سرحدوں پر شہروں کی تعمیر فوجی اور تمدنی مراکز کے طور پر -…

سرحدوں پر شہروں کی تعمیر فوجی اور تمدنی مراکز کے طور پر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

بصرہ پہنچ کر حضرت عتبہؓ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اسے شہری آبادی میں بدلنے کے بارے میں مشورہ لیا، آپؓ نے ان کو حکم دیا کہ فوج لے کر ایسی جگہ ٹھہریں جہاں سے پانی اور چراگاہ قریب ہو۔ عتبہ کی نگاہ انتخاب بصرہ پر پڑی اور اس سلسلے میں آپ نے عمر بن خطابؓ کو لکھا کہ مجھے خشکی کے علاقے میں ایک سرسبز زمین مل گئی ہے، اس کے دوسری طرف پانی کے دریا ہیں ان میں گھاس پھوس اور بانس وغیرہ ہیں آپؓ نے جواب میں لکھا کہ ٹھیک ہے وہیں قیام کرو۔ چنانچہ حضرت عتبہؓ نے وہیں افواج اتاریں، اور بانس کی کھپچیوں اور گھاس پھوس سے وہاں مسجد بنائی، مسجد سے الگ ایوانِ حکومت بنائے بانس کی کثرت ہونے کی وجہ سے ان لوگوں نے بانسوں ہی کی مزید سات جھونپڑیاں بنائیں، جب غزوہ کے لیے جاتے تو انہیں اکھاڑ کر رکھ دیتے، پھر جب غزوہ سے واپس آتے تو دوبارہ انہی بانسوں کا چھپر وغیرہ بنا کر جھونپڑی تیار کر لیتے۔ ایک مرتبہ ان مکانات میں آگ لگ گئی اور سب کو جلا کر خاکستر کر دیا تو وہاں کے لوگوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کچی اینٹوں کے مکانات بنانے کی اجازت مانگی، آپ نے 17ھ میں عتبہؓ کی وفات کے بعد ابو موسیٰ اشعریؓ کے دور امارت میں اس بات کی اجازت دے دی۔ ابو موسیٰ اشعریؓ نے مسجد اور ایوانِ حکومت کو گارے اور کچی اینٹوں سے بنوایا اور چھت کے لیے بانسوں کے چھپر استعمال کیے، پھر بعد کے ادوار میں ان دونوں کو پختہ مکانات کی شکل میں تیار کرایا گیا۔

مختلف قبائل کے لیے الگ الگ احاطہ کھینچ کر انہیں مکانات دئیے گئے انہوں نے بصرہ کی سب سے بڑی سٹرک کو ساٹھ 60 ہاتھ چوڑی اور دوسری عام سٹرکوں کو بیس 20 ہاتھ چوڑی، جب کہ گلیوں کو صرف سات 7 ہاتھ کی چوڑائی میں بنایا، اور ہر احاطہ کے بیچ میں اصطبل اور قبرستان کے لیے ایک کشادہ زمین خالی چھوڑ دی اور گھروں کو قریب قریب بنایا۔ 

(تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ: صفحہ 334)

حضرت عمرؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو حکم بھیجا کہ بصرہ والوں کے لیے ایک نہر کھودیں، چنانچہ آپؓ نے تین فرسخ لمبی نہر ’’اَبلہ‘‘ سے بصرہ تک کھدوائی۔ 

(تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ: صفحہ 334)

گویا مسلم قوم شہروں کی آبادکاری اور پلاننگ کرنے والے انجینئروں کا ہر اول دستہ ہے۔ 

’’ابلہ‘‘، ’’دست‘‘، اور ’’میسان‘‘ کی فتوحات کے بعد بصرہ کی اقتصادی حالت کافی بہتر ہو گئی 

(تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ: ص 334)

اور دوسرے مقامات سے بھی آ کر لوگ وہاں آباد ہونے لگے، چونکہ بصرہ کے اولین شہری خالص طالب جہاد تھے اور بعد کے لوگ خالص طالب مال، اس لیے مختلف قبائل، دولت کے حریص اور متعدد قسم کے تاجران وہاں آ کر بس گئے اور وہاں کی آبادی بہت زیادہ بڑھ گئی۔

(تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ: صفحہ 334)

شہروں کو بساتے اور آباد کرتے وقت جو فوجی و اقتصادی پالیسیاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے تھیں علمائے محققین ومؤرخین نے انہیں ان نکات میں پیش کیا ہے:

 سر زمین عرب کی آخری سرحد پر بالائی علاقہ میں عجم کی سرزمین سے بالکل متصل ان شہروں کو بسایا گیا، تاکہ یہ شہر عربوں کے لیے محفوظ و مضبوط قلعوں کا کام کریں، اور عجم اس راستہ سے حملہ آور ہونے کی کوئی بھی تمنا نہ کریں۔

 ان شہروں کے محل وقوع کا عربوں کی سکونت کے لیے موزوں ہونا کیونکہ اس وقت وہی جہاد فی سبیل اللہ کے روح رواں تھے، انہیں ایسے ہی مقامات راس آتے تھے جہاں اونٹوں کے لیے چراگاہیں ہوں، جیسا کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کی وضاحت کی تھی۔

 ان شہروں کو بساتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ ایک طرف سرزمین عرب کے خشکی کے علاقوں سے ان کا تعلق ہو تاکہ عربوں کو اپنے مویشیوں کے لیے چراگاہیں میسر ہوں جب کہ دوسری طرف اس بات کی رعایت کی گئی کہ سرزمین عجم کے دیہی سرسبز علاقوں سے بھی ان کی سرحدیں متصل ہوں تاکہ پھل، غلہ جات، دودھ، اور اونی کپڑے وغیرہ دیہی پیداواری مصنوعات اندرون شہر آ سکیں۔ بصرہ کی زمین سے متعلق جب حضرت عمرؓ نے عتبہ بن غزوانؓ

کو ہدایت بھیجیں تو لکھا کہ یہ خطہ کافی زرخیز ہے، دریاؤں، چراگاہوں اور ہری بھری جھاڑیوں کے قریب ہے۔ 

(فتوح البلدان: البلاذری؛، صفحہ 341)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اس موقع و منظر کا منتخب کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی جنگی سیاست کافی محفوظ اور آبادکاری کی تنظیم و تخطیط عکافی دقیق تھی اور اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ یہ علاقہ جنگ و عدم جنگ دونوں حالتوں میں کارآمد ثابت ہو۔

 بہرحال اس منصوبہ بند نو آبادیاتی نظام کے ذریعہ سے آبی وسائل اپنے دائرہ تحفظ میں آ گئے اور لکڑی جیسی گھریلو ضروریات اور غذائی اجناس کی درآمد ہونے کا راستہ بالکل صاف ہو گیا جو ہر شہری کی اہم ضروریات زندگی میں داخل ہیں۔

 اس بات کی مکمل تحقیق کی گئی کہ دارالخلافہ سے محاذ جنگ تک امداد پہنچنے میں کوئی قدرتی رکاوٹ مثلاً سمندر وغیرہ نہ حائل ہوں۔ 

(فتوح البلدان: صفحہ 275)

یاد رہے کہ اسلامی لشکر میں قبائلی تنظیم کی رعایت کرتے ہوئے ہر قبیلہ کے لیے الگ الگ خطے بھی خاص کیے گئے تھے اور ہر قبیلہ کے مکانات قریب قریب رکھے گئے تھے۔ 

(اقتصادیات الحرب فی الإسلام: صفحہ 247)

شہر کوفہ:

تمام مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اس شہر کے مؤسس اول ہیں انہوں نے ہی اس جگہ کا انتخاب کیا تھا اور مدائن کے محاذ جنگ پر اہل فارس سے مسلمانوں کی فاتحانہ معرکہ آرائی کے کافی عرصہ بعد آپؓ نے اس کا خاکہ بنانے کا حکم دیا تھا، بصرہ کی تنظیم و آبادکاری کے وقت جو حکمت عملی اپنائی گئی بالکل وہی حکمت عملی یہاں بھی اپنائی گئی کیونکہ اس جگہ کے انتخاب یا یہاں کے مجاہدین کو خیمہ زن کرنے میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے سامنے فوجی اسباب و مصلحتیں سب سے اہم تھیں۔ 

(دراسات فی تاریخ المدن العربیۃ الإسلامیۃ: دیکھئے عبدالجبار ناجی: صفحہ 183 )

صفحہ 2 از 4