سرحدوں پر شہروں کی تعمیر فوجی اور تمدنی مراکز کے طور پر -…

سرحدوں پر شہروں کی تعمیر فوجی اور تمدنی مراکز کے طور پر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

بے شک سیدنا عمرؓ نے صحیح اور مستحکم بنیادوں پر بصرہ اور کوفہ کی آباد کاری کی، اس کی سڑکوں اور راستوں کو وسیع کیا اور انہیں نہایت بہترین انداز میں منظم کیا، مجموعی طور پر آپؓ کی یہ طرز فکر بتاتی ہے کہ فن آبادکاری میں آپؓ کی شخصیت منفرد و بے مثال تھی۔ بہرحال کوفہ اگر ایک طرف شہری زندگی کا سماں پیش کر رہا تھا تو دوسری طرف اس کے باشندے دیہات کی کھلی آب و ہوا اور سبزہ زاروں کے منظر سے محظوظ ہو رہے تھے اور یہ چیز جسمانی صحت کے لیے بہت مفید نیز بہترین ہوا کے لیے بہت معاون ہے۔ شہروں کے حسن و جمال کو نکھارنے اور انہیں زندگی بخشنے میں اس کی سڑکوں اور عام راستوں کی کشادگی کا وہی مقام ہے جو مقام انسان کے جسم میں اس کے پھیپھڑوں کا ہوتا ہے، کوفہ میں آباد ہونے والے مجاہدین کے بارے میں سیدنا عمرؓ یہ چاہتے تھے کہ وہ لوگ اپنے خیموں ہی کو اپنا مسکن بنائیں، کیونکہ یہ طرز سکونت بوقت ضرورت انہیں اپنے عمل میں جلدی پیش قدمی کا موقع مہیا کرے گی اور دشمنانِ اسلام کو مرعوب کرنے کی ایک اہم علامت ہو گی، لیکن بعد کے ادوار میں ترقی کے کئی مراحل طے ہوئے اور شہروں کو گھاس پھوس، نرکل اور بانس کے گھروں کے بجائے سیمنٹ اور پکی اینٹوں سے بسایا جانے لگا۔

(الخلفاء الراشدون: ص 182)


صفحہ 4 از 4