میں شیعہ ذاکر سے سنی مسلمان کیوں ہوا - ردِ رافضیت | دفاع…

میں شیعہ ذاکر سے سنی مسلمان کیوں ہوا

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 2 از 2

نے میری بیوی اور بیٹیوں سے پناہ دینے کے عوض کافی عرصہ تک ان کی اجتماعی آبروریزی کرتے رہے۔ ان کی عزت سے کھیلتے رہے آخر کار میری بیوی اور بیٹیاں جب ملاقات پر جیل آئیں تو انھوں نے مجھ بے بس، بد نصیب باپ کو اپنی درد بھری روداد سنائی انھوں نے کہا تم نے جن کے پاس ہمیں پناہ کیلئے بھیجا تھا وہ انسان نہیں درندے ہیں۔ ان تمام لوگوں نے مل کر ہماری عزت کو تارتار کیا، ہم کسی کومنہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔ طالب حسینؒ نے کہا یہ سن کر میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی مجھ پر آسمان ٹوٹ پڑا اور میں نے آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کہا "یا اللہ یہ تو نے میرے ساتھ کیا کیا ؟ میں غم و غصہ کی حالت میں بھڑکتے جذبات سے پاگل ہورہا تھا اور میری غیرت اور ضمیر مجھ کو جنجھوڑ رہا تھا میں کیا کرتا ، میں مجبور تھا تو اس پر میں نے سخاوت علی سے (جو قربان علی کا بیٹا تھا) اور اس کے ساتھیوں سے احتجاج کیا اور لعن طعن کی ان سے اس المناک المیے اور ان کی بھیانک حرکات پر جھگڑا کیا مگر انھوں نے جواب میں بڑی عجیب بات کی اور کہا کہ ہم نے کوئی گناہ یا غلط کام نہیں کیا ہم نے وہی کیا جو تم ہم کو بتاتے تھے، ہم نے تو تمہارے بتائے ہوئے متعہ کے فضائل کو سامنے رکھتے ہوئے متعہ ہی کیا جس کی تم ہم کو تربیت اور ترغیب دیتے تھے، انھوں نے کہا ہم نے عبادت کی ہے کوئی برائی نہیں کی۔

 شیعیت سے توبہ

اس وقت میری آنکھیں کھلیں اور متعہ کی حقیقت میری سامنے آئی تو میں نے کہا کہ اگر عبادت متعہ کرنے کا نام ہے تو جس مذہب کی یہ عبادت ہے اور اس میں یہ جائز ہے تو میں اس مذہب پر اور آپ پر لعنت بھیجتا ہوں اور میں آج سے پکا سنی مسلمان ہوں تو طالب حسینؒ نے کہا میں اس روز سے شیعہ مذهب کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر سنی مسلمان ہو گیا اور کلمہ پڑھ کر ایمان لے آیا۔

 دوبارہ شیعہ کرنے کی کوشش

سوال ... میں نے کہا کہ اب آپ کی ایسی حالت کیوں ہے؟

ذاکر طالب حسین نے بتایا کہ مجھے شدید تکلیف ہے میں نے شیعوں کو چیلنج کیا کہ میں تم کو پوری دنیا میں ذلیل ورسوا کروں گا اور تمہارے چہرے سے نقاب اتار کر تمہارے اصلی کرتوت اور بھیانک چہروں کو لوگوں کے سامنے اجتماعی صورت میں بے نقاب کروں گا تو شیعوں نے اس ڈر سے کہ میں سنی مسلمان ہو گیا اور اب سنیوں کے ساتھ مل کر شیعہ مذہب سے پردہ اٹھاؤں گا تو یا اس کو دوبارہ شیعہ کیا جائے یا پھر اس کو ہمیشہ کیلئے راستے سے ھٹایا جائے اس لئے انھوں نے مجھے کہا کہ تم دوبارہ شیعہ ہو جاؤ مگر میں نہ مانا۔

 دھمکیاں

اب مورخہ 21 دسمبر 1993 ء بروز منگل کو قربان علی میری ملاقات پر آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ تم باز آجاؤ اور دوبارہ شیعہ ہو جاؤ ورنہ ہم تم کو اور تمہارے بیوی بچوں کو قتل کر دیں گے مگر میں نے اس کی ایک نہ سنی اور اپنے موقف پر قائم رہا اور الٹا میں نے اس کو یہ کہا کہ تم میرے باہر آنے کا انتظار کرو تو اس پر قربان علی بولا تم باہر نہیں آؤ گے

اندر جیل ہی میں تمہاری فاتحہ خوانی ہو جائے گی اس نے مجھ کو قتل کی دھمکیاں دیں۔

 زہر دے دی

اسی روز شام کو ایک نا معلوم شخص جسے میں سامنے آنے پر پہچان سکتا ہوں اور مجھ کو بعد میں اس کا پتہ بھی چل گیا وہ اسلم عرف گونا جو سخاوت علی کا مشقتی تھا مجھے ملا

اس نے انتہائی خلوص سے مجھے برفی دی اور کھانے کے لئے اصرار کیا میں نے انکار

کر دیا مگر وہ مزید اصرار کرتا رہا تو میں نے سوچا کہ یہ خلوص سے دے رہا ہے اس کا دل ٹوٹ نہ جائے تو میں نے یہ سوچ کر برفی کھالی۔ کچھ دیر بعد میری طبیعت خراب ہونا شروع ہوگئی رات کو مزید طبیعت خراب ہوگئی ، مجھے ہسپتال لے جایا گیا میں اس وقت بے ہوش تھا تو اگلے روز مجھ کو دوبارہ بیرک میں بھیج دیا گیا قے آنے پر اب میری طبیعت کچھ بہتر ہے انھوں نے سنی مسلمان ہونے کے جرم میں مجھے زہر دیا ہے، وہ میری جان کے دشمن ہیں اور مجھے مارنا چاہتے ہیں آپ خدا کیلئے مجھے اپنے پاس لے جائیں۔ اگر مجھے قتل کر دیا گیا تو میری موت کے ذمہ دار سخاوت وغیرہ ہوں گے اس نے ہم کو تحریری بیان بھی لکھ کر دیا۔ بھائی ریاض صاحب نے ذاکر طالب حسین کو تسلی دی اور ہم واپس آگئے ریاض صاحب نے ہمیں تاکید کی کہ وقتا فوقتا اس کے پاس آتے رہا کرو اس کو حوصلہ رہے گا۔

 دوبارہ زہر اور انتظامیہ کی بے حسی

 اگلے روز میں اور خالد بھائی اس کے پاس جانے کیلئے تیاری میں مصروف تھے اور باقاعدہ انٹرویو لے کر آنا تھا ہم کو پتہ چلا کہ طالب حسینؒ انتقال کر گیا ہم اس کی بیرک میں گئے تو بیرک والوں نے بتایا کہ رات کو اس کی طبیعت دوبارہ خراب ہو گئی تھی اور تمام رات تڑپتا رہا سسکتا رہا اور کہتا رہا کہ مجھ کو دوبارہ زہر دیا گیا ہے میری قے کو لیباٹری میں ٹیسٹ کرواؤ اور وہ سخاوت علی کا نام لے کر اس کو اپنے قتل کا ذمہ دار ٹھہراتا رہا اور تمام رات پوری جیل میں واویلا کرتا رہا کہ مجھ کو سخاوت علی نے زہر دیا ہے زہر اس کی رگ رگ میں پھیل چکا تھا، وہ تڑپتا رہا مگر کوئی بھی ڈاکٹر یا جیل کی انتظامیہ اس کے علاج کیلئے نہ پہنچ سکی ، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے یہ سب کچھ جیل انتظامیہ اور ڈاکٹر شفقت کی ملی بھگت سے ہوا ہے۔ ڈاکٹر شفقت جو کہ سخاوت علی کا بہت قریبی تھا مگر اس روز اس نے طالب حسینؒ کے گھر والوں کی اس سے ملاقات بھی نہ کروائی حافظ ذاکر طالب حسینؒ کو صرف مسلمان ہونے کے جرم میں زہر دے کر بے دردی اور انتہائی سفاکی سے شہید کر دیا گیا مگر طبعی موت کا نام دے کر ڈاکٹروں نے رپورٹ تیار کر دی ، خدا تعالی ان ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچائے اور طالب حسین کی مغفرت فرمائے

 (آمین ثم آمین)

 (ماهنامه خلافتِ راشده فروری 1994 ء)


صفحہ 2 از 2