Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قحط سالی کے موقع پر شرعی حد کے نفاذ پر پابندی

  علی محمد الصلابی

قحط سالی کے موقع پر حضرت عمرؓ نے چوری کی شرعی حد کے نفاذ پر پابندی لگا دی۔ آپ نے یہ اقدام شرعی حد کو موقوف و معطل کرنے کی نیت سے نہیں کیا تھا جیسا کہ بعض لوگ لکھتے ہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ چوری کے جرم میں شرعی حد کی تنفیذ کے لیے مطلوبہ شرائط موجود نہ تھیں، آپ کے پیش نظر یہ بات تھی کہ جو شخص قحط اور کھانا نہ ملنے کی حالت میں دوسرے کی ملکیت سے کچھ کھا پی لیتا ہے تو اس کی نیت چوری نہیں ہوتی اور وہ غیر ارادی طور پر یہ عمل انجام دیتا ہے اور اسی وجہ سے آپ نے ان غلاموں کا ہاتھ نہیں کاٹا جنہوں نے اونٹنی کو چوری کر کے ذبح کر لیا تھا، بلکہ آپؓ نے ان کے مالک حاطب کو حکم دیا کہ اونٹنی کی قیمت ادا کریں۔

(الخلافۃ والخلفاء الراشدون: سالم البھنساوی: صفحہ 165)

آپؓ نے فرمایا: کھجور کے خوشے کی چوری اور قحط سالی کے موقع پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ 

(مصنف عبد الرزاق: جلد 10 صفحہ 242)

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ فقہی مذاہب بھی سیدنا عمرؓ کی فقہ و اجتہاد سے کافی حد تک متاثر ہیں، اسی فاروقی اجتہاد کے پیش نظر امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول ہے کہ قحط سالی اور بھوک کے موقع پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، یعنی محتاج اگر ایک لقمہ کھانے کے لیے مر رہا ہو اور ایسی حالت میں اپنی خوراک کی مقدار میں کھانا چوری کر لے تو اس پر ہاتھ کاٹنے کی شرعی حد نہیں نافذ ہو گی، اس لیے کہ وہ اضطراری یعنی مجبوری و لاچاری کی حالت میں ہے۔

علامہ جوزجانی نے سیدنا عمرؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: قحط سالی کے ایام میں ہاتھ نہ کاٹا جائے، میں نے اس مسئلہ میں امام احمدؒ سے پوچھا کہ کیا آپ بھی اس کے قائل ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم اگر ایک لقمہ کھانے کی ضرورت نے اسے چوری پر مجبور کیا اس حالت میں کہ لوگ قحط و بھوک کی زندگی گزار رہے ہوں تو میں اس کا ہاتھ نہیں کاٹوں گا۔ 

(المغنی، ابن قدامۃ: جلد 8 صفحہ 278)

یہ ہے سیدنا عمر فاروقؓ کی شرعی مقاصد پر گہری نظر اور بصیرت الہٰی، آپ نے مسئلہ کی روح پر نگاہ ڈالی اور صرف ظاہر پر اکتفا نہ کیا، آپ نے اس بات پر غور کیا کہ چوری کا اصل سبب کیا ہے، اور جب آپ اس نتیجہ پر پہنچ گئے کہ دونوں حالتوں میں بھوک ہی وہ اضطراری سبب ہے جو حرام کو حلال کر رہی ہے، جیسے کہ حاطب کے غلاموں کے واقعہ میں آپ نے اس بات کی طرف یہ کہہ کر صاف اشارہ کیا کہ تم ان کو کام میں لاتے ہو، اور انہیں بھوکا رکھتے ہو، لہٰذا اگر ان میں سے کسی نے اپنے لیے حرام چیز کو کھا لیا تو وہ اس کے لیے حلال ہو گا۔ 

(اعلام الموقعین: ابن القیم: جلد 3 صفحہ 11 الاجتہاد فی الفقہ الإسلامی: صفحہ 136)