میں شیعہ ہونے کا اعلان کرنے ہی والا تھا! - ردِ رافضیت |…

میں شیعہ ہونے کا اعلان کرنے ہی والا تھا!

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 3 از 4

 قارئین کرام کی آگاہی کے لیے عرض کر دوں کہ شیعہ حضرات آج بھی اپنی پرانی عادت کے مطابق کتابوں میں خیانت کر رہے ہیں.ابھی پاکستان میں قاضی نور اللہ شوستری کی مجالس المومنین کا ترجمہ محمد حسن جعفری نے کیا ہے جسے اکبر حسین جیوانی ٹرسٹ نے چھاپا ہے اس میں انہیں تمام عبارتوں کا ترجمہ غائب کر دیا ہے جن میں قاضی صاحب نے سیدنا عمرؓ کے ساتھ سیدہ ام کلثوم بنت علیؓ کے نکاح کا اقرار کیا ہے..... اسی طرح کتاب سلیم بن قیس ہلالی کے اردو ترجمہ میں وہ عبارت اڑادی گئی ہے جس میں سیدنا علیؓ کا سیدنا ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا اقرار ہے۔ یہ دو تین مثالیں مجھ جیسے کم علم آدمی کو شیعوں کی کتابوں پر سرسری نظر میں مل گئیں۔ اگر علماء کرامؒ اس طرف توجہ فرمائیں تو بیسیوں مثالیں اسی قسم کی مل سکتی ہیں۔

اشاعت کے مراحل

 پہلی بار یہ کتاب آیاتِ بینات 1870ء مطابق 1286ھ میں مرزا پور سے اس وقت شائع ہوئی جب مصنف علام کا سن 33 سال تھا

 دوسری بار فضائل صحابہؓ کا پہلا جزء 1884 ء مطابق 1301 ھ میں مطبع مصطفائی لکھنؤ سے شائع ہوا. جس کا قطعہ تاریخ مولوی مجیب اللہ مرحوم نے یہ لکھا تھا قطعہ

ازفیض طبع مہدی دین المعی عصر.....

 مطبوع شد رسالہ بے مثال و لاجواب

نام کتابوں و نیز سن طبہ اے مجیب.....

 آیاتِ بینات رقم سازبا کتاب

1301،426،875ھ

اس کے بعد فضائل صحابہؓ کا دوسرا جزء 1887 ء مطابق 1304 ھ میں اور دوسرا حصہ بحث فدک والا بھی 1898 ء مطابق 1315 ھ میں مطبع مصطفائی سے شائع ہوا

 تیسری بار فضائل صحابہؓ کا پہلا جزء جنوری 1934 ء مطابق 1353 ھ میں حسب فرمائش حافظ معصوم علی صاحب مرحوم یونائیٹڈ پریس لکھنؤ سے بقائے نام مصنف کے خیال سے طبع کر کے شائع کیا گیا۔ پاکستان بننے کے بعد وہاں سے بھی اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے مگر ہندوستان میں عرصہ دراز سے اس کتاب کی اشاعت نہیں ہوئی تھی اب 72سال بعد ادارہ اشاعت حق اس کو شائعہ کرنے کی سعادت حاصل کر رھا ہے میں کتاب کی اشاعت کے سلسلہ میں ان تمام حضرات کا ممنون ہوں جنہوں نے کسی طرح اور کسی بھی سطح پر تعاون فرمایا ہے خصوصا مولانا انوارالحق قاسمی صاحبؒ استاذ دارالمبلغین لکھنؤ کو شکریہ ادا کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں جنہوں نے شیعہ کتابوں کے حوالہ جات تلاش وتحقیق میں بھرپور رہنمائی فرمائی.... اللہ تعالی ان تمام مخلصین اور محبین کو جزائے خیر عطا فرمائے اور اس کتاب کو بھٹکے ہوئے لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے..........آمین

خاک پائے اہلِ بیت و صحابہؓ شیخ محمد فراست

7ستمبر 2006 ء۔

ارشاد حسینؒ نے اسلام قبول کر لیا

 گروٹ شہر کے ایک متعصب اور سبی گھرانے کے ایک شخص کی قسمت بدل گئی. اور اس نے اپنے وجود کو جہنم میں جانے سے بچا لیا اور پھر سپاہ صحابہؓ میں شمولیت اختیار کر لی. گروٹ شہر کے ایک شخص ارشاد حسینؒ حق کی تلاش میں راہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے آخر کار اپنی منزل پر پہنچ گئے

.... انہوں نے شیعہ مذہب کیوں چھوڑا؟

.... وہ کیا واقعات تھے جو شیعہ مذہب چھوڑنے کا سبب بنے؟

.... شیعہ کے اس متعصب گھرانے کے اس خوش نصیب انسان کی قسمت میں انقلاب کیسے آیا؟

 یہ باتیں جاننے کے لیے سپاہ صحابہؓ گروٹ کے دفتر میں ارشاد حسین صاحبؒ کو مدعو کیا گیا سپاہ صحابہؓ گروٹ یونٹ کے سیکرٹری رانا خلیل احمد صاحبؒ نے اس سلسلہ میں ان سے چند سوال کیے جو نہایت دلچسپ ہونے کے ساتھ سبق آموز بھی ہیں

 آ ئیے ہم ارشاد حسین صاحبؒ کی گفتگو آپ تک پہنچاتے ہیں

رانا خلیل احمدؒ :آپ نے راہ حق کیسے تلاش کیا؟

 ارشاد حسینؒ اللہ تعالی کا مجھ پر نہایت ہی کرم ہوا کہ میں ذلالت اور گمراہی سے نکل کر راہ حق پر پہنچا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالی حق اسے ہی نصیب کرتے ہیں جو اس کا طلب گار ہو میرے دل میں شروع ہی سے حق کو تلاش کرنے کی طلب موجود تھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج میں مسلمان ہوں میں اکثر رمضان المبارک میں سنی العقیدہ مسلمانوں کی مساجد میں تراویح سننے جایا کرتا تھا چونکہ میں شیعہ تھا اس لیے مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ کر قراءت سنتا رہتا میرے دل میں قرآن کی عظمت بیٹھتی چلی گئی اور شیعیت سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگی بالآخر اللہ تعالی نے مجھے ہدایت سے نوازا اور میں نے شیعیت سے توبہ کرکے حقیقی اسلام قبول کر لیا۔

رانا خلیل احمدؒ: آپکا گھرانہ والدین رشتہ دار سب متعصب قسم کے لوگ ہیں اپنے گھر اتنے متعصب مذہبی ماحول کے باوجود آ پ نے شیعہ مذہب کیوں چھوڑا ؟

ارشاد حسینؒ:میرے گھر کے متعصبانہ کفریہ ماحول نے ہی مجھے شیعیت سے متنفر کیا مثال کے طور پر کسی مصیبت و پریشانی میں وہ لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں نکالتے تھے اور ان پر تبرہ کرتے تھے۔ میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ مصیبت تو خدا کی طرف سے ہوتی ہے (سزا یا امتحان کے طور پر یا کسی اور حکمت کی بنا پر) لیکن یہ لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں کیوں نکالتے ہیں؟ اس قسم کے اور بہت سے واقعات تھے جو مجھے رفتہ رفتہ شیعت سے دور لے جاتے گئے۔

رانا خلیل احمدؒ: شیعہ ہوتے ہوئے شیعہ مذہب کے بارے میں کیا آپ کا ضمیر مطمئن تھا؟

ارشاد حسینؒ شیعہ ہوتے ہوئے شیعہ مذہب کے بارے میں میرا ضمیر مطمئن نہیں تھا۔ مجھے اکثر یہ خیال آ تا رہتا تھا کہ پتا نہیں یہ مذہب کیسا ہے ؟ حق ہے بھی یا نہیں۔ میں اکثر مجالس سنتا شیعہ لوگ ذاکروں کی بڑی تعریف کرتے میں ان ذاکروں کو عمل کے لحاظ سے آوارہ پھرتے دیکھتا۔ ان کے مذہبی ہونے کا مجھے یقین نہ آتا مجلس میں وہ ایسی گندی غیر اخلاقی گفتگو کرتے چرس چلتی، بھنگ کے اڈے قائم کیے جاتے، غلیظ گفتگو ہوتی ان باتوں کی وجہ سے میں سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ جس مذہب کے رہنما اس قسم کے غلیظ انسان ہوں تو اس مذہب کا اللہ ہی حافظ ہے مذہب کیا ہے جب مجلس ہو تو دوہڑے پڑھ دیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبرا کردیا،تو مجھے شیعہ سے نفرت سی ہوتی چلی گئی۔

رانا خلیل احمدؒ: شیعہ کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ ارشاد حسینؒ: بھائی میرا تو عقیدہ صاف صاف یہ ہے کہ یہ مذہب اتنا گندہ ہے کہ اس دھرتی پر شیعہ سے بڑا کافر پیدا ہی نہیں ہوا اگر یہ مذہب اچھا ہوتا تو میں اس کو کیوں چھوڑتا

صفحہ 3 از 4