہ تھا تو مرید کب مسلمان ہو گا۔ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ۔

شیعہ یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ بعد وفات رسولﷺ تمام صحابہ کرامؓ مرتد و کافر ہو گئے تھے؟ سوائے تین آدمیوں کے؟ پوچھا گیا وہ کون تھے تو فرمایا سیدنا مقدادؓ، سیدنا سلمانؓ اور سیدنا ابوذرؓ

عن ابی جعفر قال كان الناس اهل الرده الاثلاثة فقلت ومن الثلاثة فقال المقداد بن الأسودؓ وأبو ذر الغفاريؓ وسلمان الفارسيؓ

سیدنا باقر فرماتے ہیں کہ تمام آدمی مرتد ہو گئے تھے صرف تین بچے تھے راوی نے سوال کیا وہ کون تھے؟ تو فرمایا سیدنا مقدادؓ بن اسود، سیدنا ابوذر غفاریؓ اور سیدنا سلمان فارسیؓ (رجال کشی: صفحہ 4 مطبوعہ بمبئی)

فائدہ: شیعہ کی اس روایت نے سیدنا علیؓ و سیدہ فاطمہؓ و سیدنا حسنینؓ شریفین واہلِ بیت تک ہاتھ صاف کئے۔ اور شیعہ نے جوش و غضب میں تبّراء کا خوب حق ادا کیا۔

فصل الخطاب مطبوعہ ایران کے صفحہ 109 پر ہے کہ: صحابہ کرامؓ کی جماعت نے رسول کریمﷺ سے اتنا علم حاصل کیا تھا جس سے نفاق پر پردہ پڑ جائے نہ غیر کی تبلیغ کی خاطر۔

 فاخذ وامنه العلم بقدر ما يحفظون به ظاهرهم ويستترون به نفاقهم وهذا عند الاماميۃ اوضح من النار

صحابہ کرامؓ نے رسول کریمﷺ سے اتنا علم سیکھا تھا، جس سے ان کے نفاق پر پردہ پڑھ جائے"

 اور اپنے ظاہر کی حفاظت کر سکیں یہ بات شیعہ کے نزدیک آگ سے زیادہ روشن ہے ۔

 فائدہ: اول تو شیعہ کے نزدیک صحابہ کرامؓ کے پاس علم تھا ہی نہیں اور جو علم تھا وہ رسول اکرمﷺ سے حاصل کیا تھا۔ وہ بھی بوجہ مرتد ہو جانے کے تمام کا تمام ضائع ہو گیا۔

سوال شیعہ: چار پانچ آدمی جو بچے تھے رسولی علم ان کے پاس محفوظ تھا۔

جواب اول: میں تمام دنیا کے شیعہ کو بڑے زور سے اعلان کرتا ہوں کہ ان تینوں آدمیوں سے متصل روایت جو مرفوع ہو نبی کریمﷺ تک ایک ایک آدمی سے پانچ پانچ روایتیں پیش کریں جو اس طرح ہوں۔

عن سلمانؓ او عن ابی ذر الغفاریؓ او عن المقداد بن الاسودؓ عن رسول اللهﷺ

صفحہ 1 از 16