میں شیعہ ہونے کا اعلان کرنے ہی والا تھا! - ردِ رافضیت |…

میں شیعہ ہونے کا اعلان کرنے ہی والا تھا!

  مولانا محمد اسماعیل میلسوی

صفحہ 2 از 4

ذہن کے دریچے روشن ہو گئے اس گفتگو کے پندرہ بیس دنوں کے بعد میرے ایک عزیز کتابوں کا ایک بنڈل اور ایک خط لے کر آئے جس کا مضمون کچھ اس طرح تھا میں تمہیں آیاتِ بینات، نصیحتہ الشیعہ، تنبیہ الحائرین، ابو الائمہ کی تعلیم، قصہ قرطاس کا کفر شکن فیصلہ، قاتلان حسین کی خانہ تلاشی اور مناظرہ امروہہ کل سات کتابیں بھیج رہا ہوں۔ میں نے جس ترتیب دی ترتیب سے نام لکھے ہیں اسی ترتیب سے کتابیں پڑھنا آیاتِ بینات کو خصوصا بڑی توجہ اور غور سے پڑھنا کیونکہ یہ ایک ایسے عالم کی لکھی ہوئی ہے جو خود پہلے شیعہ تھے پھر دونوں مذاہب کے اصول و فروغ پر غور و فکر کے بعد اہلِ سنت ہو گئے تھے اگر ان کتابوں کو پڑھنے کے بعد بھی ذہن مطمئن نہ ہو تو دل چاہے تو لکھنؤ میں مولوی عبدالشکور صاحبؒ سے رجوع کرنا یا پھر میرے پاس آنا میں شبومیاں سے تمہاری ملاقات و گفتگو کرا دوں گا

 میں نے آیاتِ بینات کا مطالعہ شروع کیا جوں جوں کتاب پڑھتا گیا ہے ذہن کے دریچے روشن ہوتے گئے ایسا محسوس ہوا گویا کہ میں اب تک سخت ترین تاریکی میں تھا اس کے بعد نصیحتہ الشیعہ اور دیگر کتابوں کا بھی مطالعہ کیا میری بڑی بدقسمتی رہی جن دنوں میں ان کتابوں کا مطالعہ کر رہا تھا اسی درمیان حضرت مولانا عبدالشکور صاحب نور اللہ مرقدہ کا وصال ہو گیا اور ان سے ملاقات کی تمنا دل ہی دل میں رہ گئی اس کے بعد جانشین امام اہلِ سنت حضرت مولانا عبد السلام صاحب فاروقیؒ اور حضرت مولانا عبدالاول صاحب فاروقیؒ کی صحبت نصیب ہوئی اور ان حضرات سے راہنمائی حاصل کرتا رہا۔

کتاب کی اشاعت کا جذبہ انہی دنوں مجھے خیال آیا جس طرح میں شیعت کا شکار ہوا جا رہا تھا اسی طرح بہت سے اللہ کے بندے جو شیعہ حضرات کی صحبت میں رہتے ہوں گے اس مذہب سے نا واقفیت کے سبب شیعہ یا نیم شیعہ ضرور بن جاتے ہوں گے اس لیے آیاتِ بینات اور نصیحتہ الشیعہ جیسی کتابوں کی اشاعت برابر ہوتی رہنی چاہیے پھر جب میں نے حضرت مولاناعبد الاول صاحبؒ سے اس بات کو ذکر کیا کہ آیاتِ بینات ہندوستان میں 1934ء کے بعد سے (جس کو ایک بڑا عرصہ ہو گیا ہے) اب تک نہیں چھپی ہے اور میں اس کی اشاعت کرانا چاہتا ہوں. تو بہت خوش ہوئے. اور انہوں نے ہی مجھے اسکی فارسی عبارتوں کے ترجمہ کی طرف متوجہ کیا ساتھ ہی خود ترجمہ کر دینے کی خواہش کا بھی اظہار فرمایا...... مگر بد قسمتی سے میں ان دنوں کاروباری الجھنوں میں ایسا پھنسا مولانا کی طرف سے بار بار اصرار کے باوجود اس کام کو انجام نہ دے سکا وقت گزرتا گیا اس درمیان دونوں مولانا حضرات بھی مالک حقیقی سے جا ملے اور میں قطعی نا امید ہوچکا تھا شاید اب کبھی اس کام کو انجام نہ دے سکوں گا مگر اللہ تعالی کو یہ کام مجھ گنہگار سے لینا منظور تھا.

ابھی دو سال قبل میرے دوستوں میں ڈاکٹر حبیب فکری صاحب لیکچرار عرب کلچر لکھنؤ یونیورسٹی ومحمد یعقوب منٹو نے کچھ اس انداز سے ہمت بندھائی کہ میں بالکل بے سروسامانی کے عالم میں بھی اس کام کے لیے کھڑا ہوگیا تب مجھے ترجمہ کا دھیان آیا اللہ تعالی نے یہ سعادت مولانا عبد السمیع قاسمی صاحبؒ استاذ دار المبلغین لکھنؤ کے نصیب میں لکھی تھی اللہ انہیں جزائے خیر دے انہوں نے اس کام کو بہ حسن و خوبی بلا معاوضہ انجام دیا۔ کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں جانشین امام اہلِ سنت حضرت مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب دام ضلہ العالی سے برابر مشاورت رہی مولانا پورے خلوص کے ساتھ اپنے مفید مشوروں سے مستفید فرماتے رہے اور میرے بازوئے ہمت کو سہارا دیتے رہے اس سلسلے میں دامے درمے سخنے جس طرح بھی مدد درکار ہوئ مولانا دامت برکاتہم نے اس میں کوئی دریغ نہیں فرمایا۔

شیعہ حضرات اب خود فیصلہ کریں

 بات مختصر کرتے کرتے بھی کافی طویل ہو گئی مگر اس کتاب کے قارئین کی معلومات کے لیے چند باتوں کا بیان بہت ضروری ہے... مولانا محمد منظور نعمانی نے شیعہ مذہب کے تعارف اور امام خمینی کے عقائد و نظریات کے متعلق ایک کتاب ایرانی انقلاب امام خمینی اور شیعت لکھی تھی جس کے صفحہ198 پر سیدنا فاروق اعظمؓ کا یوم شہادت سب سے بڑی عید رسول اور خدا پر افتراء کی بدترین مثال کا عنوان قائم کرکے ملا باقر مجلسی کی زادا المعاد سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں 9 ربیع الاوّل کو سیدنا عمر فاروقؓ کے قتل کا دن قرار دیتے ہوئے اس تاریخ کی حیرت انگیز فضیلتیں بیان کی گئی ہیں اور روز قتل سیدنا عمرؓ کو شیعوں کی سب سے بڑی عید قرار دیا ہے. کشمیر کے ایک شیعہ مجتہد سید محمد ہمدانی نے آئینہ ہدایت کے نام سے نعمانی صاحب کی کتاب کا جواب لکھا ہے. یہ جواب کس پائے کا ہے؟ اس پر تبصرے کا تو یہ موقع نہیں ہے. البتہ ان کی ایک غلط بیانی کی نشاندہی بہت ضروری ہے. موصوف نے کتاب کے صفحہ 396 پر اس روایت کے موجود ہونے نہ ہونے پر تو کوئی بحث نہیں کی ہاں ایک ایسا سفید جھوٹ ضرور بولا جو شیعوں کے تکیہ باز بزرگوں کو ہی زیب دیتا ہے ہمدانی صاحب مولانا نعمانی کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں: موصوف یہ جان لیں شیعہ اس روز (9 ربیع الاول) کو جشن ولادت حضرت محمدﷺ مناتے ہیں.... شیعہ حضرات اب خود فیصلہ کریں کہ وہ 9 ربیع الاول کو جشن ولادت حضرت محمدﷺ مناتے ہیں یا عید زہراء ؟ہمدانی صاحب کو اس ضعیف العمری میں بھی اتنا بڑا جھوٹ بولتے ہوئے بالکل شرم نہیں آئی....

 کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالب

........شرم تم کو مگر نہیں آتی۔

شیعہ حضرات کی کتابوں میں کتر و بیونت و خیانت

صفحہ 2 از 4