سرحدوں پر شہروں کی تعمیر فوجی اور تمدنی مراکز کے طور پر -…

سرحدوں پر شہروں کی تعمیر فوجی اور تمدنی مراکز کے طور پر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

عہد فاروقی میں فتوحات کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ اسلامی ریاست نے اپنی سرحدوں پر چھوٹے چھوٹے شہر بسائے، مواصلات و روابط کے راستوں کو آسان کیا، زمینوں کی اصلاح کی، اور لوگوں کو رغبت دلائی کہ ہجرت کر کے جہادی مراکز کے پاس سکونت اختیار کریں، اسلام کی نشر و اشاعت اور مجاہدین کو نفری قوت و سامان جنگ پہنچانے کے لیے مفتوحہ شہروں کی طرف منتقل ہو جائیں۔ اس دوران میں جو سب سے اہم شہر بسائے گئے، (اقتصادیات الحرب فی الإسلام: دیکھئے غازی بن سالم: صفحہ 245) وہ بصرہ، کوفہ، موصل، فسطاط، جیزہ اور سرت تھے۔

(تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ: دیکھئے جمیل المصری: صفحہ 33، 340)

اسلامی افواج کے قبائل اور جھنڈوں کے اعتبار سے مکانات تیار کیے گئے اور ان شہروں کی منصوبہ بندی اور توزیع لشکر اسلام کے قبائل اور بٹالین کے اعتبار سے کی گئی۔ نیز ان شہروں میں رفاہ عام کی تعمیرات مثلاً مسجدیں اور بازار بھی بنائے گئے، ہر شہر کے لیے ایک چراگاہ بنائی گئی جس میں مجاہدین کے گھوڑے اور اونٹ چر سکیں۔ آپؓ نے لوگوں کو رغبت دلائی کہ وہ اپنے بال بچوں کو لے کر حجاز کے شہروں اور جزیرہ عرب کے دور دراز علاقوں کو چھوڑ کر ان شہروں میں آباد ہو جائیں تاکہ یہ شہر فوجی اڈوں کا کام کریں، یہاں مجاہدین کا لشکر تیا رکیا جائے اور اسے مدد بہم پہنچائی جائے تاکہ وہ دشمن کی سرزمین میں اندر تک گھس جائیں اور وہاں اسلام کی دعوت دیں، آپؓ نے ان شہروں کا خاکہ تیار کرتے وقت فوجی کمانڈروں کو حکم دیا تھا کہ دارالحکومت سے ان شہروں تک بہترین سٹرک تیار کی جائے، درمیان میں سمندر و دریا حائل نہ ہوں، اس لیے کہ آپؓ اس وقت سمندری سواری سے عربوں کی عدم واقفیت سے ڈرتے تھے۔ لیکن جب مصر میں اسلامی افواج کا مشاہدہ کر لیا کہ ان میں دریائی و سمندری راستوں کو پار کرنے کی صلاحیت ہے تو حضرت عمرو بن عاصؓ کو کھاڑی کی شکل میں وہ نہر کھودنے کی اجازت دے دی جو دریائے نیل اور بحر احمر کے درمیان بہنے لگی اور اسی راستے سے غلہ وغیرہ کی امداد مصر سے حجاز پہنچائی جانے لگی۔ 

(اقتصادیات الحرب فی الإسلام: صفحہ 245)

اسلامی سلطنت کی حدود میں وسعت، فتوحات کی کثرت اور مسلمانوں کی آبادیوں میں طویل مسافت کے پیشِ نظر حضرت عمرؓ نے شہروں کو بسایا، اور مجاہدین کا لشکر تیار کیا، اور افواج کو ایسی جگہوں کی ضرورت بھی تھی جہاں وہ سفر کی تکان دور کر سکیں، ٹھنڈ کے موسم میں رک سکیں، اور جنگ سے واپس ہو کر وہاں آرام کر سکیں، دراصل شہروں کے بسانے کے یہی حقیقی اسباب تھے۔

چوں کہ اسلامی فتوحات کا بنیادی مقصد اسلامی دعوت کی نشر و اشاعت، افراد، جماعت اور اقوام تک اس کی تبلیغ ہے اس لیے اسلامی زندگی کا ایسا تصور دینا ضروری تھا جسے غیر مسلم افراد، جماعتیں اور قومیں محسوس کریں، چنانچہ اسلامی شہروں کو اسلامی طرز پر بنایا اور آباد کیا گیا جن میں پوری اسلامی زندگی کا عکس بطور نمونہ دیکھا جا سکتا تھا۔ کوفہ، بصرہ، فسطاط اور موصل اسلامی شہر تھے، ہر شہر کے بیچ میں ایک جامع مسجد بنائی گئی، اور اس کے اردگرد مجاہدین اسلام کے مکانات تعمیر ہوئے، اس طرح ان مثالی معاشروں میں اسلامی فکر و قوت مکمل طور سے کار فرما رہی، ایسی اسلامی قوت جسے ہر فوجی میں دیکھا جا سکتا تھا، اور ایسی فکر جو کتابِ الہٰی کی ترجمان تھی، ایسا کامل اسلامی معاشرہ تھا جو اپنے تمام تر معاملات میں اسلامی احکامات کو نافذ کرتا تھا، ہمیشہ اللہ کے راستے میں جان کی قربانی دینے کو تیار رہتا تھا، انہی معاشروں سے اسلام مفتوحہ شہروں پر سورج بن کر طلوع ہوا اور اپنے ماننے والوں کو سیدھا راستہ دکھایا، اپنے فیصلوں میں عدل و انصاف کا عملی نمونہ پیش کیا، اور جس نے اسلام قبول کیا اسے اپنے میں شامل کیا، دعوت الی اللہ اور غیر مسلموں کو اسلامی دعوت دینے کا یہی سب سے کامیاب ترین اسلوب ہے۔

شام میں اسلامی شہروں کو نئے سرے سے نہیں آباد کیا اس لیے کہ وہاں سے بھاگ کر جانے والے رومیوں کے مکانات پہلے سے خالی پڑے تھے، اس پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا اور وہ مکانات انہیں مالِ غنیمت کے طور پر ملے، جس کی وجہ سے انہیں نئے مکانات بنانے کی ضرورت ہی نہیں پڑی، اور دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ وہاں پہلے سے عربوں کی کافی آبادی تھی، ہر قبیلے کے اقرباء موجود تھے، اور اسی وجہ سے شام میں اسلامی افواج بھی زیادہ تھیں۔

(تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ: دیکھئے جمیل المصری: صفحہ 333)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جو اہم شہر بنائے و بسائے گئے ان کی تفصیل یہ ہے:

شہر بصرہ:

بصرہ کا لغوی معنی ہے کنکریلی پتھریلی سخت زمین، اور کچھ لوگوں کے نزدیک صرف کنکریلی زمین کو بصرہ کہا جاتا ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ سفید کچے پتھر کو بصرہ کہا جاتا ہے۔ بہرحال بصرہ ایک شہر ہے جو دجلہ و فرات کے کنارے واقع ہے۔ اسے ’’شط العرب‘‘ کہا جاتا ہے۔ 

(الفاروق عمر بن الخطاب: محمد رشید رضا: صفحہ 177)

اور شہر بصرہ کو بناتے اور آباد کرتے وقت عربوں کی بود و باش اور ان کے مزاج کے متعلق فاروقی نظریہ کی پوری رعایت کی گئی، چنانچہ اس کا محل وقوع پانی اور چراگاہ کے قریب، خشکی کے راستے پر ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں یہاں مسلمانوں کی آمد کی وجہ یہ تھی کہ قطبہ بن قتادہ الذہلی یا دوسری روایت کے مطابق سوید بن قطبہ اپنی قوم کی ایک جماعت کے ساتھ بصرہ کے ایک علاقے سے اہل فارس پر حملہ آور ہوئے تھے تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کو اس علاقے کا حاکم اور کمانڈر بنا دیا، لیکن جب حضرت عمرؓ نے خلافت کی ذمہ داری اٹھائی تو عتبہ بن غزوانؓ جو السابقون الاولون میں سے تھے، کو وہاں کا والی وکمانڈر بنا کر بھیج دیا اور ان سے کہا کہ اہواز، فارس اور میسان والوں تک ان کے کافر بھائیوں کی مدد نہ پہنچنے دینا، اور قطبہ یا سوید سے کہا کہ فوج لے کر عتبہ سے جا ملو۔ چنانچہ عتبہ سو مجاہدین کو لے کر ان سے مورچہ لینے کے لیے آگے بڑھے اور قطبہ اپنے ساتھ بکر بن وائل اور تمیم کے لوگوں کو لے کر عتبہ سے جا ملے، اس طرح یہ اسلامی لشکر ربیع الاوّل یا ربیع الآخر 14ھ میں بصرہ میں اترا۔ 

(تاریخ الدعوۃ الإسلامیۃ: صفحہ 333)

صفحہ 1 از 4