سنی و شیعہ مناظرہ: اصحاب کلھم عدول (شیعہ عالم میثم رضوی کو…

سنی و شیعہ مناظرہ: اصحاب کلھم عدول (شیعہ عالم میثم رضوی کو بدترین شکست)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 4
حدثنا محمد، اخبرنا مخلد بن يزيد، اخبرنا ابن جريج، قال: اخبرني عمرو بن دينار، انه سمع جابرا رضي الله عنه، يقول: غزونا مع النبي صلى اللهعليه وسلم وقد ثاب معه ناس من المهاجرين حتى كثروا وكان من المهاجرين رجل لعاب فكسع انصاريا فغضب الانصاري غضبا شديدا حتى تداعوا، وقال: الانصاري يا للانصار، وقال: المهاجري يا للمهاجرين فخرج النبي صلى الله عليه وسلم، فقال:" ما بال دعوى اهل الجاهلية ثم، قال: ما شانهمفاخبر بكسعة المهاجري الانصاري، قال: فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" دعوها فإنها خبيثة، وقال عبد الله بن ابي ابن سلول: اقد تداعوا علينا لئنرجعنا إلى المدينة ليخرجن الاعز منها الاذل، فقال عمر: الا نقتل يا رسول الله، هذا الخبيث لعبد الله، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا يتحدث الناسانه كان يقتل اصحابه".

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی، کہا ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی اور انہوں نے جابرؓ سے سنا کہ ہم نبی کریمﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک تھے، مہاجرین بڑی تعداد میں آپﷺ کے پاس جمع ہو گئے۔ وجہ یہ ہوئی کہ مہاجرین میں ایک صاحب تھے بڑے دل لگی کرنے والے، انہوں نے ایک انصاری کے سرین پر ضرب لگائی، انصاری بہت سخت غصہ ہوا۔ اس نے اپنی برادری والوں کو مدد کے لیے پکارا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ان لوگوں نے یعنی انصاری نے کہا: اے قبائل انصار! مدد کو پہنچو! اور مہاجر نے کہا: اے مہاجرین! مدد کو پہنچو! یہ غل سن کر نبی کریمﷺ (خیمہ سے) باہر تشریف لائے اور فرمایا:

کیا بات ہے؟ یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے؟ آپﷺ کے صورتِ حال دریافت کرنے پر مہاجر صحابی کے انصاری صحابی کو مار دینے کا واقعہ بیان کیا گیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ ایسی جاہلیت کی ناپاک باتیں چھوڑ دو اور عبداللہ بن ابی سلول نے کہا کہ یہ مہاجرین اب ہمارے خلاف اپنی قوم والوں کی دہائی دینے لگے۔ مدینہ پہنچ کر ہم سمجھ لیں گے، عزت دار ذلیل کو یقیناً نکال باہر کر دے گا۔ سیدنا عمرؓ نے اجازت چاہی یا رسول اللہﷺ! ہم اس ناپاک پلید عبداللہ بن ابی کو قتل کیوں نہ کر دیں؟ لیکن آپﷺ نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ کہیں کہ محمد ( ﷺ ) اپنے صحابہؓ کو قتل کر دیا کرتے ہیں۔

جواب : اس حدیث میں مندرجہ ذیل قرائن سے شیعہ استدلال باطل قرار دیا گیا۔

1: حدیث کے مطابق عبداللہ ابن ابی کی طرف سے شان رسالت و شان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی گستاخی پر سیدنا عمر فاروقؓ نے اس خبیث کو قتل کرنے کی نبی کریمﷺ سے اجازت مانگی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عبداللہ ابن ابی کی منافقت بحیثیت رازدار نبی کریمﷺ سیدنا عمر فاروقؓ بخوبی جانتے تھے۔

2: نبی کریمﷺ نے سیدنا عمر فاروقؓ کی نفی یعنی قتل کرنے کی ممانعت عبداللہ ابن ابی کے مؤمن ہونے کی وجہ سے نہیں فرمائی بلکہ دوسرے لوگوں تک غلط تاثر پہنچنے کی وجہ سے منع فرمایا بصورت دیگر بارگاہ نبوت سے یہ فرمایا جاتا کہ ایک مسلمان کا قتل جائز نہیں ہے۔

3: یہ حدیث سیدنا عمر فاروقؓ کے ایمان پر ہونے کی دلیل بھی ہے کیونکہ ایک مؤمن ہی منافق کو قتل کرنے کا سوچتا ہے۔ منافق منافق کو قتل نہیں کرتا۔

4: حدیث کے مطابق نبی کریم ﷺ نے عبداللہ ابن ابی کو قتل کرنے سے اس لئے منع فرمایا کہ باقی لوگوں تک غلط تاثر پہنچے گا کہ محمدﷺ  اپنے صحابہؓ کو قتل کر دیتا ہے، یاد رہے کہ دور نبویﷺ میں منافق ظاہری طور پر مسلمان اور صحبتِ رسول اللہﷺ کی وجہ سے بظاہر صحابی سمجھے جاتے تھے۔ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ اوائل اسلام میں منافقین سے درگزر کرنے کی پالیسی رکھی گئی تھی تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ مسلمان ہوں۔

5: اس حدیث میں نبی کریمﷺ نے سیدنا عمر فاروقؓ کے ہاتھوں عبداللہ ابن ابی کا قتل اپنی طرف منسوب کیا ہے، یعنی فعل فاروقی کو فعل محمدی قرار دیا ہے، یہ بھی سیدنا عمر فاروقؓ کی ایک فضیلت ہے۔

دوران گفتگو یہ نکات کئی بار شیعہ عالم کو سمجھائے گئے اور الفاظ کے لغوی و اصطلاحی معنی و تعریف کا بھی سمجھایا گیا ، بطور مثال امام اور شیعہ کے الفاظ قرآن کریم میں موجود ہونا بتا کر پوچھا گیا کہ اگر الفاظ کے ایک ہی لغوی معنی سمجھے جائیں تو پھر شیعہ کا عقیدہ امامت اور امام کا منصب منصوص من اللہ ہونا اور عصمت امام کا دفاع کیسے ممکن ہوگا کیونکہ بنص قرآن امام جہنم کی طرف بھی بلاتے ہیں اور فرعون کے گروہ کو بھی شیعہ کہا گیا ہے ۔

  شیعہ عالم نے اس علمی نکتے کا کوئی جواب نہیں دیا۔

قرآن کے مطابق منافقین کا گروہ  صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین  کے اندر کوئی دوسرا گروہ ہرگز نہیں ہے کیونکہ صحابی کے لئے مسلمان ہونا شرط ہے اور  مسلمان ہونے کے لئے زبان و دل سے توحید و رسالت کی گواہی دینا ضروری ہے۔ صرف زبانی گواہی سے کوئی بھی شخص دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوسکتا تو شرفِ صحابیتؓ تو بہت بڑا درجہ ہے۔

منافق بظاہر مسلمان ہیں لیکن درحقیقت وہ شروع سے آخر تک کافر ہی ہیں بلکہ کافر سے بدتر ہیں کیونکہ کفر کے ساتھ ساتھ منافقین مکر وفریب اور دھوکا دینے کے بھی مرتکب ہیں۔

  دوران مناظرہ قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیات پیش کی گئیں۔

1: اِذَا جَآءَکَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا نَشۡہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوۡلُ اللّٰہِ ۘ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوۡلُہٗ ؕ وَ اللّٰہُ یَشۡہَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ لَکٰذِبُوۡنَ ۚ

(اے محمدﷺ) جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو (از راہ نفاق) کہتے ہیں کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ بےشک خدا کے پیغمبر ہیں اور خدا جانتا ہے کہ درحقیقت تم اس کے پیغمبر ہو لیکن خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ منافق(دل سے اعتقاد نہ رکھنے کے لحاظ سے) جھوٹے ہیں(۔سورت المنافقون:1)

اہلسنت استدلال: منافق توحید و رسالت کی گواہی صرف زبان سے دیکر جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ دل سے اقرار نہیں کرتے۔

شیعہ اعتراض: اس آیت میں کہاں لکھا ہے کہ منافق صحابیت سے خارج ہے؟

جواب:  آیت میں منافق کو جھوٹا کہہ کر بتایا گیا ہے کہ منافقین زبانی گواہی اگرچہ سچی دیتے ہیں لیکن پھر بھی جھوٹے ہیں کیونکہ دل میں ایمان نہیں رکھتے۔ اہلِ سنّت عقیدہ کے مطابق شرفِ صحابیتؓ کے لئے حالتِ ایمان پر ہونا شرط ہے۔

صفحہ 2 از 4