سنی و شیعہ مناظرہ: اصحاب کلھم عدول (شیعہ عالم میثم رضوی کو…

سنی و شیعہ مناظرہ: اصحاب کلھم عدول (شیعہ عالم میثم رضوی کو بدترین شکست)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 4

مناظرہ بعنوان عقیدہ اصحاب کلھم عدول کی روشنی میں عبداللہ ابن ابی منافق یا صحابی رسول

مناظر از طرف شیعہ خیرالبریہ: سید میثم رضوی

مناظر از طرف مذہب اہلسنت: ممتاز قریشی

دعویٰ شیعہ خیر البریہ

عبداللہ ابن ابی اہلِ سنت کے عقیدے اصحاب کلھم عدول کے باعث صحابیِ رسول ہے، اسے منافق ماننے کے لیے اصحاب کلھم عدول کے عقیدے سے برأت لازم ہے

جواب: دعویٰ اہلِسنّت 

عبداللہ بن ابی اصحاب کلھم عدول کے عقیدے سے صحابیِ رسول نہیں بلکہ اصحاب کلھم عدول کے عقیدے کی روشنی میں قرآن اور حدیث سے وہ منافق ہو کر صحابیت سے خارج ہے

شرائط مناظرہ از شیعہ خیرالبریہ

1- بات موضوع پر رہ کر بغیر قیاس کے مختصر اور ٹو دی پوائنٹ ہوگی، بےکار لفاظی نہیں کی جائے گی۔

2- دلائل اصول مناظرہ کے مطابق صرف قرآن مجید اور صحیح السند احادیث یا صحیح السند روایات سے دیے جائیں گے۔

3- خلاف قرآن مجید اور احادیث کوئی بھی بات قابل قبول نہیں ہو گی۔

4- باہمی ادب واحترام کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا اور مقدسات کی توہین کسی طور برداشت نہیں کی جائے گی۔

5- ایک ٹرن تین وائسز ، 2 حوالہ جات اور تین تحاریر سے زائد نا ہوگی، وائسز 2 منٹ تک محدود ہوں گی۔

6- کسی نکتے کو متفق علیہ ثابت کرنے کے لیے اس نکتے کی ہر شرائط بھی متفق علیہ ثابت کرنا ہو گی۔

7- مذکورہ بالا 6 شرائط میں سے کسی ایک کو بھی توڑنے والے کی شکست تسلیم کی جائے گی۔

شیعہ دلائل

صحیح بخاری کی احادیث:

عبداللہ ابن ابی کے لئے لسان نبوی سے لفظ اصحاب کی موجودگی  

عبداللہ ابن ابی کا توہینِ رسالت کرنا اور پھر دو مؤمن جماعتوں میں جھگڑا ہو جانا۔  

نبی کریم نے عبداللہ ابن ابی کا جنازہ پڑھایا 

اہلِسنّت دو ٹوک مؤقف:

قرآن بمعہ شیعہ تفاسیر (مختلف آیات قرآنی)اور دوسری صحیح احادیث سے عبداللہ ابن ابی رئیس المنافقین تھا،  صحابی کی لغوی معنی کے مطابق عبداللہ ابن ابی بظاہر صحابی تھا، لیکن درحقیقت اس کی منافقت دور نبویﷺ میں ہی عیاں تھی،منافق بنص قرآن دل سے گواہی نہیں دیتا اس لئے ملعون و جہنمی ہے، جب عبداللہ ابن ابی مسلمان ہی نہیں تھا تو عقیدہ اصحاب کلھم عدول کی روشنی میں شرف صحابیت رسول میں شمار نہیں کیا جا سکتا ہے۔

مناظرے کا مختصر احوال

 اہلِ سنّت مؤقف کو مکمل سمجھے بغیر شیعہ عالم نے ایسا دعویٰ کر دیا جس پر ان کے پاس کوئی مضبوط دلیل ہی نہ تھی۔

 عقیدہ اہلِ سنّت اصحاب کلھم عدول:  شرف صحابیت کے لئے حالت ایمان میں دیدار نبیﷺ حاصل ہونا اور ایمان بالخیر پر ہونا لازم ہے۔

دلائل

1: قرآن کریم میں  مسلمانوں اور منافقین کی الگ الگ حیثیت متعین کی گئی ہے۔  بے شمار آیاتِ قرآنی صحابہ  کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایمان کی تعریف اور شانِ صحابہؓ بیان کرتی ہیں دوسری طرف کئی آیات قرآنی میں منافقین کی زبانی گواہی کو مسترد ،ان کی مذمت، ان پر لعنت و ملامت کو واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔


 

ایک عام فہم بھی ان دونوں گروہوں کو ایک نہیں سمجھ سکتا کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اللہ عزوجل ایک ہی گروہ کی شان و فضیلت بیان کرتے ہوئے اسی گروہ کی مذمت بھی بیان کرے۔

عقیدہ اہلِ سنّت “اصحاب کلھم عدول” شیعوں کے عقیدہ صحابہؓ سے مختلف ہے۔

اہلِ تشیع کے ہاں صحابی کی لغوی معنی کی روشنی میں جو بھی نبی کی صحبت میں رہا چاہے منافق یا مرتد کیوں نہ ہو وہ صحابی ہے اور اسے شرف صحابیت حاصل ہے، جبکہ اہلِسنّت کا عقیدہ صحابہؓ قرآن و احادیث میں بیان کئے گئے شرف صحابیت کے اصل مقام و درجے کی بنیاد پر ہے۔

اہلِ سنّت کا عقیدہ عین قرآن و احادیث کے مطابق ہے، کیونکہ صحابی کی اصطلاحی تعریف اگر نہ کی جائے تو آیات قرآنی سے صحابی و منافقین میں تفریق کرنا ممکن ہی نہیں اور پھر شیعہ کی طرح یہ ماننا ہوگا کہ جنتی و جہنمی گروہ ایک ہے جو کہ ناقابل فہم اور غیر منطقی نظریہ ہے۔

اہلِسنّت عقیدہ کے مطابق شرف صحابیت ہر کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ صحابی رسولﷺ کے لئے حالتِ ایمان کے ساتھ ایمان بالخیر پر ہونا لازم ہے، شانِ صحابہؓ کی آیات قرآنی صرف ان اصحاب پر لاگو ہوں گی جو اصطلاحی تعریف کے مطابق صحابیِ رسولﷺ  ہیں۔

دوران مناظرہ یہ ثابت کیا گیا کہ صحابی کی یہ اصطلاحی تعریف سُنی و شیعہ دونوں علماء کے نزدیک متفقہ علیہ ہے۔


  دوران مناظرہ اہلِ سنّت و اہلِ تشیع کتب  سے تین حوالے دیتے ہوئے  صحابی کی اصطلاحی تعریف پیش کی گئی جسے شیعہ عالم نے بغیر کسی دلیل سے اپنی ذاتی رائے سے مسترد کر دیا۔



 

دوران گفتگو شیعہ عالم کے دعویٰ کو دو حصوں میں تقسیم  کر کے شیعہ عالم کو بار بار موقعہ دیا گیا کہ

1: اہلسنت عقیدہ “اصحاب کلھم عدول” پر ایسی دلیل دیں جس سے ثابت ہو کہ اہلِ تشیع کی طرح اہلِسنّت  کے ہابہی مرتد و منافقین اور ہرقسم کی لوگ صحابی سمجھتے جاتے ہیں لیکن شیعہ عالم اپنے دعویٰ کا پہلا حصہ ثابت کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

اس موقعہ پر شیعہ عالم کو آفر کی گئی کہ گفتگو کا رخ موڑا جائے ، اگر وہ چاہیں تو جواب دعویٰ کو زیرِ بحث لایا جائے،تاکہ عوام کو دونوں فریقین کے مؤقف و دلائل کا علم ہوسکے لیکن وہ اپنے دعویٰ پر ہی گفتگو کرنے پر مصر رہے ، دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ مدعی ہو کر بھی شیعہ عالم میثم رضوی صاحب  جواب دعویٰ فریق مخالف سے دلیل دینے کا مطالبہ کرتے رہے۔

2: دعویٰ کے دوسرے حصے عبداللہ بن ابی کے منافق ہونے یا صحابی رسول ہونے پر شیعہ عالم کی پہلی دلیل کو زیرِ بحث لایا گیا۔

  شیعہ عالم کی دلیل1 : صحیح بخاری کی حدیث میں نبی کریمﷺ نے عبداللہ بن ابی کو بھی اپنا "صحابی" فرمایا ہے۔

نبی کریمﷺ کا عبداللہ ابن ابی ابن ابی سلول کو اپنا صحابی کہنا

صحيح البخاري

كِتَاب الْمَنَاقِبِ

کتاب: فضیلتوں کے بیان میں

بَابُ مَا يُنْهَى مِنْ دَعْوَةِ الْجَاهِلِيَّةِ:

 باب: جاہلیت کی سی باتیں کرنا منع ہے۔

حدیث نمبر: 3518

صفحہ 1 از 4