سرحدوں پر شہروں کی تعمیر فوجی اور تمدنی مراکز کے طور پر -…

سرحدوں پر شہروں کی تعمیر فوجی اور تمدنی مراکز کے طور پر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی رہنمائی و ہدایات کے بعد حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے شہر کوفہ کی داغ بیل ڈالی، اور اسے بسانے و منظم کرنے میں خود کو فاروقی نظریہ تنظیم و آباد کاری کے تابع کر دیا، دراصل شہر کوفہ کو بسانے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ جب حضرت عمرؓ نے قادسیہ اور مدائن کے محاذ جنگ سے فاتحانہ شان و شوکت کے ساتھ لوٹنے والے مجاہدین کے چہروں کے رنگ و روپ کو بدلا ہوا دیکھا تو آپؓ کو محسوس ہوا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کی آب و ہوا ان کو راس نہیں آئی ہے، پھر آپؓ نے سعد بن ابی وقاصؓ کو خط لکھ کر یہ حکم دیا کہ ان مجاہدین کی رہائش کے لیے ایسی جگہ منتخب کریں جہاں کی آب و ہوا ان کے اور ان کے مویشیوں کے موافق ہو اور سلمان فارسیؓ نیز حذیفہ بن یمانؓ کو جو اسی قسم کے کاموں پر مامور تھے رہنما بنا کر بھیجا۔ وہ دونوں مناسب مقام تلاش کرتے ہوئے کوفہ پہنچے جو کہ ’’حیرہ‘‘ اور دریائے ’’فرات‘‘ کے درمیان واقع ہے، اسے کوفہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی زمین ریتیلی اور کنکریلی ہے اور ہر ایسی جگہ جو ریتیلی و کنکریلی ہو اسے عربی میں کوفہ کہتے ہیں۔ 

(تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ: صفحہ 335)

چنانچہ اس خط کو پا کر سعد بن ابی وقاصؓ محرم 17ھ میں مجاہدین کو لے کر مدائن سے کوفہ منتقل ہو گئے، سیدنا عمر فاروقؓ کی یہ خواہش تھی کہ مسلمان خیموں کو اپنی رہائش گاہ بنائیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ طرزِ سکونت ان کے جنگی مفاد میں کافی متعاون، دشمنوں کو مرعوب کرنے میں کافی مؤثر اور سنگین حالات میں انہیں پیچھے ہٹنے یا دارالخلافہ واپس بلانے میں اہم کردار ادا کر سکتی تھی، ہر چند کہ آپ ایسی ہی رہائش گاہ کے خواہاں تھے، لیکن جب کوفہ اور بصرہ کے باشندوں نے بانس اور نرکل کے مکانات بنانے کی آپؓ سے اجازت مانگی تو آپؓ نے ان کو روکنا پسند نہ کیا اور اجازت دے دی، اور ان لوگوں نے سرکنڈے اور بانسوں کی جھونپڑیاں اور مکانات بنا لیے، لیکن ایک مرتبہ جب کوفہ اور بصرہ میں بھیانک آگ لگ گئی تو یہ سارے مکانات بھی جل کر خاکستر ہو گئے، اس وقت وہاں کے لوگوں نے حضرت عمرؓ سے کچی اینٹ اور گارے کے مکانات بنانے کی اجازت مانگی، تو آپؓ نے کہا: ٹھیک ہے، بنا لو۔ البتہ اونچی عمارتیں اور تین کمروں سے زیادہ نہ بنانا، اور عتبہؓ و اہل بصرہ کے نام بھی اسی طرح کا خط ارسال کیا۔

اور بصرہ والوں کو بسانے، نیز اس کی آبادکاری کی نگرانی ابو الجرداء عاصم بن الدلف کو سونپی، جب کہ کوفہ والوں کو بسانے اور ان کی آباد کاری کی ذمہ داری ابو ہیاج بن مالک اسدی کے سپرد کی۔ چنانچہ ابو ہیاج نے فاروقی منصوبہ بندی کے مطابق کوفہ کی آبادکاری کا کام شروع کیا، حضرت عمرؓ نے شہر کوفہ کا خاکہ یوں تیار کیا تھا کہ اس کی بڑی سٹرکیں چالیس 40 ہاتھ چوڑی اور اس سے چھوٹی تیس 30 ہاتھ چوڑی اور سب سے چھوٹی سٹرکیں بیس 20 ہاتھ چوڑی ہوں، گلیاں سات 7 ہاتھ سے کم کی چوڑائی میں نہ ہوں، جب کہ آباد سیکٹروں کی چوڑائی ساٹھ 60 ہاتھ ہو۔ شہر کوفہ کا خاکہ تیار کرتے وقت سب سے پہلے جامع مسجد کی جگہ متعین کی گئی، بایں طور کہ کوفہ کے بیچوں بیچ قلب میں ایک طاقتور تیر انداز کھڑا ہوا، اور اس نے اپنے دائیں بائیں، آگے پیچھے، پوری طاقت سے تیر پھینکا، اور جہاں وہ تیر واقع ہوئے اس کے پیچھے لوگوں کو مکانات بنانے کا آپؓ نے حکم دیا۔ مسجد کے سامنے دو سو 200 ہاتھ لمبا ایک سائبان بنوایا، اس سائبان کے ستون سنگ مرمر کے بنائے گئے، یہ سنگ مرمر فارسی بادشاہوں کے تھے، اس کی اونچائی رومی عبادت گاہوں کی اونچائی کے ہم مثل تھی۔ اہل کوفہ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے لیے مسجد کے قریب ہی ایک گھر بنایا، گھر اور مسجد کے درمیان دو سو 200 ہاتھ کی ایک گلی جاتی تھی، اسی طرح مسجد سے متصل ہی بیت المال کی عمارت بنائی گئی، تعمیر کا یہ سارا کام روزبہ الفارسی نے انجام دیا۔ 

(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 17 )

اس شہر میں سب سے پہلے صرف مجاہدین اقامت گزیں تھے، لیکن بعد میں فارس کے حکمران رستم کی ایک فارسی موج جس کی تعداد چار ہزار 4000 تھی اور یہ ’’لشکر شہنشاہ‘‘ کے نام سے معروف تھی اس نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ 

 سے جزیہ دینے کے عوض یہ درخواست کی کہ ہمیں اپنی مرضی کے مطابق کوفہ میں رہنے اور لوگوں سے تعلقات پیدا کرنے کا موقع دیں۔ چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے ان کی درخواست منظور کر لی، معلوم رہے کہ ان کا نقیب ’’دیلم‘‘ نامی ایک شخص تھا، اس لیے اس جماعت کو ’’حمراء دیلم‘‘ کہا جانے لگا۔

(تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ: صفحہ 336) 

اسی طرح جب حضرت عمر بن خطابؓ نے جزیرہ عرب سے نجران کے یہود و نصاریٰ کو جلا وطن کیا تو وہ بھی یہیں آ کر آباد ہوئے اور جس خطہ میں یہ لوگ آباد ہوئے تھے اسے ’’نجرانیہ‘‘ محلہ کہا جاتا ہے۔ 

(تاریخ الدعوۃ الإسلامیہ: صفحہ 336)

بصرہ اور کوفہ کو شہری حیثیت مل جانے کے بعد دونوں شہروں کی اہمیت بڑھ گئی، اسلامی افواج کی قیادت، اور پورے عالم اسلام میں علم و ادب کا پرچم بلند کرنے میں انہیں کافی شہرت ملی، اسلامی قوت و شوکت حجاز سے کوفہ منتقل ہو گئی اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کوفہ کو دارالخلافہ بنا لیا۔ 

(الدعوۃ الإسلامیۃ: ص 337)

صفحہ 3 از 4