عقائد گوہر شاہی اور اس کے معتقدین کے ساتھ نکاح کا حکم! -…

عقائد گوہر شاہی اور اس کے معتقدین کے ساتھ نکاح کا حکم!

  مولوی شاہ فیصل برکی

صفحہ 1 از 2
(مندرجہ ذیل اقتباس جامعہ علوم اسلامیہ کی ویب سائٹ سے لیا گیا ہے)  یہاں القلم فورم سے نقل کیا گیا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
میری صاحبزادی کا جو رشتہ آیا ہے وہ ہمارے رشتے دار ہیں لیکن ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ دین الٰہی یعنی گوہر شاہی کا جو مذہب ہے اس سے اس کا تعلق ہے آپ سے گزارش ہے کہ آپ قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کا ان سے رشتہ کرنا کیسا ہے؟ جبکہ ہم لوگ اہلِ سنت والجماعت سے منسلک ہیں آپ کے جواب سے ہماری رہنمائی ہو جائے گی۔
المستفتیہ ایک خاتون
الجواب باسمہ تعالیٰ
واضح رہے کہ انجمن سرفروشان اسلام کے بانی ریاض احمد گوہر شاہی دین اسلام کے خلاف دشمنانِ اسلام کی جد وجہد کے سلسلے کی ایک ایسی ہی کڑی ہے جس طرح کہ مسیلمہ کذاب یا اس راہِ ضلالت میں اس کے دیگر ہمسفر تھے۔ اس لئے آج کہنے والا اپنے کہنے میں حق بجانب ہے اور عین حقیقت ہے کہ گوہر شاہی کی جد وجہد بھی غلام احمد قادیانی کی جد وجہد کا تسلسل ہے۔ گوہر شاہی نے تصوف و سلوک کا لبادہ اوڑھ کر سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اس نے اپنی ناپاک زہریلی تعلیمات کے ذریعے اپنے آپ کو نبوت اور الوہیت کے درمیان ثابت کرنے کی کوشش کی دنیا میں ظہور پذیر ہونے والے خود ساختہ جھوٹے نبیوں میں سے ہر ایک نے اپنے مشن کو کرۂ ارض تک ہی محدود رکھا لیکن گوہرشاہی کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ اس نے اپنی تعلیمات کو فروغ دینے کے لئے صرف زمین پر ہی نہیں بلکہ فضاء میں بھی حقائق ساختگی کی جھوٹی اور ناکام کوشش کی اس نے اس سلسلے میں چاند کو بھی معاف نہیں کیا اور بے دریغ سیاہی استعمال کرتے ہوئے در و دیواروں پر بھی کھلے عام یہ لکھوانے سے نہ شرمایا کہ:” چاند میں جس کی صورت آئی گوہر شاہی ‘گوہر شاہی گوہرشاہی بالکل اسلام کے شجرہ طیبہ کی جڑوں کے لئے کسی زہریلے کیڑے سے کم نہیں تھا اس نے مغربی سرمایہ اور سپوٹ کے ذریعے اپنے باطل عقائد کو امتِ مسلمہ کے درمیان پھیلانے شروع کر دیئے اللہ جزائے خیر دے علمائے دین کو جنہوں نے بروقت ہی اس ناسور اور فتنے کا تعاقب کیا۔
ذیل میں گوہرشاہی کے عقائد میں سے چند عقائد پیش کئے جاتے ہیں جن کو معمولی عقل کا مالک بھی پڑھ کر اور پھر گوہرشاہی کو اس ترازو پہ رکھ کر اس کے کفر اور اسلام کے بارے میں فیصلہ کر سکتا ہے چنانچہ ملاحظہ ہو:
1. گوہرشاہی کے نزدیک اللہ تعالیٰ شہ رگ کے پاس ہوتے ہوئے بھی (نعوذ باللہ) انسانوں کے اعمال سے لاعلم ہیں چنانچہ گوہر شاہی اس عقیدے کا اظہار اپنے ملحدانہ کلام میں کچھ یوں کرتاہے:
قریب ہے شہ رگ کے اسے کچھ پتہ نہیں
بے راز ہوئے محمد کاش تو نے پایا وہ راستہ نہیں
(بحوالہ تریاق قلب: صفحہ، 18)
2.  جب گوہرشاہی خدا کو لاعلم کہہ سکتا ہے تو ایسے ملعون کے لئے اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید میں تحریف کرنا بھی کوئی مشکل نہ ہوگا چنانچہ وہ کہتا ہے کہ:
”قرآن مجید میں بار بار آیا ہے کہ ”دع نفسک وتعالترجمہ: ”نفس کو چھوڑ اور چلا آ“ (بحوالہ مینارہ نور طبع اول، 1402ھ) حالانکہ قرآن کریم میں کہیں یہ الفاظ موجود نہیں“
3. جب وہ ایسی جھوٹی آیات اپنی طرف سے گھڑے گا تو اس سے کوئی حوالہ بھی طلب کرے گا‘ چنانچہ اس نے پہلے سے ہی اس کا بندو بست کردیا اور کہہ دیا کہ:
قرآن کے صرف 30 پارے نہیں بلکہ کل 40 پارے ہیں چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ:
”یہ موجودہ قرآن پاک عوام الناس کے لئے ہے جس طرح ایک علم عوام کے لیے ہے جبکہ دوسرا علم خواص کے لئے ہے جو سینہ بسینہ عطاء ہوا اسی طرح قرآن پاک کے دس پارے اور ہیں۔ الخ (بحوالہ حق کی آواز: صفحہ، 52)
4. گوہرشاہی مخلوق کو خدا کے ذکر سے پھیر کر اپنے ذکر میں لگانے کے لئے کہتا ہے کہ:
” یہ قرآن مجید فرماتا ہے کہ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے میرا ذکر کرو وہ پارے (یعنی وہ مزید دس پارے جو موجودہ قرآن کے علاوہ ہیں گوہرشاہی کے ہاں) کہتے ہیں کہ اپنا وقت ضائع نہ کرو اسی کو دیکھ لینا اس کی یاد آئے تو․․․ (بحوالیہ آڈیوکسیٹ خصوصی خطاب نشتر پارک کراچی)“
5. موجودہ قرآن مجید نے شراب کو حرام قرار دیا  لیکن شاید کہ گوہرشاہی کو اپنے خصوصی ان دس پاروں میں جو صرف اس پر (شیطان کی طرف سے) نازل ہوئے ہیں۔ شراب کو حلال قرار دیا گیا ہے چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ کے اس قول کی کہ مجھے حضور اسے دو علم عطاء ہوئے ایک تم کو بتا دیا دوسرا بتادوں تو تم مجھے قتل کر دو اس کی تشریح میں گوہر شاہی لکھتا ہے کہ:
” وہ دوسرا علم یہ ہے کہ شراب پیو جہنم میں نہیں جاؤ گے اور بغیر کلمہ پڑھے اللہ تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے“۔ (بحوالہ یاد گار لمحات: صفحہ، 10،9)
6: گوہرشاہی کو زمین پرتو آرام آیا نہیں اس لئے اس کے نفس نے فضاء میں بھی پرواز کی وہ چاند سورج اور حجر اسود پر اپنی شبیہ کے متعلق لکھتا ہے کہ:
” چاند سورج اور حجر اسود پر شبیہ اللہ کی نشانیاں ہیں یہ من جانب اللہ ہے اور ان کو جھٹلانا گویا کہ اللہ کی بات سے نفی ہے“۔ (بحوالہ حق کی آواز : صفحہ، 26)
7. دنیا کا اصول ہے کہ اپنے محسن کی مدح اور تعریف کی جاتی ہے چونکہ گوہرشاہی بھی اس اصول سے مجبور ہوکر شیطان کی مدح سرائی کرتا ہے تاکہ اس کی طرف سے شیطان کے حق میں کمال ناسپاسی نہ ہو چنانچہ وہ کہتاہے کہ:
” شیطان کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گناہ میں لگاتا ہے لیکن خود کبھی شامل نہیں ہوتا۔الخ۔ (بحوالہ یادگار لمحات: صفحہ، 4)
8. جو شخص ہدایت من جانب اللہ سے محروم ہو اور اس کی ہدایت میں کلام خداوندی یعنی قرآن مجید اور فرامین رسول ا یعنی احادیث مبارکہ کارگر نہ ہو اور وہ ان سے ہدایت نہ لے سکے تو آخر وہ کہاں جائے گا؟ اس سوال کا جواب اگر گوہرشاہی خود دے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ اس کا ہادی نہ خدا ہے اور نہ اس کے رسولﷺ کی تعلیمات چنانچہ وہ خود لکھتا ہے کہ:
” ایک دن پتھریلی جگہ پیشاب کرہا تھا پیشاب کا پانی پتھروں پر جمع ہوگیا اور ویساہی سایہ مجھے پیشاب کے پانی میں ہنستا ہوا نظر آیا جس سایہ سے مجھے ہدایت ملی تھی“۔ (بحوالہ روحانی سفر: صفحہ، 2)
صفحہ 1 از 2