خلافت خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کا قرآن سے ثبوت - ردِ…

خلافت خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم کا قرآن سے ثبوت

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 4 از 4

فهذه البيعةُ التي وَقَعَتْ من عليٍّ، لأبي بكرٍ، رضی ﷲ عنہما، بعد وفاةِ فاطمة رضی اللہ عنہا، بيعةٌ مُؤَكِّدةٌ للصُّلْحِ الذي وقعَ بينهما، وهي ثانيةٌ للبيعة التي ذكرناها أولًا يومَ السَّقيفة، كما رواه ابن خُزَيْمة وصَحَّحَهُ مسلم بن الحَجّاج، ولم يكنْ علىٌّ مجانباً لأبي بكرٍ هذه الستةَ أشهرٍ، بل كان يُصلّي وراءه ويحضُرْ عِنْدَه للمَشورةِ، وركبَ مَعَهُ إلى ذي القَصَّة

ترجمہ: یہ بیعت جو سیدنا علیؓ نے بعد وفات سیدہ فاطمہؓ، سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے کی تھی یہ صلح صفائی کے لئے بیعت موکدہ تھی اور یہ دوسرى بیعت تھی۔ اور پہلی بیعت وہ تھی جو سقیفہ بنو ساعدہ میں کی گئی تھی جس کو ہم ذکر کر چکے ہیں، اور اسی طرح یہ روایت ابنِ خزیمہ نے بیان کی ہے اور مسلم ابنِ حجاج نے اسکی تصحیح کی ہے اور یہ بھی ثابت ہے کہ سیدنا  علیؓ ان چھ ماہ میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے جدا نہ ہوئے بلکہ ان کے پیچھے نماز پڑھتے تھے اور مشورہ کے لئے تشریف لاتے تھے۔ ذوالقصہ کی لڑائی میں سیدنا صدیق اکبرؓ کے ساتھ تھے۔

حضرات ان روایات سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہو رہے ہیں۔

1: کہ سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے دست حق پرست پر برضا ورغبت بیعت فرمائی۔

2: سیدنا علیؓ، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے وزیر اور مشیر تھے۔

3: سیدنا علیؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو اپنا خلیفہ اور امام تسلیم کر کے ان کے پیچھے نمازیں پڑھیں۔

4: سیدنا علیؓ ہر مصیبت اور تکلیف میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ رہے تھے حتیٰ کے قتالِ مرتدین کے وقت بھی ساتھ تشریف لے گئے۔

5: یہ روایت بالکل سند کے لحاظ سے سولہ آنے صحیح ہے۔

اس کتاب البدایہ والنہایہ جلد 7 صفحہ 22 پر یوں لکھتے ہیں:

ركبَ الصّدّيقُ أيضًا في الجيوش الإسلامية شاهرًا سيفه مسلولًا، من المدينة إلى ذي القصة، وهي من المدينة على مرحلةٍ، وعليُّ بن أبي طالب يقودُ براحلةِ الصّدّيق رضی ﷲ عنہ، 

لما برزَ أبو بكر إلى القصّة واستوى على راحلته، أخذ عليُّ بن أبي طالب بزمامها وقال: إلى أين يا خليفةَ رسولِ الله؟ أقول لك ما قال رسول الله ﷺ يوم أُحُدٍ: لمّ سيفَكَ ولا تَفْجَعْنا بنفسك، وارجع إلى المدينة، فواللهِ لئن فُجعنا بك لا يكونُ للإسلام نظامٌ أبدًا، فرجع

ترجمہ: واقعہ ذی القصہ میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ جیوش الاسلامیہ میں شامل ہو کر مدینہ سے اپنی تلوار کو ننگا کئے ہوئے نکلے، اور مقام ذو القصہ جو مدینہ منورہ سے ایک منزل دور ہے، اس کی طرف بڑھے تو سیدنا علیؓ، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی سواری کو پکڑ کر چلا رہے تھے۔

جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ نکلے اور اپنی سواری پر سوار ہوئے، سیدنا علیؓ شیرِ خدا نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی سواری کی باگ پکڑ کر فرمایا: اے خلیفۂ رسولﷺ کہاں جا رہے ہیں۔ میں آپؓ کو وہی الفاظ کہوں گا جو رسولِ خداﷺ نے اُحد کے دن کہے تھے۔ اپنی تلوار کو میان میں کر لیجیے اور اپنی ذات کی وجہ سے  ہمیں تکلیف نہ دیجیے، اور مدینہ منورہ کی طرف لوٹ جائیے۔ پس خدا کی قسم اگر آپؓ کو لڑائی میں تکلیف ہوئی تو اسلام میں پھر کبھی نظام نہ ہوگا۔ تو  پھر سیدنا صدیق اکبرؓ، سیدنا علیؓ کے مشورہ کے مطابق مدینہ لوٹ آئے۔

اس روایت سے چند امور ظاہر ہورہے ہیں:

1: سیدنا علیؓ ذی القصہ کی لڑائی میں شریک تھے۔

2: سیدنا علیؓ، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو خلیفۂ رسولﷺ مانتے تھے۔

3: سیدنا علیؓ، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے دلی ہمدرد تھے اور خاص دوست تھے۔

4: سیدنا علیؓ، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو اسلام کا منظم، ماوٰی اور ملجا خیال کرتے تھے۔

مولاناؒ نے تقریر کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔

بیعتِ صدیقی کے بعد تمام کام سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے مشورہ سے ہوئے حتیٰ کہ جنازہ رسولِ مقبولﷺ بھی مشورہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے ہوا تھا۔ دیکھو میرے ہاتھ میں البدایہ والنہایہ ہے اس کی جلد پنجم صفحہ367  پر لکھتے ہیں:

قَدْ قَدَّمنا أنَّهم  اشْتَغَلوا ببَيْعَةِ الصّدّيق بقيةَ يومِ الاثنين وبعضَ يوم الثلاثاء، فلمَّا تَمَهَّدَت وتَوطَّدَتْ وتَمَّتْ، شرعوا بعد ذلك في تَجْهيزِ رسولِ اللَّهﷺ مُقْتَدين في كل ما أشْكَلَ عليهم بأبي بكر الصّدّيق رضی ﷲ عنہ

ترجمہ: ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیعت میں دو شنبہ کے دن اور سہ شنبہ کے بعض دن میں مشغول رہے، اور جب خلافت مضبوط و استوار ہو گئی۔ تو آنحضرتﷺ کے غسل و کفن میں مشغول ہوئے، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے مقتدی بن کر ہر اس کام میں جس میں کوئی مشکل پیش ہوتی تھی شرکت کرتے تھے۔

اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضور نبی کریمﷺ کا غسل و کفن، دفن، جنازه، قبر وغیرہ امورِ تمام سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے حکم سے سر انجام پائے لہٰذا روافض(شیعہ) کا یہ کہنا کہ "سیدنا ابوبکر صدیقؓ تو جنازہ رسولﷺ میں بھی شامل نہیں ہوئے" غلط و ہذیان ثابت ہوا۔

اس کے بعد حضرت مولانا رحمۃاللہ نے اپنی تقریر ختم فرمائی اور لوگ رحمتِ خداوندی سے مالا مال ہو کر گھروں کو تشریف لے گئے۔


صفحہ 4 از 4