سنی و شیعہ مناظرہ: اصحاب کلھم عدول (شیعہ عالم میثم رضوی کو…

سنی و شیعہ مناظرہ: اصحاب کلھم عدول (شیعہ عالم میثم رضوی کو بدترین شکست)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 4

شیعہ اعتراض: کس اصول سے لسان نبویﷺ سے عبداللہ ابن ابی کو صحابی کی لغوی معنی پر محمول کرتے ہیں؟ اس کی منافقت کو ثابت کریں۔

جواب: عبداللہ ابن ابی رئیس المنافقین تھا، اس کی منافقت جنگ احد میں ظاہر ہوچکی تھی جب تین سو منافقوں کے ساتھ عبداللہ ابن ابی نے اسلامی لشکر کو چھوڑ دیا تھا۔ تمام سنی و شیعہ تفاسیر سے یہ حقیقت ثابت ہے۔

دلیل:

وَ لِیَعۡلَمَ الَّذِیۡنَ نَافَقُوۡا ۚ ۖ وَ قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَوِ ادۡفَعُوۡا ؕ قَالُوۡا لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا تَّبَعۡنٰکُمۡ ؕ ہُمۡ لِلۡکُفۡرِ یَوۡمَئِذٍ اَقۡرَبُ مِنۡہُمۡ لِلۡاِیۡمَانِ ۚ یَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاہِہِمۡ مَّا لَیۡسَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا یَکۡتُمُوۡنَ

ترجمہ: اور منافقوں کو بھی معلوم کر لے جن سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راه میں جہاد کرو، یا کافروں کو ہٹاو، ٴ تو وه کہنے لگے کہ اگر ہم لڑائی جانتے ہوتے تو ضرور ساتھ دیتے، وه اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر سے بہت قریب تھے، اپنے منہ سے وہ باتیں بناتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں، اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جسے وه چھپاتے ہیں۔(سورت آل عمران:167)

اہلِسنّت استدلال:  اہلسنت و اہلِ تشیع تفاسیر کے مطابق یہ آیت جنگ احد میں عبداللہ ابن ابی اور اس کے تین سو ساتھیوں کی منافقت ظاہر ہونے کے بعد نازل ہوئی تھی۔

اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ منافق زبان سے دعویٰ کرتے ہیں لیکن دل میں ایمان نہیں رکھتے، اس لئے مسلمان ہی نہیں ہیں، شرفِ صحابیتؓ تو بہت بڑی فضیلت ہے۔

 شیعہ عالم نے اس دلیل کا کوئی جواب نہیں دیا۔

شیعہ عالم کی دلیل:2  صحیح بخاری کی حدیث جس میں عبداللہ ابن ابی نے توہین رسالت کی تو وہاں موجود دو جماعتوں میں لڑائی شروع ہوگئی اس موقعہ پر آیت کا نزول ہوا کہ اہلِ ایمان کی دو جماعتیں جھگڑ پڑیں تو صلح کرادی جائے۔

شیعہ استدلال: عبداللہ ابن ابی قرآن کے مطابق مؤمن تھا۔

جواب:  یہ واقعہ ہجرت کے فوراً بعد کا ہے، اس وقت عبداللہ ابن ابی نے زبان سے توحید و رسالت کا اقرار نہیں کیا تھا۔ 

اس کے مندرجہ ذیل قرائن ہیں۔

1: اس حدیث میں نبی کریمﷺ  تبلیغ دین کی خاطر عبداللہ بن ابی کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ اگر وہ پہلے سے توحید و رسالت کی گواہی دے چکا ہوتا تو پھر نبی کریمﷺ کو اس کے پاس جانے کی ضرورت کیا تھی؟ اور عبداللہ ابن ابی کو کھلم کھلا توہین رسالت کی جرأت کیسے ہوتی؟

2: حدیث میں واضح الفاظ موجود ہیں کہ دونوں طرف سے لوگوں نے لڑائی کی جبکہ عبداللہ ابن ابی کا بذات خود اس لڑائی میں شامل ہونا اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔

3: عبداللہ ابن ابی کی موت، تدفین و جنازہ کی تفصیل دوسری صحیح روایات میں بیان کی گئی ہے ، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ آخری گھڑی تک منافق ہی رہا تو پھر اسے مؤمن تسلیم کرنا ممکن نہیں ہے۔

مناظرے کے دوسرے دن اس وقت دلچسپ صورتحال سامنے آئی جب شیعہ عالم میثم صاحب کو اپنے دعویٰ کے مطابق اہلِسنّت عقیدہ “اصحاب کلھم عدول” کی روشنی میں عبداللہ ابن ابی کو صحابیِ رسولﷺ ثابت کرنا تھا، لیکن ان کی طرف سے صحیح بخاری کی ایسی حدیث پیش کی گئی جس سے عبداللہ ابن ابی کا منافق ہونا بیان ہوا ہے۔

شیعہ عالم کی دلیل:3 صحیح بخاری کی حدیث ، جب عبداللہ ابن ابی مر گیا تو نبی کریمﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔

شیعہ استدلال: عبداللہ ابن ابی منافق نہیں تھا، اسی لئے نبیﷺ نے جنازہ نماز پڑھائی۔

جواب:  اسی حدیث میں موجود مندرجہ ذیل نکات سے شیعہ استدلال باطل ہے۔

1: سیدنا عمر فاروقؓ نے نبی کریمﷺ کو یہ کہہ کر جنازہ پڑھنے سے روکنا چاہا کہ یہ منافق ہے۔ نبی کریمﷺ نے بجائے سیدنا عمر فاروقؓ کی نفی کرنے کے یہ فرمایا کہ مجھے اختیار دیا گیا ہے۔ جس سے واضح ہوا کہ عبداللہ ابن ابی واقعی منافق تھا بصورت دیگر یہ تصور بھی محال ہے کہ مسلمان کی نماز جنازہ پڑھانے کا اختیار نبی کو دینے کی ضرورت کس وجہ سے پیش آئی۔

2: اس وقت تک منافقوں کے جنازہ پڑھنے کی مکمل ممانعت کا حکم نہیں آیا تھا، اسی لئے نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ مجھے اختیار دیا گیا ہے  یعنی منافقین کا جنازہ  پڑھانے یا نہ پڑھانے کا اختیار دیا گیا ہے۔

3: نبی کریمﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہو کہ ستر سے زیادہ مرتبہ مغفرت مانگنے پر عبداللہ ابن ابی کو معافی مل جائے گی تو میں مغفرت مانگوں گا۔ اس سے بھی ثابت ہوا کہ عبداللہ ابن ابی منافق ہی تھا کیونکہ کسی مسلمان کے لئے نبی کریمﷺ کا ایک بار دعائے مغفرت مانگنا ہی کافی ہے۔

4: اسی حدیث کے مطابق عبداللہ ابن ابی کے جنازے کے  بعد مکمل ممانعت پر آیت نازل ہوئی کہ کسی منافق کی جنازہ نماز ہرگز نہ پڑھائی جائے۔ اس سے ثابت ہوا کہ عبداللہ ابن ابی منافق ہی تھا۔

شیعہ عالم آخر تک بضد رہے کہ لسان نبویﷺ سے عبداللہ ابن ابی کا منافق ہونا ثابت کیا جائے، حالانکہ قرآن کریم سے شیعہ تفاسیر سے اس خبیث کی منافقت ثابت کی جاچکی تھی، اس دلیل کا جواب دینے کے بجائے شیعہ عالم بار بار عبداللہ ابن ابی کی منافقت کو تسلیم بھی کرتے رہے اور فریق مخالف سے اس کی منافقت صحیح احادیث سے ثابت کرنے کا ضد بھی کرتے رہے۔ 

شیعہ عالم میثم رضوی کی ضد پر اہلِسنّت کے طرف سے مزید صحیح بخاری کی دو احادیث بھی دکھائی گئیں، جن کے مطابق سیدنا عمر فاروقؓ نے نبی کریمﷺ کے سامنے عبداللہ ابن ابی کو منافق بھی کہا ہے، جسے سن کر نبی کریمﷺ نے سیدنا عمر فاروقؓ کی درستگی نہیں کی، بصورت دیگر کسی مسلمان کو منافق کہنے پر نبی کریمﷺ ضرور ناراض ہوتے۔


 ان احادیث سے بھی ثابت ہوا کہ عبداللہ ابن ابی واقعی منافق تھا۔

شیعہ اعتراض: سیدنا عمر فاروقؓ اس حدیث کے آخر میں عبداللہ ابن ابی کو منافق کہنے پر پچھتا رہے ہیں۔

جواب:  ہرگز نہیں۔ حدیث میں واضح الفاظ موجود ہیں کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے جنازہ نماز نہ پڑھنے سے نبی کریمﷺ کو روکنے والی حرکت پر احساس ندامت بیان کی ہے۔

اس مختصر تفصیل سے کسی بھی عقل مند کے لئے شیعہ عقیدہ صحابہ اور اہل سنت عقیدہ “اصحاب کلھم عدول” کو سمجھنا اور  ان کے مابین بنیادی اختلاف کو ذہن میں رکھتے ہوئے عبداللہ ابن ابی کے متعلق فیصلہ کرنا نہایت آسان ہے۔ 

صفحہ 3 از 4